سانحہ اے پی ایس کو 6 سال بیت گئے، ظلم وبربریت کی داستان بھلانا ناممکن

Six years have passed since the tragedy of APS, it is impossible to forget the story of oppression and barbarism
کیپشن:   فائل فوٹو

لاہور: 16 دسمبر 2014ء کا دن پاکستانی قوم کے ذہنوں سے کبھی نہیں نکل سکتا کیونکہ اس روز دہشتگردوں نے سکول میں زیر تعلیم بچوں کیساتھ ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کی جسے بھلانا ناممکن ہے۔

سولہ دسمبر 2014ء کا شمار تاریخ انسانی کے سیاہ ترین دنوں میں ہوتا ہے۔ اس روز ظالم دہشتگردوں نے پشاور میں قائم آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے طلبہ کو شہید کرکے خون کی ہولی کھیلی۔ ظٓالموں نے کلاس رومز میں داخل ہو کر چن چن کر بچوں اور ان کے اساتذہ کو شہید کیا۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے ہر آنکھ اشکبار کردی۔

اس واقعے کی بڑی وجہ سیکیورٹی کے ناقص انتظامات تھے۔ دہشتگردوں نے اپنے سہولت کاروں کی مدد سے سکول کا آسان عقبی راستہ استعمال کیا جہاں سے وہ اندر داخل ہوئے اور خون کی ہولی کھیلنا شروع کر دی۔ اس اندوہناک واقعے میں طلبہ سمیت تقریباً 140 افراد شہید ہوئے۔ ان کے لواحقین آج تک اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے رواں سال 25 ستمبر 2020ء کو سانحہ اے پی ایس بارے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر اپنے تاریخی ریمارکس میں کہا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے اوپر سے اس کا آغاز کریں۔

سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے والدین نے اس واقعے کو دہشتگردی ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے کھلم کھلا ٹارگٹ کلنگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اوپر بیٹھے لوگوں کو پکڑ کر احتساب کیا جائے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عام کی گئی سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں اس کا ذمہ دار سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔