دماغ میں برقی پیوند لگانے سے معذور بندر دوبارہ چلنے کے قابل ہوگئے

اس آلے کو نیورل انٹرفیس کہا جاسکتا ہے

سٹاک ہوم :  ایک اہم تجربے میں ماہرین نے دو بندروں کے دماغ میں ایک برقی آلے کا پیوند لگایا جس کے بعد وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ اس آلے کو نیورل انٹرفیس کہا جاسکتا ہے جو دماغ کے شکستہ حصے اور ٹانگوں کے سگنل کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے اوروہ بھی وائرلیس کے ذریعے، جب کہ وقت ضائع کیے بغیر دماغ کے سگنل پوری ٹانگ تک بھیجتا ہے۔

یہ سسٹم دماغی سرگرمی ( ٹانگ چلانے کے حکم) کو نوٹ کرکے اس کی معلومات لمبر سپائنل کورڈ تک بھیجتا ہے جو جانور کی چوٹ کے نیچے موجود تھا۔ سائنسدانوں نے برقی پیوند چلنے پھرنے کے لیے معذور بندروں کے دماغ کے اس حصے میں لگایا جو ہمارے چلنے پھرنے کو کنٹرول کرتا ہے اور اس جگہ کو ’’موٹر کارٹیکس‘‘ کہا جاتا ہے اس کے لیے بندروں کو کسی قسم کی کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ آلہ لگانے کے صرف 6 دن بعد ہی بندر باآسانی چلنے لگے اور ماہرین پرامید ہیں کہ انسان اور بندروں کی جسمانی مماثلت کی بنا پر یہ عمل انسانوں کے لیے بھی یکساں مفید رہے گا۔

مصنف کے بارے میں