کون سے ڈاکومنتخب کرنے ہیں…

کون سے ڈاکومنتخب کرنے ہیں…

بس وقت کے ساتھ اتنا ہوا ہے کہ ایوان زیریں وایوان بالا کی ہرہونے والی کارروائی چشم تماشہ ہونے سے قبل دیکھ لیتی ہے۔ 

ابتداء ہی میں تازہ غزل کا شعر مذکور ہواچاہتا ہے کہ شاعری کرنے والے ہاتھ جب نثر لکھتے ہیں تو محض تخلیق کا پیراہن ہی تبدیل ہوتا ہے…

نجومِ زندگی سیکھا ہے حفظ ماتقدم میں 

ادا ہونے سے پہلے کارروائی دیکھ لیتے ہیں

اس میں معاملہ کارروائی ہی کا ہے جس کا مقام نجوم زندگی تو ہوسکتا ہے آسمان سے نزول کے نذرانے نہیں اترتے وگرنہ کہتے …

سحر کے جاگنے والوں سے کچھ خفیہ نہیں رہتا

 اذان سحر میں اذانِ خدائی دیکھ لیتے ہیں 

زمیں پر قدم واپس اتارتے ہوئے مالیاتی ضمنی بل، سٹیٹ بینک بل دیگر مفاداتی بل عددی قطاروشمار اور تیسری قوت کا تذکرہ کرتے ہیں جیسے پیشانی پر ہجر کے مضمون آویزاں ہوتے ہیں اسی مانند بلوں، نے بھی پاس ہونا ہوتا واویلا کرنے کی ڈیوٹی بھی نبھائی جاتی ہے ہردوطرف تیسری قوت کی طعنہ بازی ہوتی ہے اور اس درجہ ہوتی ہے کہ ’’تیسری قوت ‘‘نے بھی اب جواب دینا تقریباً ترک کررکھا ہے۔ 

ایک مرتبہ مشرف صاحب (جنہیں احساس برتری کی وجہ سے)جھوٹ بولنے کی نہ ضرورت تھی اور نہ عادت فرمایا کہ یہ ڈرامے بازی کیوں؟ یہ فوجی انٹرایکشن کے طعنے کی واسطے ؟ ہم موجود تو ہوتے ہی ہیں آپ کے تسلیم کرنے نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے مزید برآں کہ رات کو جو شکلیں میں ٹی وی پر دیکھتا ہوں تو ہنستا ہوں کہ یہ سب کون ہیں؟آئی ایم ابو وآل دیز I am aboue all those۔اب مولانا فضل الرحمن کو بھی ’’منے کے ابا والا لطیفہ بس کردینا چاہیے پوری دنیا میں عسکری طاقت کی اپنی اہمیت ہوتی ہے اور سیاسی طاقت کی اپنی تاہم اپنا اپنا وقار بنائے رکھنایا خود کو رسوا کرنا بھی اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ویڈیوز کا رواج چل نکلا ہے تو  بدنامی کے بھبھکے کے بعد والی آسودگی کا اطمینان بھی مل گیا خاص طورجج ارشد اور محمد زبیر کے پراعتماد رویوں نے یہ تو ثابت کیا کہ ایسی باتوں سے نہ گھر ٹوٹتے ہیں نا سیاسی ساکھ بگڑتی ہے وہ کوئی پسماندہ شہر کے کسی قصبے کی غریب لڑکی کا محبت نامہ تھوڑی ہے جس سے معاشرے کی بنیادیں ہل جائیں یہ تو بڑے لوگوں کا فیشن بن گیا ہے ایوان فیلڈ کے محلات میں رہ کر کون ٹکے ٹکے کے یوٹیوب سے آمدنی کمانے والے بے چارے چینلوں سے گھبرائے سیاست دانوں، ان کی خواتین اور شوبز فیملی کے علاوہ خوشحال لوگوں نے نہ صرف کھل کر رقص وموسیقی شروع کردیا ہے بلکہ ویڈیوز کی سنسنی کو سرے ہی سے ختم کردیا ہے مجھے تو بس افسوس اس گھٹن زدہ ماحول میں ایک ٹیلیفون کال ایک آدھ تصویر اور ایک دوسرے کا ہاتھ چھولینے پر طلاقیں ہو جانے والے معاشرے کا ہے بڑے لوگوں کے رقص گانے خواتین کے ساتھ خلوتیں منہ چڑاتی ہیں ہم غریبوں کا صحیح یہ لوگ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں وہ سب کرکے بھی گھر ہی چلا رہے ہیں حکومتیں بھی چہرے پہ عرق انعفال کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا سیاست دان خواتین یا ان کے گھروں کی خواتین کے گھریلو شادیوں پر رقص کو کیا کیا لکھا جاتا ہے چینلز کچھ عرصہ اخلاقی حدود نہ ہونے کے باعث کمائیں گے بالآخر انگریز ہی ان کی نکیل کھینچیں گے۔ ایسا لگتا ہے دولت کے سامنے رسوائی کی کوئی حیثیت نہیں… آخر عزت دار گھرانوں نے ماڈلنگ کے زمرے میں بھی تو بیٹیوں کی تصویروں کو چوکوں میں بل بورڈ پر آویزاں کرکے ڈیفنس میں کوٹھیاں بنا ڈالی ہیں۔ 

آج پاکستان کے زیادہ تر طبقے کا ایمان یہی ہو چلا ہے کہ نہ الیکشن پاکستان میں بغیر پیسے سے جیتا جاسکتا ہے اور نہ کسی کا دل … زندگی کے چوچار بڑے رنج ہیں مجھے بھی ان میں کرنسی کو دیکھ اپنا خوش ہونا باقاعدہ المیہ لگا کہ وہ دن کہاں گئے جب رنگریز سے دوپٹہ رنگواکر چہرے پر حیا کے رنگ بکھر جاتے تھے دل چوڑیوں کی میچنگ کرتے کرتے کتنے ہلکورے لیتا تھا آج یہ ساری اصل دولتیں گنواکر کرنسی کو دیکھ کر خوشی ہوئی تو شاید اس لیے کہ اب محض سانس لینے کے لیے کرائے دینا پڑتے ہیں۔ 

عمران خان واقعی سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان کو تبدیل تو کیا ہی کرنا ہے اگلا الیکشن کیسے لڑنا ہے پچھلی اے ٹی ایم تو گئیں کہ کرپشن فری وزیراعظم کا ٹھپہ جب تک چلے کیا قباحت ہے کردار کا اصل فیصلہ تو سیٹ سے اترنے کے بعد ہوتا ہے مسلم لیگ ن تو بارہا کہہ چکی کہ اتنا ہی کرو جتنا سہہ سکو… بندربانٹ اور عوامی تماشہ میں اوپن باریاں لگتی ہیں جن میں معاوضے کے طورپر 15دن سے لے کر تین مہینے والے Obligedاوبلائیجڈ وزیراعظم بھی اپنی خدمات کے صلے میں لائے جاتے ہیں چودھری شجاعت والی آس مولانا فضل الرحمن کو بھی ہے سب کو اپنی اپنی حیثیت اپنی اپنی ممکنہ بلیک میلنگ اور نتیجے میں حصہ داری کا پتہ ہے اس ضمن میں شیخ رشید بھی کم دادکے مستحق نہیں کہ انہوں نے ہردور میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی رکھی بلکہ نہ اپنے سخت ترین جملوں پر شرمندہ ہوئے اور نہ دوسروں کے ان کے بارے چپراسی والے ہی ریمارکس کا مائینڈ …سیاست کا موجودہ چلن بھی یہی ہے جیسے مسلم لیگ ن والے مدتوں سے ووٹ کو عزت دو اور ڈیل ایمپائر ریفری میں تفاوت کی بات کرتے رہے اب بھلے شرارت بازی ہی سہی مگر ایاز صادق جیسے سنجیدہ سیاست دان کے منہ سے دبی چھپی ڈیل /ملاقات کی باتیں طشت از بام کروائی گئیں یہ بھی درست ہے کہ تحریک شروع ہوتی ہے لیکن بیچ ہی میں کہیں کمند ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بار بارگرہ لگاکر بالآخر پکا بندوبست ہوہی جاتا ہے…

زیادہ تر صحافیوں و تجزیہ کاروں کا یہ ہی کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں ایسی کوئی قیامت نہیں آگئی تھی کہ سٹیٹ بینک کی آزادی رہن رکھ دی جاتی اندھیروں میں ڈوبے ملک میں بالآخر بجلی کے میگاواٹ بھی تو اس قدر شامل ہوئے کہ اب ملک اندھیروں سے روشنی میں ہے …

مہنگائی کو پنجاب میں کنٹرول کرنے کے لیے گورنر چودھری سرور نے 14رکنی کمیٹی بنائی ہے جو وزیراعلیٰ بزدار کے زیرنگرانی ہے قانوناً تمام صوبے کے محکمے وزیراعلیٰ کے نیچے ہی ہوتے ہیں وہ اکثر و بیشتر کے پیٹرن چیف بھی ہوتے ہیں یہ بھی پہلی مرتبہ ہی سننے میں آیا کہ کمیٹی گورنر ترتیب دے اور پھٹی وزیراعلیٰ کی لگا دے زیادہ تر وزیراعلیٰ کی خاموشی کبھی بے بس تو کبھی کم آمیزی کے زمرے میں ڈالی جاتی ہے، لیکن حقیقت حال یہ کہ ’’محبوبیت ‘‘ کے لیے نہ تو کسی دلیل کی ضررت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی بہانے کی ماں کو بھی اپنا نالائق بچہ سب لائق بچوں سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔ 

بزدار صاحب کی یہ خوش قسمتی مزید ہے کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بالکل ہی زیرزمیں چلے گئے ہیں سندھ کا مختلف کلچر اور پیپلزپارٹی کی اجارہ داری ایک رونق سی بنائے رکھتی ہے مگر زرداری کی شخصیت کسی ایک صوبے میں مقید رہنے والی نہیں۔ بے نظیر کی المناک وفات پر ان کا پاکستان کھپے کا نعرہ اور شدید ترین خرابی ٔ صحت میں پاکستان رہنانہیں برے آدمیوں میں بڑا آدمی ہونے کا اعزاز ہے بڑے آدمی صرف اچھے آدمیوں ہی میں نہیں ہوتے بلکہ بعض مرتبہ تو شریف ترین لوگ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان سے ڈر الگ لگتا ہے اور اعتبار کسی بات پر نہیں آتا… جبکہ پنجاب کی تاریخ گواہ ہے ڈاکو شرفاء سے بہتر ثابت ہوئے ہیں اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوگا انہوں نے آئندہ انتخابات میں کون والے ڈاکو پسند کرنے ہیں … یہاں آئیڈیالوجی کی باتیں کون کرے روز روز قائداعظم پیدا نہیں ہوتے سوسالہ فرنگی حکمرانی مغل بادشاہ وامراء کی بے بسی نے کہیں انیسویں صدی کے وسط میں جاکر بڑے لیڈروں کو جنم دیا تھا اس کے پیچھے قلعہ بند بادشاہ کی بے بسی نئی دنیا کے قوانین اور اپنی ہی رعایا رہ چکی قوموں کا انتقام تھا اب تو الگ ملنے والے ٹکڑے کے بھی ٹکڑے ہوچکے جو کچھ ہے سامنے ہے بنارس کے ٹھگ اپنانے ہیں کہ پنجابی ڈاکو سندھی والے کہ کے پی والے چوائس آپ کی اپنی ہے…   

مصنف کے بارے میں