الیکشن کمیشن کو کس نے اختیار دیا کہ توہین عدالت پر طلب کرے، عمران خان

الیکشن کمیشن کو کس نے اختیار دیا کہ توہین عدالت پر طلب کرے، عمران خان

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا این اے 120 ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران ریلی میں شرکت کرنے پر لاہور کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ن لیگ نے پولیس اور غنڈوں کے ذریعے این اے 120 میں خوف طاری کیا ہوا ہے لیکن اب این اے 120 میں مسلم لیگ ن کا قائم کردہ خوف اٹھ گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا آج عدالت نے نواز شریف کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی ہے۔ مجھے کیوں نکالا کی ساری کوشش تھی کہ عدالت پر پریشر ڈالا جائے اور مانیٹرنگ جج کو ہٹایا جائے۔ ان کی سوچ تھی کہ مانیٹرنگ جج ہٹ گیا تو سارے ادارے تو انکے اپنے ہیں۔


عمران خان نے کہا اصغر خان کیس 22 سے 23 سال پہلے دائر کیا گیا تھا لیکن 20 سال تک سُنا نہیں گیا۔ نیب نے ان کے خلاف 15 سے 20 کیسز پر کچھ نہیں کیا کیونکہ نوے کا الیکشن لڑنے کے لیے ن لیگ نے ایجنسی سے پیسے لیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا نواز شریف نے کبھی پاکستان کے اداروں کو چلنے نہیں دیا انھوں نے صرف لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے اداروں کو استعمال کیا۔ اب انصاف کی جیت ہو گی اور قوم کی طرف سے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ کسی ادارے کی جرات نہیں تھی کہ ان کو نیچے لے آئے۔ اب شریفوں کا وقت ختم ہو گیا ہے ان کی اصل جگہ اڈیالا جیل ہے۔

کپتان نے کہا پاناما کیس لڑنے کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے اور بلیک میل کیا جا رہا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے مجھے توہین عدالت کے معاملے پر بلا رکھا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن عدالت ہے یا پہلے کسی کو توہین عدالت میں بلایا ہے؟۔ الیکشن کمیشن عدالت نہیں نواز شریف اور آصف زرداری کا کمیشن ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں