بچوں کے دودھ کے دانت سنبھالنا کیوں ضروری؟

بچوں کے دودھ کے دانت سنبھالنا کیوں ضروری؟
image by facebook

لاہور:بچے جیسے ہی بڑا ہونا شروع کرتے ہیں دانت گرنا معمول کی بات ہے لیکن یہ دانت  کتنا فائدہ مند ہو سکتا ہے ، یہ بات قابل غور ہے ، یورپ اور ایشیائی ممالک میں لوگ ان دانتوں کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں ، پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں بچوں کے دانتوں پر خاص توجہ نہیں دی جاتی اور ان کو پھینک دیا جاتا ہے۔


یورپ میں لوگ ان دانتوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سائنسدانوں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اگر مستقبل میں بچے کا دانت گر جائے تو  اس کو دوبارہ اگانے اور سٹیم سیلز بنانے میں یہ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

یورپ میں ایک روایت یہ بھی پائی جاتی ہے جب بچے کے دانت گرنے شرو ع ہوتے ہیں تو اکثر والدین ان کے  تکیوں کے نیچے پیسے رکھنا شروع کر دیتے ہیں ، کچھ تو اسے جذباتی نشانی کے طور پر سنبھال لیتے ہیں مگر متعدد بس پھینک دیتے ہیں کیونکہ آخر وہ کس کام کا ہوسکتا ہے؟

امریکا کی پینسلوانیا یونیورسٹی اور چین کی فورتھ ملٹری میڈیسین یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دودھ کے دانتوں سے سٹیم سیلز ایکسٹریکٹ کو استعمال کرکے دانتوں کے ٹشوز کو دوبارہ اگانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔

       

تحقیق میں دیکھا گیا کہ ایسے بچوں کا علاج کیسے کیا جائے جنھیں بچپن میں کسی انجری کا سامنا ہوا ہو جس کے نتیجے میں ان کے دانتوں کو نقصان پہنچا ہو اور ٹشوز ختم ہوگئے ہوں۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ دودھ کے دانتوں میں موجود سٹیم سیلز کو استعمال کرکے بچوں کی ایسی انجریز کو آسانی سے کور کیا جاسکتا ہے ، اس تحقیق کے دوران 40 ایسے بچوں کو لیا گیا جن مستقل دانت نکل آئے ہوں مگر ایک یا دو دودھ کے دانت موجود ہوں، جنھیں نکال کر اس تجرباتی علاج کے لیے استعمال کیا گیا۔

جن بچوں کا اس نئے طریقہ کار سے علاج کیا گیا، اس سے دانتوں کی جڑوں کی نشوونما میں بہتری نظر آئی اور ایک سال بعد ٹشوز دوبارہ اگ گئے، محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے مریض کے دانتوں میں محسوس کرنے کی حس واپس آگئی، یعنی انہیں گرم یا ٹھنڈا محسوس ہونے لگا، اگر ٹشوز مردہ ہوجائیں تو پھر ایسا نہیں ہوتا۔

ٹیم کا کہنا تھا کہ انجری کے 3 سال بعد بھی یہ طریقہ کار محفوظ اور موثر ثابت ہوا ہے اور ایک کیس میں جب بچے نے اپنے دانت کو دوبارہ نقصان پہنچالیا، اسٹیم سیلز سے ٹشوز کا علاج دوبارہ کامیاب ثابت ہوا ، ابھی اس کے تجربات بالغ افراد پر نہیں کیے گئے بلکہ اس کے لیے تحقیقی ٹیم امریکا میں اجازت کی منتظر ہے ، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔