ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟ سینیٹ میں بحث

ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟ سینیٹ میں بحث

امریکی صدر پر شک و شبہات، صدر کو بے اختیار بنانے کا فیصلہ


واشنگٹن : امریکی کانگریس40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے،امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کو 'جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار' کا نام دیا گیا۔اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو جنگِ عظیم سوم کی جانب لے جانے کا الزام لگایا تھا۔

اگست میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا 'غیظ و غضب' ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔

کنیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے منگل کو ہونے والی سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہو۔سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا۔

اس سماعت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، صرف موضوع کی حساسیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پینل میں موجود صدر ٹرمپ کے چند ناقدین بھی اس کی وجہ ہیں جن میں سے چند کا تعلق صدر کی ریپبلیکن پارٹی سے ہی ہے۔کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر کی گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث ہو گئی تھی۔

ایک کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے، صدر کے پاس جوہری حملے کے حکم دینے کا مکمل اختیار ہے، جو کہ آبدوز، ہوائی جہاز یا بین الابراعظمی بیلیسٹک میزائیلوں کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔موجودہ قوانین کے تحت امریکی صدر 'دا فٹبال' نامی آلے میں کوڈز ڈال کر بھی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ آلہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

البتہ روایتی فوجی قوت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔لیکن جوہری طاقت کا استعمال جوہری عہد کے آغاز سے ہی صدر کا اختیار رہا۔