بغداد: عراق کے دارالحکومت کے جنوب اور فلوجہ کے مغرب میں ہونے والے خودکش دھماکوں میں 15 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ خودکش دھماکوں کی ذمہ داری عراق و شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی۔

دھماکے اس وقت کیے گئے جب عراقی فورسز شمالی شہر موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے دہشت گرد تنظیم سے لڑائی میں مصروف ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 17 اکتوبر سے موصل میں جاری عراقی فورسز کے آپریشن کو کمزور کرنے کے لیے داعش عراق کے مختلف حصوں میں مسلسل حملے کر رہی ہے۔

کربلا کی صوبائی کونسل کے رکن معصوم التمیمی کا کہنا تھا کہ ہلکے ہتھیاروں اور بارودی مواد سے لیس 6 خودکش حملہ آوروں نے بغداد کے ضلع عین التمر میں دراندازی کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کا عین التمر کے علاقے الجہاد پہنچنے سے قبل ہی سیکیورٹی سے تصادم ہوا جس دوران انہوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ خودکش حملے سے 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔ عراقی وزارت داخلہ نے کہا کہ فورسز نے تصادم کے دوران 5 خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کردیا، جبکہ چھٹے نے خود کو ایک گھر میں دھماکے سے اڑا لیا۔ تاہم داعش نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حملہ آور 5 تھے، جن میں سے 2 کا تعلق موصل سے جبکہ 3 شام سے آئے تھے.

مصنف کے بارے میں