کبھی آپ نے سوچا کہ گوگل اور فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس آپ کو مفت سہولت کیوں فراہم کرتی ہیں؟

کبھی آپ نے سوچا کہ گوگل اور فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس آپ کو مفت سہولت کیوں فراہم کرتی ہیں؟

اسلام آباد:گوگل فیس بک سمیت دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد دنیا بھر میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں میں پہنچ چکی ہے ۔ دنیا کے ہر کونے میں کسی نہ کسی طرح انٹرنیٹ کی رسائی ممکن ہے جس کی وجہ سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا بے دریغ استعمال ہوتاہے ،تاہم اکثر ہمارے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ گوگل یا فیس بک یا اس جیسی دوسری ویب سائٹس ہم سے رقم کیوں وصول نہیں کرتیں ۔اور کیا آپ جانتے ہیں گوگل اور فیس بک سمیت دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس آپ کو مفت سہولت کیوں فراہم کرتی ہیں؟


 اس دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں۔  نہ گوگل نہ فیس بک اور نہ ہی انٹرنیٹ۔تو سوال یہ ہے یہ کمپنیاں انٹرنیٹ کے زریعے اربوں ڈالرز کیسے کما رہی ہیں؟

کیونکہ کہ ان کا پروڈکٹ ان کی سروس نہیں بلکہ ہم ہیں۔ یہ تمام ویب سائٹس ہماری پہچان ایڈورٹائزر کو بیچتی ہیں۔ ہم کیا لائک کرتے ہیں، کیا شئیر کرتے ہیں اور کیا سرچ کرتے ہیں۔ یہ تمام ڈیٹا ایڈورٹائزرز کو بیچا جاتا ہے۔

جس کے بعد ہماری پروفائل پر ان سے وابستہ اشتہارات کی بھرمار ہوجاتی ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ کسی برگر کی تصویر کو لائک کرتے ہیں یا شئیر کرتے ہیں تو آپ کی پروفائل پر مکڈونلڈز اور کے ایف سی جیسے فوڈز پروڈکٹس کے اشتہارات آنے شروع ہو جائیں گے۔یہ اربوں ڈالرز کا بزنس ہے، جس سے ہم چاہ کر بھی نہیں بچ سکتے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔