دنیا میں ملبوسات کے نت نئے فیشن اور ڈیزائن تو روز متعارف ہوتے ہیں مگر ایک لباس ایسا بھی ہے جو اپنے پہننے والے کو مانیٹرنگ کے لیے لگے خفیہ کیمروں سے چھپا دے گا۔

ڈیلی میل نے بھی اس منفرد لباس کی تیاری اور اس کے مثبت اور منفی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھوت جیسے ڈیجیٹیل پرنٹڈ چہروں کی شکلوں پر مشتمل لباس سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ اس لباس کو زیب تن کرنے والا شخص مانٹیرنگ کے لیے استعمال ہونے والے کیمروں اور شناخت میں مدد دینے والے سافٹ ویئرز کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔

مذکورہ لباس پہننے والے شخص کی شناخت میں کمپیوٹر سسٹم اور دیگر آلات کو بھی شبہ ہو سکتا ہے۔ چہروں کی فوری شناخت اور ان کے خد وخال کو پہچاننے والے آلات ایسا لباس پہننے والے شخص کے سامنے آتے ہی الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سیکیورٹی کیمروں کو چکرا دینے والا یہ نیا لباس ہائپر فیس نامی ملبوسات کی تیاری کے پروگرام ہی کا حصہ ہے۔ اس پر آنکھوں، ناک اور منہ کی اس انداز میں شکل تیار کی جاتی ہے کہ ان میں کئی شکلیں گڈ مڈ ہو جاتی ہیں۔

ایسا ہونے پر کمپیوٹر انہیں شناخت کرنے میں غلطی کر سکتے ہیں۔ ہائپر فیس ملبوسات پروگرام جرمن آرٹیسٹ اور ٹکنالوجی کے ماہر آدم ہاروی کی ایجاد ہے۔ اس لباس کی تیاری کا بنیادی تخیل کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے اس کی شناخت میں الجھانے سے پیدا ہوا۔

انہوں نے اس منفرد لباس کی تیاری میں ایسے کثیر تعداد میں جعلی چہرے اس انداز میں فٹ کر کے کہ کمپیوٹر کے ذریعے ان کی شناخت ممکن نہیں رہتی۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج ثابت ہونے والا یہ لباس اپنی نوعیت کا پہلا اقدام نہیں بلکہ آدم ہاروی سی وی ڈائزل کے نام سے ایک ایسا ہی لباس پہلے بھی متعارف کرا چکے ہیں۔