برطانوی شاہی جوڑا پاکستان پہنچ گیا، آج صدر اور وزیراعظم سے ملاقات ہو گی

برطانوی شاہی جوڑا پاکستان پہنچ گیا، آج صدر اور وزیراعظم سے ملاقات ہو گی
شاہی جوڑے کے ہمراہ ان کے محافظین، طبی ماہرین اور چالیس سے زائد صحافی بھی پاکستان آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

اسلام آباد: برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن پاکستان کے 5 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ 2006 کے بعد برطانوی شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔


برطانوی شاہی جوڑا نور خان ایئر بیس پر پہنچا جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزرا، دفتر خارجہ اور برطانوی ہائی کمیشن کے حکام نے ان کا شایانِ شان اور پرتپاک ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔

شاہی جوڑے کے ہمراہ ان کے محافظین، طبی ماہرین اور چالیس سے زائد صحافی بھی پاکستان آئے ہیں۔ پانچ روزہ دورے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اپنے دورے کے دوران برطانوی شاہی جوڑا صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا جبکہ مختلف پروگراموں میں بھی حصہ لے گا۔

پرنس ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن پاکستان میں اپنے قیام کے دوران لاہور اور شمالی علاقہ جات کے پرفضا مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پرنس ولیم کی والدہ شہزادی ڈیانا نے بھی 1996ء میں پاکستان کا ایک دورہ کیا تھا جبکہ 2006ء میں پرنس ولیم کے والد پرنس چارلس اور ان کی اہلیہ کامیلا نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ برطانوی ملکہ الزبتھ بھی 1961ء اور 1997ء میں پاکستان کے سرکاری دورے کر چکی ہیں۔

برطانوی مہمان اسلام آباد ایف سیون میں واقع گرلز سکول، کالج کا دورہ کریں گے اور پاکستان مانومنٹ میں خصوصی تقریب میں بھی مہمان ہوں گے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق 16 اکتوبر کو برطانوی مہمان لاہور پہنچیں گے جہاں وہ ایس او ایس ولیج، ایچی سن کالج اور شوکت خانم ہسپتال کا دورہ کرینگے۔

شاہی جوڑے کا بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان کا دورہ بھی شیڈول ہے۔ موسم بہتر ہونے کی صورت میں 17 اکتوبر کو شاہی جوڑا چترال کے لئے روانہ ہو گا۔

شاہی مہمان خیبر پختونخوا میں خیبر قلعہ جبکہ 18 اکتوبر کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کا دورہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق 18 اکتوبر کو دن ڈیڑھ بجے شاہی جوڑا واپس برطانیہ روانہ ہو گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شاہی جوڑے کی ملک میں آمد سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت اور پرامن چہرہ ابھر کر سامنے آئے گا اور برطانیہ اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔