نئی دلی: بھارت کے شہر حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکا کیس کے تمام ہندو انتہا پسند ملزمان کو عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ حیدرآباد کی خصوصی عدالت نے مئی 2007 میں نماز جمعہ کے دوران مکہ مسجد دھماکا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد تمام 10 ملزمان کو بری کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

 

یہ بھی پڑھیں: بندوق کے زور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کامیاب نہیں ہو سکتی، بھارتی آرمی چیف

دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 58 زخمی ہوئے تھے جبکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور ناکافی ثبوت پر انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔

 

مسجد دھماکا کیس میں ہندو انتہا پسند تنظیم کے رہنما سوامی آسیمانند نبا کمار سرکار، دودنرا گپتا، لوکیش شرما، بھارت موہن لعل رتیشور اور رجندر چوہدری نامزد تھے۔

مزید پڑھیں: شام پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، پیوٹن

عدالتی فیصلے کے بعد ملزمان کو رہا کر دیا گیا جب کہ عدالتی کمرے کے باہر موجود متاثرہ خاندان کے افراد نے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ رحمت علی نامی شخص نے سوال کیا کہ ان کے بھائیوں کو کس نے قتل کیا اور کیا انہیں کبھی سچ بتایا جائے گا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں