برطانوی ملکہ کی وفات کی خبر شہد کی مکھیوں کیوں دی گئی؟توہم پرستی کی وجہ سامنے آگئی 

برطانوی ملکہ کی وفات کی خبر شہد کی مکھیوں کیوں دی گئی؟توہم پرستی کی وجہ سامنے آگئی 
سورس: Twitter

 لندن : برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد بادشاہ چارلس سوم کی تخت نشینی نے کئی نسلوں کے بعد شاہی خاندان میں رسم و روایات کی اہمیت دنیا بھر پر آشکار کردی ہے۔  ان میں سے کچھ رسومات و روایات حیران کردینے والی بھی ہیں  جیسا کہ شہد کی مکھیوں کو ملکہ کی وفات کی خبر دینا  ۔

 برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ برطانیہ کی وفات کے بارے میں چند افراد پر مشتمل ایک گروہ کو ذاتی حیثیت میں ملکہ کی وفات کی افسردہ خبر شاہی محل میں موجود شہد کی مکھیوں کو بتانے جانا پڑا۔

شاہی محل کی شہد کی مکھیوں کی دیکھ بھال کرنے والے جان چیپل نے بکنگھم پیلس اور کلارنس ہاؤس  کی حدود میں موجود شاہی خاندان کی شہد کی مکھیوں کو یہ افسردہ خبر سنا کر صدیوں پرانی اس روایت کو برقرار رکھا۔

ڈیلی میل  کو دیے انٹرویو میں چیپل نے بتایا کہ انھوں نے شاہی محل میں موجود شہد کی مکھیوں سے یہ بھی کہا کہ وہ نئے بادشاہ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

یہ رسم اس توہم پرستی کا حصہ ہے جس کے مطابق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اگر انھیں ان کے مالک کی وفات یا تبدیلی کے متعلق نہ بتایا جائے تو وہ شہد بنانا بند کر دیتی ہیں۔

چیپل کا کہنا تھا کہ اس رسم کے مطابق شاہی خاندان میں جب کسی اہم شخص کی وفات ہو جاتی ہے اور وہ ان شہد کی مکھیوں کا مالک یا مالکن ہو تو اس بارے میں انھیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ ملکہ سے اہم اور کون ہو سکتا ہے؟

آپ شہد کی مکھی کے ہر چھتے کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مالکن وفات پا گئی ہیں لیکن آپ کہیں نہ جانا، آپ کے نئے مالک آپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔

مصنف کے بارے میں