افغانستان کی تبدیل ہوتی صورتحال اور پاکستان

Rana Zahid Iqbal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

افغانستان میں طالبان جنگجو تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور افغان حکومت اور فوج افغان طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ طالبان نے نہ صرف اہم شاہراہوں اور شہروں پر قبضہ کر لیا ہے بلکہ ایران سے متصل ایک اہم سرحدی راستے "اسلام قلعہ" اور پاکستان کے چمن بارڈر پر بھی قبضہ کر لیا۔ اسلام قلعہ افغانستان کی سرحد پر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تجارت اور آمد و رفت کا سب سے بڑا راستہ ہے جہاں سے ایران اور افغانستان کے درمیان دو کروڑ ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ اور چمن بارڈر افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہت اہم راہداری ہے جہاں طالبان نے قبضہ کر کے افغانستان کا پرچم ہٹا کر اپنا پرچم لہرا دیا ہے اور پاکستان کو مجبوراً چمن بارڈر بند کرنا پڑا ہے۔ چمن بارڈر سے دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف تجارت ہوتی ہے بلکہ یہاں سے آمد ورفت بھی ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہی صورتحال رہی تو افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا کے 6 ماہ کے اندر طالبان ملک پر قبضہ کر لیں گے۔ افغان حکومت گرنے کے نتیجے میں اگر 90کی دہائی کی طرح مختلف حصے مختلف لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جیسا کہ کچھ حصوں پر طالبان کا قبضہ ہو گیاہے اور کچھ حصوں پر دیگر قومیتوں اور لسانی گروہوں نے قبضہ کر لیا تو ایک بار پھر سے وہاں صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ 

عالمی طاقتوں اور دیگر ممالک نے افغانستان کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا اور جس طرح عجلت میں امریکہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے افغانستان کو چھوڑ کر جا رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں امن اس کی خواہش نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ یہاں بد امنی رہے۔ امریکہ نے افغان حکومت کو نظر انداز کر کے ڈائریکٹ طالبان سے مذاکرات کئے اور جو معاہدہ کیا وہ کسی طور بھی افغان حکومت کے حق میں نہیں تھادوسرا یہ کہ معاہدے میں ان سے جنگ بندی کوئی گارنٹی نہیں لی گئی اور نہ کسی سیاسی حل کے لئے کوئی روڈ میپ ترتیب دیا گیا۔ جب کہ پاکستان باوجود پوری کوشش کے طالبان کو سیاسی حل پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے، بظاہر لگتا ہے طالبان دنیا کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ اثر ہے۔  اتحادی افواج نے افغانستان میں امن کے قیام کے لئے قدم رکھا تھا لیکن دو دہائیاں گزرنے کے باوجود وہاں ابھی تک 

امن مفقود ہے جب کہ اس عرصہ کے دوران لاکھوں لوگ مارے گئے۔ ویت نام کے بعد افغانستان میں ایک بار پھر امریکہ کو تاریخی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ ویت نام اور طالبان مقابل جنگ میں امریکی شکست کی سب سے بڑی وجہ امریکہ اسلحہ بارود کے ڈھیر تو رکھتا ہے لیکن اس کے جوانوں میں جنگ کا جذبہ نہیں ہے اس کے فوجیوں میں لڑنے کی ہمت نہیں ہے، ساری دنیا پر اب یہ حقیقت آشکار ہوتی جا رہی ہے اور امریکہ کے آنے والے وقتوں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔   

اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ افغانستان میں جو کچھ ایک بار پھر سے شروع ہوا ہے اس کے اثرات سوات اور فاٹا میں بھی محسوس کئے جائیں گے خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا تھاافغانستان میں سول وار کے اثرات پاکستان میں آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے طالبان کی واپسی پر پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال بہت گمبھیر ہے کیونکہ ماضی میں بھی دیکھا گیا تھا جب افغانستان پر غیر ملکی افواج کے قبضے کے بعد ہماری مغربی سرحدوں کے قریب پاکستان کے وجود کے دشمن ملکوں کے قونصل خانوں، جاسوسی کے اڈوں اور تربیتی مراکز کی صورت میں اپنی سرگرمیوں کے پھیلاؤ لانے کے مواقع ملے تھے۔ شمالی اتحاد کا بھارت کے زیرِ اثر ایک گروپ 1990ء کی دہائی میں بھی سوات پر عملداری قائم کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔ اس صورت میں مقامی طالبان پھر سے افغان طالبان کی مدد سے اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی کوشش کریں گے۔ افغانستان کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بارڈر سے ملحقہ مقامات سے آ کر مقامی طالبان کی مدد سے دہشت گردی کے واقعات کا باعث بن سکتے ہیں۔ طالبان وہاں کے لوگوں کو ڈرانے کے لئے خوفناک ردِ عمل دے سکتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر حالات بدل رہے ہیں اور شائد ان علاقوں میں بھی وہ اثرات پھر آ جائیں جو 2007ء سے 2014ء کے درمیان تھے۔ القاعدہ جیسے عناصر بھی تقویت پکڑ سکتے ہیں۔

سوات اور فاٹا کے معاملات کو افغان مسئلے سے یکسر الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں مگر بات بھی مدِ نظر رکھنے کی ہے کہ اگر ہم اپنی حدود میں حالات پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں نہیں کریں گے تو عسکریت پسند عناصر اپنی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان کے بعض علاقوں پر عملداری قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ پاک افغان بارڈر پر 2611 کلو میٹر باڑ لگائی جا چکی ہے لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پاک افغان بارڈر ایسے دروں، غاروں اور پہاڑی راستوں سے بھرا ہوا ہے جہاں باڑ کا لگایا جانا بہت مشکل مرحلہ ہے، اس لیے یہاں سے لوگوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بند کرنا عملاً ممکن نہیں۔ اس منظر نامے میں افغان سر زمین سے چیچن، عرب، ازبک اور دیگر اقوام کے لوگوں نے سرحد پار آکر کمین گاہیں قائم کیں یا مقامی آبادی کو یر غمال بنایا تو اس سے صورتحال سنگین ہو سکتی ہے اور ہمارے سکیورٹی اداروں کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی بلکہ علاقے کے معاشی حالات بھی بد تر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

خطے کی بدلتی صورتحال میں اس وقت ملک جن حالات کا شکار ہے وہ حکمران یا کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی بات ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہئے اور یہ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب محبِ وطن حلقے، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو۔ تا کہ افغانستان میں تبدیل ہوتی صورتحال کے تناظر میں اتفاق رائے سے ایک واضح لائحہ عمل مرتب کر کے آنے والے مسائل کا بروقت تدارک کرنے کے قابل ہوا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس وقت ملک کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان " بیانات کی جنگ" جاری ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے مفاہمت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ سب جمہوریت میں معمول کی بات ہے لیکن ملک کی سا  لمیت و استحکام سب پر مقدم ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ کہیں سلامتی پر حرف تو نہیں آ رہا ہے۔ حکومت، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور میڈیا سمیت ہر طبقہئ فکر کے لوگوں کو بغیر کسی فکری الجھاؤ کے اس نقطہ پر متفق ہونا ہو گا کہ ہم نے ممکنہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کس طرح عہدہ برآ ہو نا ہے۔ اب جب کہ امریکہ یہاں سے نکل چکا ہے تو ہمیں اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ دہشت گردی کی جنگ کس نے شروع کی اور کون اس کا ذمہ دار ہے ہمیں آنے والے حالات کا سامنا اپنا ذاتی مفاد سمجھ کر اس سے نبرد آزما ہونا ہے۔