شہباز شریف کا وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

شہباز شریف کا وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

لاہور: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان  کو قومی ایئرلائن کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔


ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ قومی ادارے کو اربوں کا نقصان پہنچانے پر وزیراعظم مستعفی ہوں۔ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر ہوابازی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ ملک کے اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر کی حماقت سے پی آئی اے کو نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہیے؟ یہ حکومت، وزیراعظم اور وزیر ہوابازی جعلی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کے فضائی آپریشن پر پابندی عائد کردی تھی۔ امریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے پی آئی اےکو بذریعہ ای میل پابندی سےآگاہ کردیا تھا۔ پی آئی اے کو حاصل خصوصی پروازوں کا اجازت نامہ بھی  منسوخ کردیا گیا تھا۔پی آئی اے کوامریکہ کے لیے 12 براہ راست خصوصی پروازوں کی اجازت دی گئی تھی۔ قومی ایئرلائن امریکہ کے لیے 6 براہ راست خصوصی پروازیں آپریٹ کرچکی تھی۔

ذرائع کے مطابق 6 خصوصی پروازیں باقی تھیں جن کااجازت نامہ منسوخ کردیا گیا ہے۔

امریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے پابندی کپتانوں کے مشتبہ لائسنس کے معاملے کی وجہ سے لگائی تھی۔ آج امریکہ نے عالمی ہوا بازی میں پاکستان کی ایک درجے تنزلی کردی۔ امریکی ایوی ایشن ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کو کیٹگری 2 میں شامل کردیا ۔فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا اس ضمن میں مؤقف ہے کہ پاکستان، انٹرنیشنل ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سیفٹی معیار پہ پورا نہیں اترتا ہے۔کیٹگری ون میں ان ممالک کو شامل رکھا جاتا ہے جن کی ایوی ایشنزعالمی قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتی ہیں۔ آئی سی اے او ایوی ایشن سے متعلق اقوام متحدہ کے ماتحت ٹیکنیکل ایجنسی ہے۔

جن ممالک کی ایوی ایشنز کو کیٹگری ٹو میں شامل رکھا جاتا ہے انہیں امریکہ میں نئی خدمات پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔کیٹگری 2 میں شامل ہونے کے بعد سی اے اے کے پاس رجسٹرڈ فضائی کمپنیاں امریکہ میں صرف محدود پیمانے کا آپریشن جاری رکھ سکتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو امریکہ میں رجسٹرڈ کسی بھی کمپنی کے ساتھ کوڈ شیئرنگ کی اجازت نہیں ہو گی۔