سانحہ مری اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت

سانحہ مری اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت

قرآن مجید کا بامعنی مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اس مقدس کتاب میں ایک حصہ عبادات اور تین حصے معاملات پر زور دیاگیاہے ،اسی طرح فقہ کی کتب میں بھی ایسا ہی ہے ،ہمارا دین دنیا میں پھیلا ہی اعلیٰ اخلاق کی بدولت ہے ،یہود ونصاریٰ کا یہ الزام کہ دین اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ،قطعی ،بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے ،ہمارے نبی ؐاور ان کے خلفاء، تبع تابعین واولیاء کرام کے اعلی اخلاق نے دنیا بھر میں کفر کو ختم کرنے میں مدد دی ،بدقسمتی سے آج امت مسلمہ خاص کر ہم پاکستانیوں میں اخلاق حسنہ کا بہت فقدان ہے ،جس کی وجہ  سے  ہم دنیا بھر میں شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں ،اخلاق حسنہ کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے ،ہمارا ایمان جس درجہ کا ہوگا ،ہمارے اخلاق بھی ویسے ہی ہوں گے ،ایک حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق ایمان کے ستر درجات ہیں سب سے اول اور اعلی درجہ کلمہ طیبہ کا پڑھنا ہے اور راستے سے کسی رکاوٹ والی چیز کو ہٹا دینا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے اور اسی طرح حیاء کو بھی ایمان کی شاخ بتایا گیا ہے،ہم کیونکہ مسلمان کے گھر پیدا ہوگئے ،اس لئے ہمیں اپنے دین اور مسلمان ہونے کی قدر نہیں ہے ،اسلام صرف کلمہ کو پڑھ لینے کا نام نہیں ہے ،بلکہ اللہ کے احکامات اور حضور ؐکے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کا نام اسلام ہے ،حضور ؐکے زمانے میں ایک شخص نے کلمہ پڑھا اور کہنے لگا کہ میں ایمان لے آیا ،آپ ؐنے اسے بتایا کہ تم ایمان نہیں اسلام لائے ہو،ایمان والے تم اس وقت ہوگے جب تم اپنی زندگی کو اسوۃ حسنہ کے مطابق یعنی اللہ کے احکامات اور حضورؐ کے طریقوں کے مطابق گزارو گے ،آج بدقسمتی سے ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ،ہمارے دین اور نبی ؐنے زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا جس کے بارے میں ہمیں ہدایت یا طریقہ نہ بتایا ہو ،تجارت کے بھی زریں اصول ہمارے مذہب میں 

بتائے گئے ہیں ،ناجائز منافع خوری ،زخیرہ اندوزی ،گرانفروشی ،سودی کاروبار ،ناپ تول میں کمی کو حرام قرار دیا گیا ہے  لیکن کیونکہ ہم مادیت پر ستی کی دوڑ میں سرپٹ دوڑے جارہے ہیں ،اس لئے حرام حلال کی ہمیں کوئی فکر لاحق نہیں ہے ،آپ ؐکے زمانے میں کوئی اس وقت تک کاروبار شروع ہی نہیں کرتا تھا جب تک وہ تجارت کا پورا عالم نہ بن جاتا ،آج جس کو دیکھو وہ کاروبار شروع کرلیتاہے اور سودی لین دین میں شامل ہوجاتاہے ،سود کے خلاف ہونے کے باوجود اسے معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہ ساری عمرسودی کاروبار میں ملوث ہوکر حرام رزق کھاتارہتاہے ،آج ہمارا تاجر کہتاہے کہ ہم اگر جھوٹ نہ بولیں تو ہمارا کاروبار چلتا ہی نہیں ہے ،خاص کر رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں تو 95 فیصد جھوٹ کا عمل دخل شامل ہے ،حالانکہ ہمیں ہمارے دین نے یہ تعلیم دی ہے کہ اپنی کوئی بھی چیز فروخت کرتے وقت اس کی خامی بھی بتلا ئیں لیکن ہم اسے  چھپاتے ہیں ،حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق آپؐ نے فرمایا جو تاجر خریدار سے بیچا ہوا مال واپس لے گا ،میں اس کے لئے جنت میں ایک محل کی خوشخبری دیتاہوں جبکہ ہم نے دکانوں پر لکھا ہوتاہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا،ایک تو یہ گناہ کہ ہم کسی فرمان ؐپر عمل نہ کریں لیکن اس کے خلاف لکھنا کھلم کھلا دین کا مذاق بنانے کے مترادف ہے ،ہمارے صحابہ کرامؓ ان کے بعد ان کے پیروکاروں نے تجارت کی اعلیٰ مثالیں اور اقدار قائم کیں جس کے باعث انڈونیشیا ء ،ملائیشیاء،چائنہ اور دیگر کئی بڑے ممالک میں دین پھیلا ،آج ہم مری کے ہوٹل مالکان کارونا رورہے ہیں جبکہ یہ منفی رویے اور ناجائز منافع خوری کا حرام طریقہ تقریباًتاجروں نے ملک بھر میں اپنایا ہوا ہے ،ہم عید الفطر ،بقرعید ،رمضان شریف و دیگر مواقعوں پر دیکھ لیں کہ ہماری اشیاء ضروریات کیوں مہنگی ہوجاتی ہیں ،مری کے تاجروں کا رویہ آج ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ برسہا برس سے ایسا ہی کررہے ہیں ،مجھے یاد ہے کہ پانچ سال قبل جب مرغی کے گوشت کی قیمت ڈیڑھ سے دوسوروپے کلو تھی اور ایک کلو کڑاھی گوشت سات سوروپے میں مل جاتا تھا، روات میں ہم نے اٹھارہ سو روپے فی کلو میں کھایا ،جوگوشت  وہاں ملتا ہے وہ اکثر غیر معیاری اور بوڑھے جانوروں کا ہوتاہے جو گلتا ہی نہیں ہے ،اکثر علاقوں میں گیس ،پانی ،بجلی کے مسائل ہیں ،حکومت نام کی تو کوئی چیز خاص کر پی ٹی آئی کے دورمیں ہم نے دیکھی نہیں ہے ،ادارے تباہ وبرباد ہوچکے ہیں ،وزراء مافیاز کے سرغنہ بنے ہوئے ہیں ،ایم این اے پی ٹی آئی مری صداقت علی عباسی تمام دن الیکٹرانک چینلز پر اپنی حکومت کا ڈیفنس کرتے نظر آتے ہیں ،لیکن مبینہ طور پر ان پر الزام آرہا ہے وہ مری میں ہوٹل مالکان کی ایسوسی ایشن وغیرہ کے پیچھے جو مافیا ز ملوث ہیں انہیں وہاں کے عوامی نمائندوں کی سپورٹ حاصل ہے ،ا ب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی ان ملوث مافیاز کے خلاف کیا اقدامات کرتی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ مری کے تمام تر ہوٹلز کی درجہ بندی کرکے ان کے نرخ مقرر کیئے جائیں ،کار پارکنگ لازمی ہر ہوٹل کے ساتھ موجود ہو،انہیں ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی نشان عبرت بنایا جائے اور مری کے ان رہائشیوں کو انعامات واکرام سے نوازا جائے جنہوں نے برفانی طوفان میں پھنسے ہوئے لوگوں کو اپنے گھروں اور ہوٹلوں میں ٹھہرا کر ان کی مدد کی، لیکن وہاں پر موجود فورسز نے بروقت عوام کی مدد کیوں نہیں کی، انتظامیہ کہاں تھی اور ہم نے جو ادارہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نام سے قائم کررکھا ہے وہ مری کے تمام تر معاملے میں کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہاں کی انتظامیہ کا کوئی وجود ہمیں ملتاہے ،ان سب شکایات اور مبینہ الزامات کی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری نہایت ضروری ہے تاکہ آئندہ بیش قیمت جانوں کے ضیاع جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

مصنف کے بارے میں