کراچی کے تھانے ریڑھی والوں کے پیسوں پر چلتے ہیں ٗسپریم کورٹ

کراچی کے تھانے ریڑھی والوں کے پیسوں پر چلتے ہیں ٗسپریم کورٹ

 کراچی کے تھانے کس کے پیسوں پر چلتے ہیں؟ عدالت نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا 


کراچی میں پارکوں سے تجاوزات ہٹانے کے کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تھانے ریڑھی والوں کے چندوں اور پیسوں پر چلتے ہیں جبکہ ایس ایچ او تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں پارکوں سے تجاوزات ہٹانے کا معاملے پر درخواست کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ صدر اور اطراف کا علاقہ تجاوزات سے بھرا پڑا ہے ، آپ ایک ریڑھی ہٹا کر دکھا دیں،تھانے ریڑھی والوں کے چندوں اور پیسوں پر چلتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پورے شہر کا حال دیکھیں، کے ایم سی کی ملی بھگت سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم ہیں، ایس ایچ او تک تجاوزات کے پیسے پر پل رہے ہوتے ہیں جبکہ کے ایم سی نے تو پارک بھی کرائے پر دے دیئے اور فٹ پاتھوں پر جنریٹر لگوا دیئے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کے ایم سی افسر سے سوال کیا کہ یہ پیسہ سرکار کے پاس جاتا ہے یا اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت ملتوی کردی۔