مشکل حالات میں مناسب بجٹ!

 مشکل حالات میں مناسب بجٹ!

بجٹ( budget)فرانسیسی زبان کا لفظ ہے، اس لفظ کا ماخذ فرانسیسی لفظ (bougette) ہے، جو بٹوے یا پرس کو کہتے تھے، یہ اصل میں اخراجات اور آمدنی کا تخمینہ ہوتا ہے۔ حکومتیںبجٹ سالانہ بنیادوں پر بناتی ہیں، آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں اور اخراجات اور آمدنی کا گوشوارہ یا بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرایا جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی اگلے مالی سال کا بجٹ گزشتہ ہفتے پیش ہوا، ایک مقروض ملک کا بجٹ کیسا ہو سکتا ہے، یہ تو سبھی جانتے ہیں مگر عوام کو اْمید ضرور ہوتی ہے کہ حکومت عام آدمی کے لیے بجٹ میں کیا لائے گی اور کیا نہیں! لیکن عرصہ دراز سے شاید ہی کوئی ایسا بجٹ دیکھا گیا ہو،جس میں عا م آدمی کے لیے کچھ اچھا ہو۔ اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اچھا اْسی صورت میں ہوگا جب ملکی معیشت بہتر انداز میں چل رہی ہوگی۔ 

اس دفعہ کے بجٹ کے حوالے سے اگر بات کی تو موجودہ حکومت یعنی پی ڈی ایم حکومت نے ساڑھے نو ہزار ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔بجٹ 2022-23میں سول حکومت کے اخراجات کے لئے 950ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،سبسڈیز پر 699ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 808ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔دفاع کے لئے 1500ارب روپے دیے گئے۔گرانٹس و ٹرانسفر کے لئے 1200ارب روپے جبکہ قرضوں پر سود اور اقساط کی ادائیگی کے لئے 3950ارب روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ میں 440ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔درآمدات کا ہدف 70ارب جبکہ برآمدات کا 35ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ مہنگائی اور معاشی ابتری کو دیکھتے ہوئے بجٹ میں رکھی گئی سکیموں کو خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔جس حساب سے اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں تنخواہ دار طبقے کی آمدن بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر جب 115کے لگ بھگ تھی تو اس وقت چھ لاکھ روپے سالانہ تنخواہ والے افراد پر انکم ٹیکس کا نفاذ جائز تھا۔افراط زر 23فیصد سے اوپر جا چکا ہے، اس صورت میں ٹیکس کے لئے کم سے کم سطح پر نظرثانی ضروری تھی۔حکومت نے ایک لاکھ روپے تک ماہانہ لینے والوں کو انکم ٹیکس سے چھوٹ دے کر نچلے تنخواہ دار طبقے کو دبائو سے آزاد کیا ہے۔حکومت نے طلباء کو آسان اقساط پر لیپ ٹاپ کی فراہمی اور انڈر گریجوایٹ وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔لیپ ٹاپ کے معیار اور سکیم کی شفافیت برقرار رہی تو اس کے فوائد سامنے آئیں گے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 15فیصد جبکہ پنشن میں 5فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جو لوگ سرکاری ملازمت میں ہیں یقینا ان کے لئے یہ فیصلہ خوش آئند ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد پرائیویٹ ملازمت ‘ محنت مزدوری اور کاروبار سے وابستہ ہے۔ان لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔

پاکستان میں بہت سے خدا ترس افراد سرکاری شعبے میں چلنے والے ہسپتالوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔عوام کی بڑی تعداد ان خیر خواہوں کے قائم ہسپتالوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔یہ خیراتی ہسپتال بڑی مشکل سے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں ایسے 50بیڈ کے ہسپتالوں کو ہر قسم کے ٹیکسوں سے چھوٹ دے کر کارخیر میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ بجٹ میں ایسے کئی فیصلے کئے گئے ہیں جن پر تنقید کی گنجائش موجود ہے۔ سابق حکومت نے صنعتوں کو جو مراعات دی تھیں وہ ختم کی جا رہی ہیں ، گویا برآمدات سکڑ جائیں گی۔بجلی کے بلوں میں پہلے ہی کئی طرح کے ٹیکس شامل کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی صارفین ان لوگوں کے حصے کا ٹیکس ادا کرنے پر بھی مجبور ہیںجن کے نام پر بجلی کا میٹر نہیں لگا ہوا۔تازہ فیصلہ یہ ہوا ہے کہ چھوٹے دکانداروں سے سالانہ 10ہزار کے قریب فکسڈ ٹیکس لیا جائے گا۔یہ ٹیکس بجلی کے بل کے ساتھ وصول کیا جائے گا۔تاجر طبقہ کے لئے کئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔سب سے برا فیصلہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے متعلق ہوا ہے۔پراپرٹی کی خریدوفروخت پر فائلر پر دو فیصد جبکہ نان فائلر پر 5فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔یہ شرح کافی زیادہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے نے سب سے زیادہ آبادی کو روزگار فراہم کر رکھا ہے۔

درحقیقت معیشت دانوں کے نزدیک ملکی معیشت چلانے کے چار طریقے ہیں، پہلا طریقہ برآمدات بڑھانا ہے۔ ملک میں ایسی چیزیں بنائی جائیں یا پیدا کی جائیں جنہیں بیرونِ ملک بیچا جا سکے۔ معیار پر سمجھوتہ نہ ہو اور قیمت بھی دوسرے مدمقابل ممالک سے کم رکھی جائے۔ اس طرح زرمبادلہ آ ئے گا، ڈالرز کے ذخائر بڑھیں گے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اورمعیشت کا پہیہ چلتا رہے گا۔ یہ سب سے بہتر طریقہ ہے اور دنیا کے نوے فیصد ترقی یافتہ ممالک اسی پر انحصار کرتے ہیں۔دوسرا طریقہ عوام پر ٹیکس لگا کر پیسہ اکٹھا کرنا ہے۔ جب ملکی ادارے چلانے کے لیے پیسے ختم ہونے لگیں تو نیا ٹیکس لگا دیں، عوام مجبور ہو کر ٹیکس دے گی۔ یہ طریقہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ کیوں کہ اس میں براہ راست عوام متاثر ہوتے ہیں اور حکومت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں یہ مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اگر عوام پر نیا ٹیکس لگایا جائے تو اس کے بدلے سرکار سہولیات دے کر عوام کا غصہ کم کر دیتی ہے جبکہ تیسری دنیا کے ملکوں میں ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور سہولیات بھی چھین لی جاتی ہیں۔ اس لیے یہ طریقہ زیادہ مقبول نہیں ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ یہ طریقہ غلط ہے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ تیسرا طریقہ قرض لے کر ملک چلانا ہے۔ پہلے ایک ملک سے مناسب شرائط پر قرض لیں، جب ان کی ادائیگی کا وقت آئے تو دوسرے سے تھوڑی سخت شرائط پر قرض لے لیں اور جب کوئی بھی ملک قرض دینے سے انکار کر دے تو ملکی اثاثے گروی رکھوا کر قرض لینا شروع کر دیں۔ اس طریقہ کار سے ایک عرصہ تک تو ملک چلتا رہے گا لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ ملک کی نیلامی شروع ہو جائے گی۔ ملک آپ کا رہے گا اور نہ ہی اس کے اثاثوں پر آپ کا کوئی حق ہو گا، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آجکل ہو رہا ہے۔ یہ بدترین طریقہ ہے۔اس کا تباہی کے علاوہ دوسرا کوئی نتیجہ نہیں ہے۔چوتھا طریقہ یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے ملک میں بنائی اور اْگائی جائے، کسی پر بھی انحصار نہ کیا جائے۔ نہ باہر سے کچھ آئے اور نہ جائے۔ یہ آئیڈیل صورتحال ہے لیکن آج کے دور میں یہ تقریباً ناممکن ہے۔کیوں کہ دنیا ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کے لیے جڑی ہے، لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ اس بجٹ کے بعد آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ کرے تاکہ ہم مشکل ترین معاشی حالات سے نکل سکیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے ، اس کے علاوہ ایسے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو سب کی نظروں سے اوجھل ہیں مگر وہ اچھا خاصا مال بنا رہے ہیں۔ لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کرے اور زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر زور دے تاکہ ٹیکس کے اہداف بھی پورے کیے جاسکیں اور جو لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے!ورنہ ہم بجٹ کے گورکھ دھندے میں پھنسے رہیں گے اور ملک کا کچھ نہیں ہوگا!

مصنف کے بارے میں