عوامی تحریک کا دھرنا، عدالت کا فریقین کو معاملہ فہم و فراست سے حل کرنیکا حکم

عوامی تحریک کا دھرنا، عدالت کا فریقین کو معاملہ فہم و فراست سے حل کرنیکا حکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید نے انجمن تاجران کے رہنما نعیم میر کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کا مال روڈ پر دھرنا روکنے کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا ہے کہ فریقین معاملہ خود طے کر لیں۔ عدالت نہیں چاہتی کہ دوبارہ ماڈل ٹائون جیسا سانحہ ہو۔ دھرنا روکنے کی غلط خبر بتانے پر عدالت نے وکلا سے اظہار برہمی بھی کیا۔


سماعت کے دوران عوامی تحریک کے اشتیاق چوہدری، سی سی پی او اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ہدایت دی کہ تاجران، پاکستان عوامی تحریک اور ایڈووکیٹ جنرل معاملہ طے کریں کسی نتیجے پر پہنچ گئے تو ٹھیک ورنہ عدالت خود فیصلہ کرے گی۔

سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے سوال کیا کہ دھرنا کتنے وقت کے لیے دیا جا رہا ہے جس پر وکیل عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی دھرنا نہیں بلکہ اس میں ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے ورثا شامل ہوں گے اور دھرنا دو، تین گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ دھرنے کے لیے رات درخواست دی گئی، یہ نقص امن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں