مقبوضہ کشمیر سے افسوسناک خبر

مقبوضہ کشمیر سے افسوسناک خبر

سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی کو گرفتار کرلیا۔


بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف سری نگر میں متعدد خواتین احتجاجی مظاہرہ کررہی تھیں کہ اس دوران بھارتی فورسز نے کئی خواتین کو گرفتار کرلیا جن میں سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی بھی شامل ہیں اس کے علاوہ فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے سابق جسٹس بشیر احمد خان کی اہلیہ کو بھی گرفتار کرلیا جبکہ دیگر گرفتار کی جانے والی خواتین میں معروف علمی شخصیات بھی شامل ہیں۔

گرفتار کی جانے والی سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا عبداللہ نے کہا کہ 5 اگست سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہم گھروں میں قید ہیں، یہ ایک ایسا زبردستی کا رشتہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سری نگر میں احتجاج کرنے والی ان خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جہاں انہوں نے لال چوک پر جیسے ہی احتجاج شروع کیا تو پولیس کی بھاری نفری نے کئی خواتین کو حراست میں لے لیا اور انہیں قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی قابض بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں 72 روز سے بند موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال کی ہے تاہم وادی میں اب تک انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے۔