حاکم وقت

حاکم وقت

دوستو، کسی تیزطراراور شرارہ صفت خاتون خانہ نے اپنے شوہر سے اچانک سوال پوچھا۔۔ آپ تو قانون کے ماہر ہیں اور ایڈووکیٹ ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں کہ عورتیں کیوں مجبور ہیں کہ مردوں کے لئے کھانا تیار کریں؟؟ شوہر کے دماغ کی بتی شاید جل رہی تھی، برجستہ جواب دیا۔۔اس لئے کہ جنیوا کنونشن میں طے پایا تھا کہ قیدیوں کو کھانا فراہم کرنا ۔۔’’حاکم وقت‘‘ کی ذمہ داری ہے۔۔ اس واقعہ سے یہ بات تو آپ پر کلیئر ہوگئی ہوگی کہ ہمارا کالم غیرسیاسی ہوتا ہے۔ حاکم وقت ہر دور میں بیگمات ہی رہی ہیں۔۔ بڑے بڑے بادشاہ، حکمران، فوجی آمر،وزرا غرض کون ہے جو ان کی ’’حاکمیت‘‘ کا انکار کرتا ہے۔

کہتے ہیں بیویاں کبھی مطمئن نہیں ہوتیں۔۔ شوہر کی ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔۔ بیوی نے جب اپنے شوہر سے کہا کہ ۔۔میں ذرا میکے جانا چاہتی ہوں۔خاوند کہنے لگا۔۔ آج ادھر ہی رہو میرے ساتھ، کسی اور دن چلی جانا۔۔ بیوی نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔۔ تم تو بس مجھے ہر وقت اسی گھر میں قید ہی رکھنا چاہتے ہو۔۔۔پھر ایک دو روز بعد بیوی نے شوہر سے کہا ۔۔ میں ذرا میکے جانا چاہتی ہوں۔۔خاوند کو اپنی بیگم کا پچھلا غصہ بھولا نہیں تھا ،اس لئے جلدی سے بولا۔۔ جیسے تمہیں اچھا لگے۔۔بیوی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بولی۔۔ تو گویا میرا ہونا نہ ہونا تمارے لیئے ایک برابر ہے۔میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اس گھر میں۔۔۔کچھ ٹائم گزرنے کے بعد اچانک ایک روز بیوی نے پھر شوہر سے کہا۔۔ میں ذرا میکے جانا چاہتی ہوں۔۔ شوہر کو ماضی یادتھا، جلدی سے بول اٹھا۔۔ کہو تو میں بھی تمہارے ساتھ چلوں؟بیوی نے ترنت کہا۔۔ یعنی میں میکے اس لیئے جا رہی ہوں کہ میری آپ سے وہاں پر ملاقات طے ہے؟ مجھے کچھ آرام چاہیئے، اس لیئے اُدھر جا رہی ہوں۔ہر علم، ہر عالم، بشر، جن، بھوت، نباتات اور ساری جمادات ابھی تک کوئی ایسا جواب ڈھونڈنے سے قاصر ہیں جس سے بیگمات راضی اور مطمئن ہوجائیں۔۔بیوی کا شک دور کرنے کے لئے شوہر نے داڑھی رکھ لی اور پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھنے لگے۔ بیوی فون پر سہیلی کو بتا رہی تھی ۔۔ جناب اب حوروں کے چکر میںہیں!!!!!!!!میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا،جھگڑے کے دوران شوہر نے ایک جملہ کہا جس سے جھگڑا ایسے ختم ہوگیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔شوہر نے کہا۔۔خوب صورت ہو تو اس کا مطلب تم کچھ بھی بولوگی؟؟اس کے بعد بیوی نے کچھ کہا ہی نہیں اور چائے کے ساتھ پکوڑوں سے بھی نوازا۔۔باباجی نے یہ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ۔۔ہمیں بیماری سے لڑنا ہے، بیمار سے نہیں۔۔

باباجی ایک دن محفل میں اپنی یادوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے ایک دلچسپ قصہ سناتے ہوئے بولے۔۔عبد القدوس محلے میں نئے نئے ہی آئے تھے۔ ابھی دو ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ ان کی اہلیہ وفات پا گئیں۔محلے والے ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہوئے۔ جنازے میں سبھی محلے والے شامل تھے۔ جن میں، میں بھی تھا۔کوئی دو ماہ گزرے ہوں گے کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی۔اس دفعہ محلے والے ان کی خوشی میں شریک ہوئے۔ دعوت ولیمہ میں میں بھی شامل تھا۔کوئی دو ماہ کا عرصہ گزرا کہ ان کی دوسری بیوی بھی قضائے الٰہی سے وفات پا گئی۔اس دفعہ بھی محلے والے ان کی دکھ میں برابر کے شریک ہوئے۔ جنازے میں سبھی محلے والے شامل تھے۔ جن میں، میں بھی شامل تھا۔اس دفعہ انہوں نے تیسری شادی کرنے میں تھوڑی جلدی کر لی کہ چہلم اور ولیمہ ایک ہی تقریب میں بھگتا دیا۔دعوت چہلم و ولیمہ میں سبھی محلے والے شامل تھے اور میں بھی ان میں شامل تھا۔قدرت خدا کی اس دفعہ ان کی تیسری بیوی کورونا کی نذر ہو گئی۔اس دفعہ بھی سارے محلے والے ان کے دکھ میں شریک ہوئے اور جنازے میں سبھی گئے لیکن میں ان میں شامل نہیں تھا۔میری بیوی کہنے لگی۔۔دیکھیں جی سبھی محلے والے عبد القدوس کی تیسری بیوی کے جنازے میں گئے ہیں، آپ کیوں نہیں گئے؟۔۔ میں نے کہا۔۔بھلی لوک، مجھے شرم آتی ہے۔ اب دیکھو ناں عبد القدوس نے تو تیسری دفعہ بیوی کے جنازے پر بلایا ہے اور میں ایسا نالائق کہ اسے ایک دفعہ بھی نہ بلا سکا۔۔۔ اب اس جواب پر میرے سر پر بیلن مارنے کی بھلا کیا تُک تھی۔ ماہرنفسیات نے اپنے مریض سے پوچھا۔۔ کیا تم نے کبھی کوئی خطرناک کھیل کھیلا ہے۔۔ مریض بولا۔۔جی ہاں میں کبھی کبھی اپنی بیوی کی بات سے اختلاف کر لیتا ہوں۔۔ بیوی نے جب اپنے شوہر کو طعنہ دیا کہ ۔۔میں پورا گھر سنبھالتی ہوں، کچن دیکھتی ہوں، بچوں کو سنبھالتی ہوں،تم کیا کرتے ہو؟؟ لومڑی صفت شوہر نے جلدی سے کہا۔۔میں خود کو سنبھالتا ہوں،تمہاری نشیلی آنکھیں دیکھ کر۔۔یہ سن کر غصے میں لال بھبھوکا ہونے والی بیوی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔کہنے لگی۔۔ آپ بھی ناں۔۔ چلئے یہ بتائیں رات کوآپ کی پسند کی کون سی ڈش بناؤں؟؟

ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔ زندگی میں دو چیزوں سے بچ کر رہنا۔۔ ایک ٹی وی، دوسرا بی وی۔۔اگر ’’وی ‘‘کو مشترک سمجھ کر نکال دیا جائے تو باقی بچتا ہے ٹی بی۔۔وہ مزید کہتے ہیں کہ۔۔ دولت مند شخص جھاڑو دینے والی،برتن مانجھنے والی،کپڑے دھونے والی، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی اور گھر کی جھاڑ پونجھ کرنے والی الگ الگ ملازمائیں رکھتا ہے۔اور غریب آدمی صرف شادی پر اکتفا کر لیتا ہے۔ ۔ویسے یہ حقیقت بھی ہے اور اس سچائی سے آپ کو بھی کبھی نہ کبھی واسطہ ضرور پڑا ہوگا کہ بلاوجہ الجھنا،یاتو ہیڈفون کی تاروں کو آتا ہے یا صرف بیویوں کو۔۔اور بھی تلخ حقیقت ہے کہ باپردہ بیوی آج کے دور میں ایسی بیوی کو کہا جاتا ہے جو شوہر کا دیگر تمام ’’مستورات‘‘ سے پردہ کرا دے۔۔ ہمارے ایک دوست سے اس کے ممکنہ سسر نے پوچھا، اس کا کیا ثبوت ہے کہ تم میری بیٹی سے پیار کرتے ہو؟؟۔۔ ہمارے دوست نے انتہائی معصومیت سے جواب دیا۔۔میں ’’لڈواسٹار‘‘ میں اس کی گوٹی نہیں مارتا۔۔ایک سچ یہ بھی سن لیں کہ گرل فرینڈ صرف دو صورتوں میں آپ کی جان چھوڑتی ہے ،ایک تو یہ کہ خالق حقیقی کے پاس چلی جائے یا پھر خاوند حقیقی کے پاس۔۔بیوی کے انتقال پر باوجود کوشش کے جب شوہر کے آنسو نہ نکلے تو ایک مخلص دوست نے مشورہ دیاکہ ۔۔تصور کرو کہ وہ واپس آ رہی ہے۔۔ تاریخ لکھنے والے پھر لکھتے ہیں کہ۔ ۔ پھر شوہر کی چیخیں مریخ تک سنی گئیں۔۔دنیا کی بہترین اردو بولنے والوں میں مقابلہ تھا!!!سوال نہایت ہی مشکل پوچھا گیا تھا کہ سکون، اطمینان، خوشی، خاموشی، اور ذہنی یکسوئی کو زیادہ سے زیادہ 5 الفاظ کے جملے میں بیان کریں،جو مقابلہ جیتا اس کا جواب تھا،میری بیوی سو رہی ہے۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ انسانوں کی فطرت ہے نہ ملے تو صبر نہیں کرتے، مل جاتے ہیں تو قدر نہیں کرتے۔۔ اپنوں کی قدر کریں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

مصنف کے بارے میں