ایران کسی بات چیت سے قبل اپنے کردار میں تبدیلی لائے، سعودی وزیرخارجہ

ایران کسی بات چیت سے قبل اپنے کردار میں تبدیلی لائے، سعودی وزیرخارجہ

میونخ :سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ مملکت کی جانب سے ایران کو کوئی نجی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس کے لیے سعودی عرب کا پیغام بڑا واضح ہے۔شہزادہ فیصل  میونخ میں منعقدہ سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں ایک پینل گفتگو میں شریک تھے۔


انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا ایران کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ پہلے اپنے کردار میں تبدیلی لائے۔ اس کے بعد ہی اس کے ساتھ کوئی بات چیت ہوسکتی ہے۔انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت میں مداخلت کے حوالے سے کہا کہ ہم نے ہمیشہ وہاں ایک سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔

ہم نے اس مقصد کے لیے سیاسی مکالمے کی حمایت کی ہے، خواہ یہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی  مارٹن گریفتھس یا ان کے پیش رو کی نگرانی میں ہو۔ہم مستقبل میں بھی سیاسی مکالمے کی حمایت جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ  ہم نے ستمبر2019 میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے بعد یہ دیکھا کہ یہ کارنامہ تو ایران نے انجام دیا تھا لیکن اس کے بعد اس نے حوثیوں سے کہا کہ وہ ان کا الزام اپنے سر لے لیں۔

میرے خیال میں اس کے بعد حوثیوں کی آنکھیں کھلی تھیں اور انھوں نے یہ سوچا کہ وہ ایران کے ساتھ شراکت دار نہیں بلکہ وہ محض ایرانی نظام کے آلہ کار ہیں اور انھیں وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ نے قبل ازیں 22 جنوری کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔انھوں نے کہا کہ ایران کو مذاکرات کے لیے یہ شرط قبول کرنا ہوگی کہ وہ اپنے علاقائی ایجنڈے کو تشدد کے ذریعے آگے نہیں بڑھائے گا۔

#/S