2016 کی 10 بدترین ہا لی ووڈ فلمیں

2016 کا سال اب اختتام پذیر ہے جس کے دوران ہولی وڈ کی جانب سے متعدد فلموں کو ریلیز کیا گیا جن میں کچھ بہترین تھی تو کچھ اوسط درجے کی۔مگر ایسی فلموں کی بھی کمی نہیں جو باکس آفس پر تو مناسب بزنس کرنے میں کامیاب رہیں مگر ان کی کہانی ، اداکاری اور دیگر پہلو انتہائی بدترین تھے یا کم از کم ناقدین کو تو ایسا ہی لگا۔

2016 کی 10 بدترین ہا لی ووڈ فلمیں

2016 کا سال اب اختتام پذیر ہے جس کے دوران ہولی وڈ کی جانب سے متعدد فلموں کو ریلیز کیا گیا جن میں کچھ بہترین تھی تو کچھ اوسط درجے کی۔مگر ایسی فلموں کی بھی کمی نہیں جو باکس آفس پر تو مناسب بزنس کرنے میں کامیاب رہیں مگر ان کی کہانی ، اداکاری اور دیگر پہلو انتہائی بدترین تھے یا کم از کم ناقدین کو تو ایسا ہی لگا۔


امریکا کے ٹائم میگزین نے 2016 کی ایسی ہی 10 بدترین فلموں کی فہرست مرتب کی ہے جن میں ہوسکتا ہے آپ کی بھی پسندیدہ فلم شامل ہو۔

10۔ انڈیپینڈنس ڈے: ریسرجنس:

بیس سال پہلے ریلیز ہونے والی فلم کے اس سیکوئل کا لوگوں کو بے صبری سے انتظار تھا یعنی ایلینز زمین پر حملہ آور ہوکر ہمارے سیارے کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں، اس کی پہلی فلم تو بہت اچھی تھی اور اب اسے کلاسیک فلموں میں شامل کیا جاتا ہے مگر 2016 میں اس کی کہانی میں اتنے جھول اور احمقانہ ٹوئیسٹ تھے جو لوگوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہوگئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ یہ فلم اس فہرست میں 10 ویں نمبر پر ہے۔

9۔ سوسائڈ اسکواڈ:

ڈی سی کامکس کی اس فلم کا بھی لوگوں کو بے صبری سے انتظار تھا مگر اس کو اتنی ہی جلد بھلا بھی دیا گیا، اس فلم میں مزاح کو زبردستی شامل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ایڈیٹنگ بھی انتہائی بیکار تھی، ناقدین اس فلم کی واحد اچھی چیز مارگوٹ روبی کے کردار ہارلے کوئن کو قرار دیتے ہیں۔

8۔ مدرز ڈے: 

یہ ڈائریکٹر گیری مارشل کی آکری فلم تھی جو اس سے قبل پریٹی ویمن اور رن اوے برائیڈ جیسی فلمیں بنا چکے تھے، مگر ان کی آخری فلم کسی کو متاثر کرنے میں ناکام رہی، اگر کسی نے اسے دیکھا بھی ہو تو اسے شاید بس یہ یاد ہوگا کہ جنیفر آنسٹن نے کتنی خوشدلی سے ایک مسخرے کے مشورے کو قبول کرلیا۔

7۔ کیفے سوسائٹی: 

کرسٹین اسٹیورٹ اور جیسی ایزنبرگ کی اس فلم میں 1930کے ہولی وڈ کو پیش کیا گیا جو انتہائی مضحکہ خیز ثابت ہوا جس میںواحد اچھی چیز کرسٹین اسٹیورٹ کا کردار تھا جس سے ہٹ کر یہ فلم کسی دلچسپی کی حامل نہیں۔

6۔ بیٹ مین ورسز سپرمین: ڈان آف جسٹس: 

یہ وہ فلم ہے جس کا انتظار گزشتہ سال سے لوگوں کو تھا اور توقع تھی کہ ڈی سی کامکس صحیح معنوں میں مارول کے مدمقابل آسکے گی، مگر یہ فلم بیٹ مین اور سپر مین کو پسند کرنے والے کو بھی ہضم نہیں ہوسکی اور بہت کم لوگوں نے ہی اسے پسند کیا۔

5۔ ناﺅ یو سی می 2: 

جریدے کے مطابق اس فلم کا پہلا حصہ تو اچھا مگر اس کے سیکوئل کا مطالبہ کسی نے نہیں کیا تھا، جادو کے اوپر مبنی فلم میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو لوگوں کو اسے دیکھنے پر مجبور کرتا، مگر چین میں یہ فلم کافی پسند کی گئی جس کی وجہ سے اب اس کے تیسرے حصے پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔

4۔ زو لینڈر 2:

2001 میں اگر آپ نے زو لینڈر کو دیکھا تو وہ اس زمانے کے لحاظ سے بالکل ہٹ کر تھی جس میں سیلفی کلچر کو کئی برسوں پہلے ہی پیش کردیا گیا تھا، مگر 2016 میں یہ فلم ریلیزہوتے ہی سینماﺅں سے اتر گئی، درحقیقت یہ فلم باکس آفس پر بھی انتہائی بدترین فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی کیونکہ اس میںاحمقانہ پن سے ہٹ کر کچھ اور پیش ہی نہیں کیا گیا۔

3۔ ڈرٹی گرینڈ پا:

جریدے نے اس فلم کو رواں سال کی تیسری بدترین فلم قرار دیا ہے اور اس کے بقول اس میںرابرٹ ڈی نیرو جیسے اداکار کی صلاحیت کو ضائع کیا گیا ہے، اس کی کہانی اتنی بیکار تھی کہ اسے کسی نے بھی پسند نہیں کیا۔

2۔ برادرز گرمزبے: 

اس فلم کو بھی کسی نے پسند نہیںکیا اور یہ کامیڈی فلم باکس آفس پر بھی انتہائی بری طرح ناکام ہوئی۔

1۔ ایکس مین ایپوکیلپس: 

یہ فلم باکس آفس پر تو مناسب بزنس کرنے میں کامیاب رہی مگر ناقدین نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرار دیا ہے جس کی وجہ اس میں اچھے اداکاروں کو ضائع کرنا تھا، آسکر آئزک جیسے اداکار کو ایک نیلے رنگ کے چھلکے کے پیچھے چھپاکر رکھا گیا، مائیکل فاسبینڈر کو زبردست جذباتی اداکاری پر مجبور کیا گیا جبکہ جنیفر لارنس جلد از جلد اپنا کام مکل کروا کے دوسری فلم کے سیٹ پر پہنچنے کے لیے بے قرار رہتی تھیں۔