لندن : مضبوط ترین انکرپشن نظام، تیز ترین ڈیٹا ٹرانسفر کی طاقت، 23.8 میگا پکسلز کیمرا اور تیزی سے چارج ہونے والی بیٹری کا حامل ملٹری گریڈ سپر اسمارٹ فون سولرین متعارف کرا دیا گیا۔ جس کی قیمت 14 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

سیرین لیبز کا دعویٰ ہے کہ ان کے فون سولرین سے کی گئی بات چیت تک پہنچنا کسی کیلئے ممکن نہیں کیونکہ اس میں آرمی کے زیرِ استعمال چِپ ٹو چِپ انکرپشن نظام استعمال کیا گیا ہے۔
لندن میں سیرین لیبز کی جانب سے یہ ملٹری گریڈ سمارٹ فون سولرین پیش کیا گیا ہے۔ اس کی سکرین کا سائز 5.5 انچ ہے جبکہ اس میں آپریٹنگ سسٹم کے 2 طرح کے ورژنز موجود ہیں۔

ایک ورژن اینڈرائیڈ پر مبنی ہے جس میں عام سوشل میڈیا ایپلی کیشنز وغیرہ استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن انہیں بھی ہیک کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے کمپنی کا زبردست سکیورٹی نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔
اس میں دوسرا ورژن 256 بِٹ کی چِپ ٹو چِپ انکرپشن استعمال کرتا ہے جس تک پہنچنا کسی کیلئے ممکن نہیں لیکن اس میں ساری عام اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز استعمال نہیں کی جا سکتیں۔
اس لگژری فون میں سنیپ ڈریگن 810 پروسیسر استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں ایل ٹی ای کے 24 بینڈز کی سپورٹ موجود ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا کے تقریباً تمام نیٹ ورکس کا تیز ترین انٹرنیٹ چلا سکتا ہے۔ 450ایم بی پی ڈاو ن لنک اور 150ایم بی پی اَپ لنک کی رفتار اسے عام اسمارٹ فون سے تین گنا تیز انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔
وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقلی کیلئے یہ فون 4.6جی بی پی کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے۔

اس میں سپر فاسٹ چارجنگ کا فیچر بھی موجود ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کیلئے اس میں 23.8 میگا پکسلز کا کیمرہ آٹو فوکس اور فور ٹون فلیش کے ساتھ موجود ہے جب کہ فرنٹ کیمرے کے ساتھ بھی فلیش لائٹ دی گئی ہے۔

مصنف کے بارے میں