سرحدی معاملے پر پاکستان اور ترکی کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، ایئر چیف

سرحدی معاملے پر پاکستان اور ترکی کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، ایئر چیف
کیپشن:   سرحدی معاملے پر پاکستان اور ترکی کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، ایئر چیف سورس:   فائل فوٹو

انقرہ: پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور نے کہا پاکستان اور ترکی کو سرحدی معاملے پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اور خطے میں امن کیلئے دونوں ممالک کا مشترکہ ویژن ہے اور ہم دو ملک ایک قوم ہیں۔ 

پاک فضائیہ کے سربراہ نے ترک خبر رساں ادارے کو انٹر ویو دیتے ہوئے ائر مارشل مجاہد انور نے پاکستان اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات ہیں جبکہ اسلام آباد اور انقرہ جیسی دوستی کی خواہش دنیا کے دیگر ممالک رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے اور دونوں ممالک خطے میں مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان ترکی کیساتھ  ہے جبکہ سائپرس کے معاملے پر ترکی کے ساتھ ہیں۔

پاک فضائیہ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق ترکی کو سرحدی خطرات کا بھی سامنا ہے اور ہمیں بھی اس طرح کے خطرات کا سامنا ہے اور خطے میں امن کیلئے دونوں ممالک کا مشترکہ ویژن ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی انڈسٹری میں رشتے مضبوط ہو رہے ہیں، اسلام آباد تعلقات میں مزید وسعت چاہتا ہے، فوجی تعاون اقتصادی تعاون پر بدلنا چاہیے، مشترکہ منصوبے، مشقیں، پیداوار، تربیت، اور ٹیکنالوجی کا اشتراک دونوں ممالک کے مابین تعاون کے اہم شعبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں ترکی کی طرح پاکستان نے برادر اسلامی ملک کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں آذر بائیجان نے ترکی کے ڈرونز کا استعمال کیا جس کی وجہ سے مسلم ملک کو فتح ملی۔

کشمیر سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ترکی کا موقف ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے اور ترک صدر طیب اردوان، وزیر خارجہ، پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت اہم ارکان عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں ۔ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے تاہم بھارت نے ہماری طرف سے کی گئی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

پاک فضائیہ کے سربراہ نے کہا بھارت افغانستان میں پراکسی وار کر کے امن کو برباد کر رہا ہے اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ افغانستان میں امن چاہتے ہیں اور ہمسایہ ملک میں امن کی حمایت جاری رکھیں گے جبکہ وہاں پر جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ایک پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا فروری 2019ء کو بھارتی فضائیہ کا حملہ بہت بڑی غلطی تھی، فروری 2019ء کے حملے کے بعد پاکستان کو جواب دینا تھا اور ہمارا جواب بہت بلند اور واضح تھا جبکہ نئی دہلی کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ الیکشن جیتنے کے لیے بھارتی وزیراعظم نے اپنی قوم میں قومیت پسندی کو ہوا دی اور ہمسایہ ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام نہیں کرتا۔

پاک فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایئر چیف کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں جبکہ بیجنگ عالمی طاقت اور ان کی معیشت بہت مضبوط ہے اور دونوں ممالک سیاست سے لیکر فوجی تک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

ایئر چیف کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اقتصادی تعاون بڑھانے کا بہترین منصوبہ ہے جو خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی پیدا کرے گا۔