القاعدہ ایک سے دو سال میں امریکہ کے اندر حملے کر سکتی ہے: ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی 

القاعدہ ایک سے دو سال میں امریکہ کے اندر حملے کر سکتی ہے: ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی 
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

واشنگٹن: امریکی ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں خود کو دوبارہ تشکیل دے سکتی ہے اور ایک سے دو سالوں میں امریکہ کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔

ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیرئیر نے ایک انٹیلی جنس کانفرنس میں کہا کہ ہماری موجودہ تشخیص شاید قدامت پسندانہ ہے، جس کے مطابق القاعدہ کو منظم ہو کر امریکہ کیلئے ’خطرہ‘ بننے کی صلاحیت پیدا کرنے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کیلئے ایک سے دو سال درکار ہیں۔ 

جنرل سکاٹ بیرئیر کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے ذرائع اور طریقوں کے ساتھ افغانستان میں واپس رسائی حاصل کرنے کے طریقوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم اس کوشش کو ترجیح دے رہے ہیں اور ہم اسے ترجیح دیتے رہیں گے۔ لیکن ہمیں ان انتہائی کم وسائل کو متوازن رکھنے کیلئے بھی بہت احتیاط سے کام لینا پڑے گا۔ 

دوسری جانب سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیرئیر کی جانب سے دئیے گئے ایک سے دو سال کے وقت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں ایک وقت میں اسامہ بن لادن کی قیادت میں کام کرنے والے دہشت گرد گروپ القاعدہ کی سرگرمیاں دیکھ رہی ہیں۔