موٹروے زیادتی کیس، ملزم شفقت 6 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

موٹروے زیادتی کیس، ملزم شفقت 6 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

لاہور: موٹروے زیادتی کیس کے شریک ملزم شفقت کو 6 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔


موٹروے زیادتی کیس کے شریک ملزم شفقت کو لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل ہے اس لیے ملزم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے۔ملزم کے خلاف زیادتی کے مقدمے میں دہشت گردی کی بھی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ خاتون کے عزیز سردار شہزاد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ملزم شفقت کو گزشتہ روز دیپالپور کے نواحی گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا اور سی آئی اے کی ٹیم گرفتار کرنے کے بعد اسے لاہور لے کر پہنچی تھی۔ ملزم شفقت نے پولیس حراست میں اعتراف جرم کیا جبکہ ملزم کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کی رپورٹ سے میچ کر گیا تھا۔

ملزم شفقت کا کہنا تھا کہ عابد اسے اکثر وارداتوں کے لیے بلا لیتا تھا اور اس رات بھی واردات کے وقت عابد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس دوران تیسراساتھی بالا مستری بھی ساتھ تھا تاہم واردات سے پہلے وہ واپس چلا گیا تھا۔ملزم کا کہنا تھا کہ بالا مستری کے چلے جانے کے بعد وہ اور عابد علی رکشہ کرائے پر لے کر کرول گاؤں کی موٹروے سے لنک سڑک پر پہنچے تھے۔شفقت علی کے مطابق جب انہوں نے موٹروے پر گاڑی دیکھی تو واردات کی نیت سے وہاں پہنچے تاہم گاڑی کے اندر موجود خاتون نے باہر آنے سے انکار کیا تو عابد نے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔

ملزم کے مطابق گاڑی کا شیشہ توڑنے کے بعد بھی خاتون گاڑی سے باہر نہیں آ رہی تھیں جس پر انہوں نے بچوں کو اتار لیا اور موٹروے سے نیچے کھائی کی طرف لے گئے تھے جس کے بعد مجبوراً خاتون بھی پیچھے آ گئی تھیں۔ملزم شفقت علی کے مطابق انہوں نے بچوں کو مارنے کی دھمکی دے کر خاتون کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد نقدی اور زیورات لے کر فرار ہو گئے۔دوسری جانب ملزم شفقت کے بیان کے بعد ان کے تیسرے ساتھی اقبال عرف بالا مستری کو بھائی سمیت چیچہ وطنی سے گرفتار کر لیا گیا۔