نظر ثانی درخواستیں مسترد، نواز شریف کی نا اہلی برقرار

نظر ثانی درخواستیں مسترد، نواز شریف کی نا اہلی برقرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی جانب سے دائر پاناما نظر ثانی کی اپیلیں مسترد کر دیں۔فیصلے کے تحت 28 جولائی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے اور نواز شریف بدستور نااہل رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نظر ثانی اپیلوں پر تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔


پاناما کی نظرثانی درخواستوں پر پانچ رکنی لارجر بنچ  نے چوتھے روزسماعت کی ۔ بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے جب کہ دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت شیخ سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد شامل تھے۔عدالت نے نظرثانی اپیلوں پر پہلی سماعت 12 ستمبر کو کی اور 4 سماعتوں کے بعد عدالت نے تمام اپیلیں خارج کر دیں۔

سماعت کے تیسرے روز حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ کیس کی بیشتر گراؤنڈز خواجہ حارث کے دلائل سے مطابقت رکھتے ہیں اور میں فیلڈ پراپرٹریز کے حوالے سے کیپٹن صفدر کیخلاف ریفرنس پر دلائل دونگا۔

کیپٹن صفدر کا لندن فلیٹس سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن عدالت نے کیپٹن صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق کیپٹن صفدر کا بھی کچھ تعلق بنتا ہے۔ کیپٹن صفدر کی اہلیہ نے پہلے جائیداد سے انکار کیا پھر ٹرسٹ ڈیڈ تسلیم کی جب کہ کیپٹن صفدر نے بھی پہلے انکار کیا پھر ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط مان لئے۔ سلمان اکرم راجا کے بقول جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی کیپٹن صفدر کے خلاف کچھ نہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کر لیے تھے جب کہ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار عدلیہ مخلاف مہم کی قیادت کر رہے ہیں اور جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں