1950کی دہائی میں بلوچستان سے ایک صاحب نظر پاکستانی حاجی محمد اقبال بلوچ نے حکومت پاکستان کے نام ایک کُھلا خط تحریر کیا جس میں مکران کے ساحلی علاقے پر واقع پسنی اور جیوانی کے قریب گوادر کے ساحل کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور حکومت پاکستان کو گوادر کی قدرتی بندرگاہ پر باقاعدہ ایک بڑی بندرگاہ بنانے کی تجویز دی۔حاجی محمد اِقبال صاحب نے حکومت پاکستان کو درخواست کی کہ اِس علاقے کی ترقی کے لیے جلد سے جلد اِقدامات اُٹھائے جائیں۔ یقینا اقبال بلوچ صاحب ایک صاحب بصیرت آدمی تھے اُنھوں نے گوادر کے سنہرے مستقبل کے بارے میں کئی دہائیوں پہلے پشین گوئی کی تھی، لیکن گوادر لمبے عرصے تک صرف مچھیروں کی بستی کے طور پر آباد رہا۔ گوادر کے آبادکاروں کے چہروں پر غربت کے آثار نمایاں تھے۔مرد مچھلیاں پکڑتے اور عورتیں مٹکے سروں پر اُٹھائے دور دارز علاقوں سے پینے کا صاف پانی لاتیں۔ماہی گیری اور مقامی طور پر تیار کی گئی چھوٹی کشتیوں کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ تقریََبا دو سو سال تک گوادر کا علاقہ سلطنت عُمان کے زیر تسلط رہا۔1958میں ایک ملین ڈالر کے عوض خرید کر پاکستان میں شامل کیا گیا۔1970 میں گوادر کو باقاعدہ بلوچستان میں شامل کر دیا گیا۔ 1993 میں گوادر میں بندرگاہ کی تعمیر کی منظوری دی گئی مگر کوئی خاطر خواہ کام نہ ہو سکا۔

بلوچستان میں پاکستان کی تاریخ کے دو اہم واقعات رقم ہو چکے ہیں، یہاں کے سنگلاخ اور ویران پہاڑوں نے 28مئی 1998 میں پاکستان کے دفاع پر اپنی مہُر ثبت کی تھی اور اِس سال13نومبر بلوچستا ن کی ساحلی پٹی پر واقع گودار بندرگاہ سے باقاعدہ خطے کی تجارت کا آغار ہو چکا ہے۔۔آج گوادر میں صورت حال کی تبدیلی کا سہرا چین میں توانائی کی رسد اور تجارتی سرگرمیوں کی مرہنوں منت ہے۔گوادر کی جغرافیائی اہمیت کو اُجاگر کرنے میں چین کا کردار نہایت اہم ہے۔اقتصادی راہداری خطے کی تجارتی سرگرمیوں کو  فروغ دے گی بلکہ وسط ایشیا،مشرق وسطی اور چین کے درمیان نہایت اہم تجارتی راستہ بن رہی ہے اور ان سب سرگرمیوں کا مرکز گودار ہی ہو گا۔اس لیے گوادر کوجغرافیائی حدود کا موتی قرار دیا گیا ہے۔ گوادر ایران سے 120کلومیٹر، بحیرہ عرب کے نزدیک آبنائے ہرمز کے بیرونی راستے اور خلیج فارس کے تاریخی اور سمندری تجارت کے نہایت اہم راستے پر موجود ہے۔۔مشرق وسطی جو 13ملین بیرل تیل روزانہ کی بنیاد پر برآمد کرتا ہے ۔ 2012 کے ایک سروے کے مطابق دنیا کے دریافت شدہ تیل کا48%مشرق وسطی میں موجود ہے اسطرح گیس کے ذخائر کا 38%بھی مشرق وسطی کے ممالک کے پاس موجود ہے ،یہ تیل آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے سے گزرتا ہے۔ چین اپنی ضروریات کا 51%تیل مشرق وسطیٰ کے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔چین کی جغرافیائی حد بندی میں پاکستان کی خاص اہمیت بن چکی ہے۔ چین نے توانائی کے بارے میں جو حکمت عملی وضع کی ہے، پاکستان اس حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کی دو خاص وجوہات ہیں۔ ایک مشرق وسطیٰ سے آنے والا تیل اور چین سے مشرق وسطیٰ اور اس کے آگے واقع مغربی ممالک کو ہونے والی چینی مصنوعات کی برآمدات اور دوسری وجہ چین کے مغربی حصہ کا پس ماندہ ہونا ہے۔ پہلے مشرق وسطیٰ سے چین پہنچنے والے سمندری راستے پر بات کر لیتے ہیں۔ یہ تیل تقریباً 12000کلومیٹر کا سمندری سفر طے کرتا ہوا (strait of Malacca)اور( Yellow Sea) سے گزار کر چین کے مشرقی حصے پر موجود شنگھائی اور بیجنگ کی بندرگاہوں پر پہنچتا ہے۔ اس سارے سفر میں جگہ جگہ بین الا قومی افواج کی موجودگی چین کی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ہندوستانی بحریہ بھی تنازع کی صورت میں چین کی تجارت میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے ۔ دوسرا ، چین کی مشرقی سمت میں واقع بندگاہوں سے مغربی سمت واقع صوبے 4500کلو میٹر کے مز یدزمینی فاصلے پر موجود ہیں۔یہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے آملتے ہیں اور یہ چھ صوبے ہیں اور تین خود مختار علاقے بھی شامل ہیں جو چین کے باقی علاقوں سے پس ماندہ ہیں۔ چین اب ان صوبوں میں ترقی کے اقدامات اٹھا رہا ہے۔گوادرپر چین کی آمد سے چین نہ صرف خلیج فارس بلکہ بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب میں اپنی موجودگی ثابت کر دے گا بلکہ مستقبل قریب میں سمندری نقل وحرکت پر نظر  رکھنے کے  قابلبھی ہو جائے گا ۔ یہ وہ صورت حال ہےجس سے گوادر کے نظر انداز شدہ علاقے کو اچانک سے بے پناہ اہمیت حاصل ہو گئی۔ گوادر چین کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہایت سود مند ثابت ہو گا۔ کیونکہ گوادر پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں سے تیل و گیس اور دیگر تجارتی سامان صرف 2500کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ٹرالوں اور ٹرین کے ذریعے طے کر کے چین میں داخل ہو جائے گا۔ یوں نہ صرف ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ سمٹ جائے گا بلکہ اربوں ڈالر کی سالانہ بچت بھی متوقع ہے اور پاکستان کو صرف راہداری کی مد میں 5ارب ڈالر کا خالص منافع بھی متوقع ہے۔

اقتصادی راہداری کا تعلق صرف چین سے نہیں بلکہ وسطی ایشیا کے اور افغانستان کے سمندری حدود سے محروم ممالک بھی اس راہداری کا حصہ بن گئے ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ ممالک اقتصادی طور پر مضبوط نہیں ہیں اور سمندری حدود سے محروم ہیں۔ وسطی ایشیا کے ممالک افغانستان، روس،، ایران اور چین کے درمیان موجود ہیں ۔ پاکستان اور افغانستان جنوب میں واقع ہیں۔ سویت یونین کے دور میں بھی وسطی ایشیا مغربی روس کے علاقوں کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھا۔ قازکستان اور ترکمانستان توانائی کے بڑ ے اثاثہ جات کے مالک ہیں۔ 3.6بلین بیرل تیل،663ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر کے مالک ہیں۔قازکستان 679300ٹن یورنییم اور 33.6بلین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں کرغستان اور تاجکستان محدود اثاثہ جات کے مالک ہیں۔ وسطی ایشیاکا بہترین دستیاب راستہ افغانستان سے پاکستان کی ساحلی حدود کا ہے۔ اس کے لیے افغانستان امن کا ہونا ضروری ہے۔ یہ تین مجوزہ راستے ہیں۔ پہلا راستہ اُزبکستان، ترکمانستان اور قازکستان پر مشتمل ہے جو الماتے، تاشقند اور اشک آباد سے گزر کر ایران کی بند ر گاہ چاہ بہار اور بندر عباس پر پہنچاتا ہے۔ دوسرا راستہ افغانستان کے مغربی صوبوں سے گزر کر بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع گوادر پر پہنچتا ہے۔ تیسرا راستہ اقتصادی راہداری ہے۔ گوادر اور کراچی سے شروع ہو کر پاکستان کے شمال سے سست بارڈر سے گزر کر کاشغر کو پار کرکے وسطی ایشیا کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی حدود تو براعظم ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔ مگر جس طرح ترکی براعظم ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کے لیے یورپ اور ایشیائی ممالک کو راہداری فراہم کرتا ہے۔ اس طرح پاکستان، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین، افغانستان کو راہداری کی سہو لت دے رہا ہے۔ مگر یہ ساری صورتحال پاکستان کے لئے تر نوالہ نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ چین او رپاکستان کا اسٹریٹجک ، اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تعاون میں بڑھتی ہوئی قربتیں جو ہندوستان کو کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی راہداری کے متبادل کے طور پر ایران ہندوستان کے تعاون سے اپنی چاہ بہار بندرگاہ کو تعمیر کر رہا ہے۔ چاہ بہار بندگاہ گوادر سے تقریباََ سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ چاہ بہار کی بندرگاہ سے ایران کے شمالی شہر زاہدان تک 600کلومیٹر طویل سڑک تعمیر ہو چکی ہے ۔ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن بھی تعمیر ہو چکی ہے جو ایران اور ہندوستان کو وسطی ایشیا تک رسائی دے گی ۔ اِسطرح ہندوستان نہ صرف وسطی ایشیا کے ممالک سے توانائی کے ذخائر درآمد کر سکے گا بلکہ اس کے بدلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، کاریں اور دیگر تجارتی سامان کی ایک نئی منڈی بھی مل جا ئے گی ۔ ایران خلیج فارس میں اور ہندوستان بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں اپنی طاقت کو بڑھا رہے ہیں۔ دوسری طرف چین اور پاکستان کا فطری اتحاد بھی اسی کوشش میں مصروف ہے۔ چین ایک طرف تو بنگلہ دیش کی چٹا کانگ بندرگاہ سے حقوق حاصل کر چکا ہے تو دوسری طرف سری لنکا کی بندرگاہ ہمبنوتا بھی حاصل کر لی ہے۔ اور پھر گوادر پر چین کی موجودگی نہ صرف انڈیا کے لیے بڑا خطرہ بلکہ خطے میں امریکی بالادستی کو نئے خطرات لاحق ہونگے۔ انڈیا نے اپنی پریشانی کے تدارک کے لیے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی کے دورہ ایران کے موقع پر افغانستان اور ایران کے سہہ ملکی تجارتی معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ا یران پر بین الاقوامی پابندی ہٹنے کے بعد اس پر مزید تیزی سے کام ہو گا۔ انڈیا، ایران اور افغانستان سے تعلقات بڑھا کر ایک تو سنٹرل ایشیا تک رابطہ چاہتا ہے اور دوسرا بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں چین اور پاکستان کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرے گا۔ اس سلسلے میں انڈیا کو بھرپور امریکی امداد بھی حاصل ہو گی ۔ اس وقت پورے خطے میں تمام ممالک اپنے تجارتی اور دفاعی معاملات کے مفادات پر بھرپور کام کر رہے ہیں اور ایران بین الاقوامی معاہدہ کے بعد اپنی تیل کی تجارت میں اضافہ چاہتا ہے۔ اور دوسری طرف ایران گوادر بندرگاہ کے متبادل کے طور پر اپنی چاہ بہار بندرگاہ کو علاقائی تعاون کے سلسلے میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا، پاکستان کی اقتصادی راہداری کو ہضم نہیں کر رہا اس بات کا اظہار انڈیا نے چین سے بھی سرکاری سطح پر کیا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی حکمت عملی میں گوادر اہم کردار ادا کرنے لگا ہے ۔ جس سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے خطے اور خاص کر بلوچستان کے حالات کو سدھارنے میں بہت مدد ملے گی۔ گوادر کی ترقی پس ماندہ بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم صوبے میں تبدیل کر دے گی۔ بلوچستان کے عوام کا طویل احساس محرومی خوش بختی میں تبدیل ہوتا نظر آئے گا۔ بلوچستان میں سڑکوں کے طویل جال لوگوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کر دیں گئے ۔ تعلیم اور صحت کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ نئے کارخانے لگیں گے۔ مقامی افراد کے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ خاص کر بلوچستان کی ساحلی پٹی سے مچھلی کی صنعت کو فروغ حاصل ہو گا۔ تجارتی سرگرمیوں کے استعمال ہونے والے ذرائع آمدورفت میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے۔ بحری جہازوں کی صنعت قائم ہو گی۔ چین گوادر میں تیل صاف کرنے اور ذخیرہ کرنے کے کارخانے تعمیرکرنے پرغور کر رہا ہے ۔امن و امان کی صورت حال میں بہتری پیدا ہوتے اس پہ کام شروع ہو جائےگا ۔ پام آئل کی کاشت کاری کے لیے گوادر مو زں علاقہ ہے۔ مختلف ممالک اپنے تجارتی سامان کے لیے گودام قائم کریں گے۔ سیر و سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔مقامی افراد کے لیے ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ گوادر اور بلوچستان کے علاوہ اقتصادی راہداری کے راستوں پر بھی اِسطرح معاشی ترقی کے اہداف حاصل ہونگے۔گوادر پورے علاقے کی تقدیر کو بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

عبدالروف

عبدالرئوف بلاگر اور کالم نگار ہیں