جعلی  اکاؤنٹس  کیس  میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد ہوگا ، شہزاد اکبر

جعلی  اکاؤنٹس  کیس  میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد ہوگا ، شہزاد اکبر
Image by : INP

اسلام آباد :وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جعلی اکانٹس کیس کے فیصلے کا اثر پاناما کیس سے زیادہ بڑا ہوگا، ای سی ایل سے نکالا گیا نام دوبارہ شامل ہو سکتا ہے۔


وہ بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد ہوگا ، مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے کام میں خلل سے بچنے کےلئے نکالنے کا کہا گیا ، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ سے متعلق نیب تحقیقات کرے گا ، تحقیقات میں شواہد ملنے پر نام دوبارہ ای سی ایل میں آسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹ کیس کے فیصلے کا اثر پانامہ کیس سے زیادہ ہوگا ، جے آئی ٹی نے زمینوں پر قبضے اور بیرون ملک پراپرٹیز کی نشاندہی کی ، سپریم کورٹ کے ریمارکس پر کیس کا رخ بدلنے کی کوشش کی گئی ۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس پر کیس کا رخ بدلنے کی کوشش کی گئی، جعلی اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کا اثر پاناما کیس سے زیادہ بڑا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو نیب سے معاونت کا کہا ہے۔وزیرِ اعظم کے معاون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا، نیب تحقیقات کے بعد نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں نام ای سی ایل میں نہ ہونے پر ملزم فرار ہو جاتے تھے، سپریم کورٹ نے نیب کو 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا کہا ہے۔بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو نیب سے معاونت کا کہا ہے، جے آئی ٹی نے زمینوں پر قبضے اور بیرون ملک پراپرٹیز کی بھی نشان دہی کی۔ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے ردِ عمل میں ایک بھی جواب نہیں سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ آج عدالتِ عظمی نے جعلی بینک اکانٹس کیس کے تفصیلی فیصلہ میں کہا ہے کہ نئے چیف جسٹس نیب رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے عمل درآمد بینچ تشکیل دیں، نیب مراد علی شاہ، بلاول بھٹو اور دیگر کے خلاف تحقیقات جاری رکھے۔