سلیمان شہباز نے حکومتی الزامات کو مذاق قرار دے دیا

سلیمان شہباز نے حکومتی الزامات کو مذاق قرار دے دیا
کیا قانونی طریقے سے پیسہ ملک میں لانا منی لانڈرنگ ہے، سلیمان شہباز۔۔۔۔فوٹو/ فیس بُک اکاؤنٹ

لاہور: شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا عمران خان نے کہا تھا کہ پہلے تین ماہ میں شریف فیملی سے 300 ارب روپے ریکور کروں گا۔


انہوں نے کہا کہ روزانہ حکومت غور کرتی ہے کہ کس طرح شریف خاندان اور پیپلز پارٹی کے خلاف الزامات لگانے ہیں جبکہ یہ معاملات صرف نیازی نیب گٹھ جوڑ ہے اور احتساب صرف شریف فیملی اور زرداری فیملی کا ہو رہا ہے۔

انہوں نےاستفسار کیا کہ کیا قانونی طریقے سے پیسہ ملک میں لانا منی لانڈرنگ ہے؟۔ سلیمان شہباز نے کہا کہ وہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ عمران خان عوامی نمائندے ہیں اور ان کے 12 کروڑ روپے کے اثاثے 4 ارب روپے کیسے ہو گئے؟۔

سلیمان شہباز نے کہا کہ میں کسی محبوب علی کو نہیں جانتا اور محبوب علی یا دیگر کا ریکارڈ کہاں سے آیا ہے۔ یہ حکومت نے دیا ہے جبکہ نہ مجھ سے اور نہ میرے وکلا کو یہ معلومات فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ڈکلیئریشن ایف بی آر کے پاس موجود ہے اور یہ سوالات ایف بی آر کیوں نہیں پوچھتا۔ جن کمپنیوں سے پیسے آئے ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ ہیں اور میں اپنی آمدنی کا ڈکلیئریشن ایف بی آر کو دے چکا ہوں اور ان اثاثوں پر ٹیکس بھی دے چکا ہوں۔ یہ کیسی منی لانڈرنگ ہے جس پر میں نے ٹیکس بھی دے رکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے اور جو دو نام سامنے آ رہے ہیں مجھے اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ میں کسی منظور احمد اور قاسم قیوم کو نہیں جانتا اور نہ ان سے ملا ہوں جبکہ منظور کے چیک کے ذریعے ٹرانزیکشن حکومت کے خود ساختہ الزامات ہیں۔

سلیمان شہباز کا کہنا تھا کہ جو پاکستان سے باہر پیسے لے گئے اس پر سلیکٹڈ وزیر اعظم خاموش بیٹھے ہیں اور شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں ایک روپے کی ٹرانزیکشن بھی ثابت کردیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔