بچوں کو دوڑ اور ورزش کا عادی بنائیں، دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھیں

بچوں کو دوڑ اور ورزش کا عادی بنائیں، دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھیں

ٹورانٹو: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو دوڑ اور ورزش کا عادی بنایا جائے تو  بڑھاپے میں بھی دماغی اور ذہنی صلاحیت پر اس کے مثبت اثرات پائیں۔


تفصیلات کے مطابق کم عمری میں کی جانے والی ورزش بڑھاپے میں یادداشت کی کمی کو ٹال سکتی ہے اور کئی دماغی امراض کو روکنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بچے اگر ورزش کو معمول بنالیں تو اس سے ان کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت یعنی ذہانت بھی بہتر ہوتی ہے جو بڑھاپے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ابتدائی عمر میں ورزش بچوں کی سیکھنے اور سمجھنے صلاحیت اور یادداشت کو بڑھاپے میں برقرار رکھتی ہے۔ ماہرین یہ ثابت کرچکے ہیں کہ باقاعدہ ورزش سے نئے دماغی خلیات بنتے ہیں جو ذہنی صحت برقرار رکھتے ہیں۔