پنجاب کا امریش پوری

پنجاب کا امریش پوری

ہیرو ایک دم سے ولن کیسے بن جاتا ہے اس کی تازہ ترین مثال چودھری پرویز الٰہی ہے جو اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ حقیقت میں وہ یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب اسمبلی ان کی ذاتی جاگیر ہے جہاں ان کی مرضی اور منشا کے خلاف کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ چودھری پرویز الٰہی نے عمران خان کی کشتی میں سوار ہو کر برسوں میں کمائی گئی عزت کا دھڑن تختہ کر دیا۔ وہ آج جس مقام پر ہیں اس کا انتخاب بھی انہوں نے خود کیا تھا ورنہ وہ آج وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے۔ ایک ٹیلی فون کال پر وہ ڈھیر ہو گئے اور راتوں رات آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیے گئے عہد وپیمان بھول گئے۔ چلیے یہاں تک بھی ٹھیک تھا کہ آپ مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں چل سکتے مگر یہ کیا کہ آپ اس ضد پر آجائیں کہ اسمبلی کی کارروائی نہ چلنے دیں۔ دس از ٹو مچ۔ جناب پرویز الٰہی صاحب یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور اب آپ کا حال وہی ہے کہ آپ کہیں کے نہیں رہے۔ دلی احترام کے باعث میں جان بوجھ کر اس موقع پر مستعمل اصطلاح کو یہاں نہیں لکھ رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے وقت آپ نے جس کردار کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کے صفحات میں رقم ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف خود کچھ کرنے سے قاصر ہے تو انہوں نے کامیابی کے ساتھ آپ کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور شاید آپ کے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا کہ آپ ان کے منصوبے کو آگے بڑھائیں۔ آپ کے کزن چودھری شجاعت حسین اور ان کا خاندان تو آپ سے دوری اختیار کر چکا ہے۔ مسلم لیگ ق بھی آپ سے چھن چکی ہے اور آپ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تحریک انصاف کرے گی۔

وقت تیزی کے ساتھ گذر جاتا ہے اور اگر صحیح فیصلہ نہ کیا جائے تو پھر خسارے کا سودا۔ تحریک انصاف جس طرح نظام کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے اس سے اس کو عوامی حمایت تو شائد تھوڑی بہت حاصل ہو جائے مگر جو قوتیں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں وہ ان سے دور ہوتی جائیں گی۔ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان کو جب اقتدار ملا تھا تو کس طریقے سے ملا تھا اور کس طرح ان کے غبارے میں پھوک بھری گئی تھی۔ وہ کون تھا جس نے الیکٹ ایبلز کو گھیر کر ان کی پارٹی میں شامل کیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے حوالے سے ہونے والی سازشوں کو ایک طرف رکھیں مگر جاننے والے یہی کہتے ہیں کہ جنہوں نے اقتدار دلایا تھا انہوں نے ہی واپس چھین لیا۔ پنجاب میں ہونے والے آئندہ ضمنی انتخابات میں انہیں اپنی مقبولیت کا اندازہ بخوبی ہو جائے گا۔ اس کے باوجود کہ موجودہ حکومت کے دور میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور گزشتہ حکومت کی بدتدبیری کے باعث ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کی جیتی گئی زیادہ تر نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ہر روز پاکستان کے 

خلاف امریکی سازش کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ بات کی جاتی ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر سے کہا گیا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ یہ کیسی سازش ہے جس کا اظہار پاکستان کے سفیر سے کیا جا رہا ہے اور سفیر کا تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے یا ناکام بنانے میں کیا کردار ہے؟ سفیر تو حکومت پاکستان کا نمائندہ ہے اور اس نے اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت کو رپورٹ کرنا ہے۔ اس سوال کا جواب کوئی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بس سازش سازش کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔ ایک بزرگ نے کہا تھا کہ ہر شخص کی قسمت میں چند بیوقوف ضرور ہوتے ہیں اور تحریک انصاف کے پاس اس کی تعداد کافی زیادہ ہے سو وہ سر دھن رہے ہیں اور جھولیاں اٹھا کر یہ بددعائیں دے رہے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہو جائے۔ وہ ملک سے زیادہ عمران کی محبت کے اسیر ہیں۔ نیوٹرلز بھی اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں کہ انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان کو ایک ناتجربہ کار کے ہاتھوں میں سونپ دیا اور اس کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے۔ معاف کیجیے عمران کو اقتدار عوام نے نہیں دلایا تھا نیوٹرلز نے سارا کھیل ترتیب دیا تھا اور اپنے مہروں کو آگے پیچھے کیا تھا۔

تحریک انصاف ملک کے اندر سیاسی بحران میں شدت لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور پرویز الٰہی کی صورت میں اسے ایک فرد مل گیا ہے جو ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہے۔ بجٹ اجلاس کو جس طرح پرویز الٰہی چلا رہے تھے اور جس رعونت کا مظاہرہ کر رہے تھے اس کے بعد گورنر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ اس اجلاس کو برخاست کریں اور نیا اجلاس بلا کر پنجاب کا بجٹ پیش کرائیں۔ عطا تارڑ کی ایوان میں موجودگی پر جس طرح ہنگامہ کیا گیا وہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔ غیر منتخب وزیر چھ مہینے تک اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کر سکتا ہے اور یہ بات آئین کے اندر درج ہے۔ کیا پرویز الٰہی کو اس کا نہیں پتہ۔ امریش پوری کو سب علم ہے مگر تحریک انصاف کی محبت میں وہ حد سے گذر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ آپ کے فرزند ارجمند چودھری مونس الٰہی کس حیثیت سے پنجاب اسمبلی میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں اپنے ذاتی ملازمین کی فوج کو بھرتی کر لیا۔ اسمبلی میں ایک بھی ایسا ملازم نہیں ہے جس کا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے چودھری پرویز الٰہی سے نہ ہو۔ 

پنجاب کا بجٹ آج ہونے والے اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایوان اقبال میں بلایا گیا ہے اور اس کی صدارت ڈپٹی سپیکر کریں گے لیکن یہ کوئی حل نہیں ہے۔ دو دن تک چودھری پرویز الٰہی نے اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لیے پنجاب کا بجٹ پیش نہ ہونے دیا اور یہ مطالبہ کرتے رہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی ان کے حضور پیش ہوں اور تحریک انصاف اور ق لیگ کے ہر رکن اسمبلی سے فرداً فرداً معافی کے خواستگار ہوں۔ خیر یہ تو ہونا نہیں تھا اور اس کا حل یہ نکلا کہ نیا اجلاس ایوان اقبال میں بلا کر بجٹ پیش کر دیا گیا۔ دوسری طرف سپیکر نے الگ سے اپنا اجلاس بلا لیا ہے جس میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے اراکین اسمبلی کو شریک ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہ تماشا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔ عمران خان اور پرویز الٰہی مل کر پنجاب کے حالات کو اس نہج تک لے کر جانا چاہتے ہیں کہ صوبہ میں حکومت نام کی چیز باقی نہ رہے۔ موجودہ حکومت کو ان مسائل کا سامنا اس وقت تک رہے گا جب تک وہ ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر لیتے۔ اگلے ماہ خالی ہونے والی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کا نتیجہ بھی مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

پنجاب میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بجٹ کے حوالے سے ایک سمجھوتہ ہو گیا تھا جس کے تحت حکومت اس بات پر راضی ہو گئی تھی کہ وہ اپوزیشن کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمات کو واپس لے۔ اس کے باوجود سپیکر پرویز الٰہی نے اجلاس کو چلنے نہیں دیا اور یہ سمجھوتہ ہٹ دھرمی کی نذر ہو گیا۔ بھارتی فلموں کو معروف ولن امریش پوری بھی کسی نہ کسی سٹیج پر اپنی غلطی کو مان لیتا ہے مگر اپنا امریش پوری اس سے بڑا ولن ثابت ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ انہیں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کر دے۔

مصنف کے بارے میں