"انسانیت"سب سے بڑا مذہب

ڈاکٹر رتھ فاوجو کہ9ستمبر 1929 کو جرمنی میں پیدا ہوئیں اور 10 آگست 2017 کو وفات پاگئیں۔وہ جرمنی کے شہر لائزگ کی رہنے والی تھیں بلاشبہ وہ ایک عظیم خاتون، عظیم انسان اور عظیم ڈاکٹر تھیں۔جنہوں نے ساری زندگی انسانی فلاح کیلئے کام کیا اور یہ ثابت کیا کہ انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔انسانیت کی وہ تعلیمات جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے ان سب کا عملی مظاہرہ ڈاکٹر رتھ فاو کی زندگی سے ہمیں ملتا ہے۔


انہوں  نے کوڑھ کے مریضوں پر بنی ہوئی ایک فلم دیکھی اور پاکستان جیسے پسماندہ ملک کیلئے اس کی عوام کیلئے جرمنی جیسا ترقی یافتہ ملک چھوڑا اور ہمیشہ کیلئے 1960 میں پاکستان آ بسیں۔1960 جب پاکستان کو آزاد ہوئے فقط 13 سال ہوئے تھے۔

پاکستان وسائل سے محروم ایک پسماندہ ملک تھا جہاں پر بنیادی سہولیات کا بھی فقدان تھا پاکستان میں 1960 تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے۔کوڑھ جو کہ ایک اچھوت مرض ہے جس میں مریض کے جسم سے شدید بو آتی ہے جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے۔اس دور میں یہ مرض دن بدن بڑھتا جارہا تھا اور لاعلاج خیال کیا جاتا تھا۔ مریض کے اپنے گھر والے بھی اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھےکوڑھ کے مریضوں کیلئے شہر سے باہر آبادی بنا دی گئی تھی۔جہاں وہ تکلیف میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔لوگ ان آبادیوں کے پاس سے بھی گزرنا پسند نہیں کرتےتھے۔

اس دور میں اس فرشتہ صفت خاتون نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان میں کوڑھ یعنی جزام کر مرض کے خلاف جہاد شروع کیا۔ انہوں نے اپنا ملک ،ساری سہولیات اور اپنی جوانی تک پاکستان جیسے ملک اور کوڑھ کے مریضوں کیلئے قربان کر دی اور یہیں کی ہوکر رہ گئیں وہ اپنے ہاتھوں سے مریضوں کو پٹی کرتیں اور دوا کھلاتیں جن کو ان کے اپنے بھی ہاتھ لگانے سے گھبراتے تھے۔کوڑھ کے مریضوں کیلئے وہ ایک فرشتہ تھیں۔ 1963 میں انہوں نے میری لیپریسی سینٹر بنایا اور کوڑھ کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کیا جس سب کیلئے انہوں نے جرمنی تک سے چندہ اکٹھا کیا اور پاکستان میں لگایا۔ آغاز انہوں نے کراچی میں میکلورڈ روڈ پر ایک چھوٹے سے سنٹر سے کی تھی جو آہستہ آہستہ ہسپتال بن گیا تھا۔ان کی دن رات کی محنت اور کوششوں سے1996 میں پاکستان کو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جزام سے پاک ملک قرار دیا گیا۔اور ان کے سنٹرز کی تعداد170تک پہنچ گئی۔1988 میں انہیں پاکستانی شہریت بھی مل گئی۔انہیں پاکستان اورپاکستان کے لوگوں سے محبت تھی۔کوڑھ کے خلاف انھوں نے جہاد کیا ان کیلئے بلاشبہ یہ ایک مشن تھا۔جس کیلئے انہوں نے ہر دوسرے مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا۔یہ ان کی انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور پیشہ سے محبت ہی تھی جو وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئیں اور انہیں ان کی خدمات کے عوض جناح ایوارڈ، ہلالِ پاکستان، ہلالِ امتیاز اور ستارہ قائد اعظم سے نوازا گیا۔لیکن ان کی خدمات ان کا جذبہ اس سب سے بہت زیادہ تھا۔ 

دینِ اسلام جو کہ ہمیں انسانی فلاح ، دکھی انسانیت کی خدمت اور حقوق العباد کا درس دیتا ہےاور یہی تعلیمات مسلمانوں کا شیوہ ہونی چاہیے لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ سب مسلمانوں میں تو نا پید ہے لیکن ڈاکٹر فاو نے غیر مسلم ہونے کے باوجود ان سب کا عملی نمونہ پیش کیا جو انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ان کے دل میں دکھی انسانیت کا درد تھا جس نے انہیں جرمنی واپس نہیں جانے دیا۔انہوں نے انسانیت کی بے لوث خدمت کی اور یہ ثابت کیا کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔

فرحان سعید خان جامعہ پنجاب سے ایل ایل بی کی تعلیم

حاصل کرنے کے ساتھ پرائیویٹ میڈیا ہائوس میں سکرپٹ رائٹربھی ہیں

Email : farhansaeedkhan669@gmail.com