استنبول میں ایک کانفرنس کے دوران میری اُس شادی شدہ مرد سے ملاقات ہوئی اور پھر ....

استنبول میں ایک کانفرنس کے دوران میری اُس شادی شدہ مرد سے ملاقات ہوئی اور پھر ....

لاہور:ترکی کے شہر استنبول میں ایک کانفرنس کے دوران پاکستانی لڑکی کی ملاقات ایک پاکستانی مرد سے ہوئی جو شادی شدہ تھا۔ یہ ملاقات بتدریج محبت میں تبدیل ہوئی اور اب بات دونوں کی شادی تک آ پہنچی ہے تاہم لڑکی کو ایک طعنہ مل رہا ہے کہ وہ کسی کا گھر توڑ رہی ہے۔ لڑکی نے اپنا یہ مسئلہ ڈیلی پاکستان گلوبل اپنے قارئین کو پیش کی گئی نئی سروس ”Ms Anon Advice©“ کے ماہر کے سامنے پیش کیا اور رائے طلب کی۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے لکھا ہے کہ ”ہم دونوں مختلف شہروں سے ہیں لیکن ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔


استنبول میں ایک کانفرنس کے دوران ہماری ملاقات ہوئی۔ اس شخص نے میری طرف رغبت دکھائی اور ابتدائی طور پر میں بھی اس سے متاثر ہوئی۔ لیکن جب اس شخص نے مجھے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور ایک بچے کا باپ ہے تو میں نے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کی تاہم وہ مسلسل میرے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتا رہا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی پہلی شادی اس کے والدین نے اپنی مرضی سے کی تھی اور وہ خواہش اور کوشش کے باوجود اس کے دل میں اس کی بیوی کی محبت نہیں جاگ سکی۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ یہ کوئی دھوکہ دہی نہیں ہے۔ کسی سے محبت ہو جانا پہلی بیوی سے بے وفائی نہیں کہلاتا۔ اس کی باتوں نے مجھے متاثر کیا اور میں اسے ایک ایماندار آدمی سمجھنے لگی جو اپنے بیوی سے محبت نہ ہونے کے باوجود اس کی اور اپنے بچے کی تمام ضروریات پوری کر رہا تھا۔ اس کے بعد میں نے بھی اس کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار شروع کر دیا اور یوں ہماری محبت پروان چڑھنے لگی۔کانفرنس ختم ہونے پر ہم پاکستان آ گئے۔ وہ مجھ سے چند سال سینئر تھا اور دفتری کام کے سلسلے میں مختلف شہروں کے دورے کرتا رہتا تھا۔

جب بھی وہ میرے شہر آتا، ہماری ملاقات ہوتی۔ دو سال یونہی گزر گئے۔ اس دوران میں اس کے بالکل قریب آ چکی تھی اور اس سے شادی کا فیصلہ کر چکی تھی۔ ایک ملاقات کے دوران میں نے اس سے اس امر کا ذکر کیا تو اس نے فوری رضامندی ظاہر کر دی۔ طے پایا کہ وہ اپنی بیوی کو اور میں اپنے والدین کو سب کچھ سچ سچ بتائیں گے۔ ہم دونوں نے ایسا ہی کیا۔ اس نے جب اپنی بیوی کو یہ بات بتائی تو اس کے گھر میں لڑائیاں شروع ہو گئیں اور اس کی بیوی بچے کو لے کر گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ ادھر میرے والدین بھی اس شادی کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص پہلی بیوی کے ساتھ بے وفائی کرکے دوسری شادی کر سکتا ہے وہ دوسری بیوی کو چھوڑ کر تیسری کی محبت میں بھی گرفتار ہو سکتا ہے۔ اسی دوران اس کی پہلی بیوی نے میرے گھروالوں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میری وجہ سے اس کا گھر ٹوٹ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ دو سال قبل تک سب کچھ بہترین چل رہا تھا۔ جب اس کا شوہر استنبول سے واپس آیا تب سے اس کا لہجہ بدلا ہوا تھا لیکن وہ سخت ملازمت کو اس کی وجہ قرار دے کر نظر انداز کرتی آ رہی تھی تاہم اب راز کھلا کہ اس کے پیچھے کوئی اور خاتون تھی۔ وہ اس سارے قضیے کی جڑ مجھے قرار دے رہی تھی۔ Ms Anon Adviceتم ہی بتاﺅ کہ اس میں میری کیا غلطی ہے۔

کیا اس مرد سے دوسری شادی کے لیے رضامند ہونا میری غلطی ہے اور کیا میں اس کا گھر توڑنے کی ذمہ دار ہوں۔“ رپورٹ کے مطابق Ms Anon Adviceنے اس لڑکی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ بے وفائی صرف جنسی نہیں ہوتی۔ اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے جذباتی بے وفائی کی ہے اور اس میں تم بھی برابر کی ذمہ دار ہو۔ اگر تم اس شخص کو اپنے قریب آنے کا موقع نہ دیتیں تو یقینا وہ یہ سب کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ بیوی بچوں کی ضروریات پوری کردینے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ شوہر ان کا تمام حق ادا کر رہا ہے اور اب وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

تمہارے والدین بالکل ٹھیک کہتے ہیں کہ جو شخص تمہارے لیے کسی کو چھوڑ سکتا ہے وہ کسی کے لیے تمہیں بھی چھوڑ سکتا ہے۔ وہ تم سے اتنا ہی کہہ کر کسی دوسری عورت کی طرف چلا جائے گا کہ ”اب مجھے تم سے محبت نہیں رہی۔“ آج اگر اس معاملے میں تم خود کو بے قصور سمجھتی تو کیا کل وہ تیسری خاتون قصوروار ہو گی؟ وہ شخص یقینا اپنی بیوی سے بے وفائی کا مرتکب ہوا ہے اور تم بھی اس میں اتنی ہی ملوث ہو جتنا کہ وہ شخص۔اور ہاں، اس معاملے میں تم واقعی کسی کا گھرتوڑ رہی ہو۔“