نواز شریف کی اپیلوں سے متعلق انکشافات، سابق چیف جج سمیت دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

نواز شریف کی اپیلوں سے متعلق انکشافات، سابق چیف جج سمیت دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق سابق جج کے انکشافات پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی نیب ریفرنسز فیصلوں پر نظر ثانی اپیلوں سے متعلق انکشافات کا نوٹس لے لیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اس معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا نام آنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی انصار عباسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اس کیساتھ ہی سابق چیف جج رانا شمیم کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو کمرہ عدالت طلب کیا اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن ثاقب شیر سے استفسار کیا کہ اس عدالت نے ہمیشہ اظہار رائے کی قدر کی ہے اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے ، مجھے اس عدالت کے ہر جج پر فخر ہے، اگر اس عدالت کے غیر جانبدارانہ فیصلوں پر اسی طرح انگلی اٹھائی گئی یہ اچھا نہیں ہے، 

ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت آپ سب سے توقع رکھتی ہے کہ لوگوں کا اعتماد اداروں پر بحال ہو،زیر سماعت مقدمات پر اس قسم کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہیے اور اس عدالت کی آزادی کو اگر کوئی مشکوک بنائے گا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے تمام فریقین کو منگل کی صبح 10 بجے طلب کر لیا ہے جبکہ ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ 

دوسری جانب سابق چیف جج گلگت بلتستان سپریم کورٹ رانا شمیم نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی انصار عباسی سے کی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں لیکن حلف نامہ کب اور کس کو دیا، یہ ابھی نہیں بتا سکتا جبکہ اس واقعے کے وقت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے میں نے ان کے آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا۔

رانا شمیم نے کہا کہ مجھے توسیع مانگنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی جبکہ ثاقب نثار مجھے ایکسٹینشن دینے والے کون ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا اختیار ہی نہیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے ماتحت نہیں اس لئے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے۔ 

واضح رہے کہ ایک معروف صحافی کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے حلف نامہ جمع کرایا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ءکے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جج گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔ دستاویز کے مطابق، جسٹس ایم شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ءکو دیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنے چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا“۔