"فٹبال کے ساتھ ہی کھیل جاری"

سورس: File

تحریر: ارسلان جٹ

رواں سال قطر میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ میں استعمال ہونے والا فٹبال کے حوالے سے چند روز قبل یہ خبر آئی کہ یہ فٹبال پاکستان کے بنے ہوئے ہوں گےتو سوشل میڈیا پر پاکستانیوں بالخصوص فٹبال فینز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جس کے بعد دلچسپ تبصرے بھی دیکھنے کو ملے کہ ہم لوگ صرف اس بات پر خوش ہوجاتے ہیں کہ 22 کروڑ  کےملک کی ٹیم ورلڈ کپ میں نہیں کھیل رہی تو کیا ہو ا ہمارا فٹبال تو ہر میچ میں استعمال ہورہا ہے  ۔ اس دوران 7 جون کو فرانسیسی سابق فٹبالر کرسچن کریمبیو کی سرپرستی میں ورلڈ کپ کی ٹرافی 51 ممالک کے ورلڈ ٹور پر  موجود ہے وہ بھی ٹرافی لے کر پاکستان پہنچے نجی ہوٹل میں تقریب سجی اور فینز نے ایک بار پھر فخر کا بھرپور اظہار کیا اور تقریب میں بھی پاکستان کے سابق کپتان کلیم اللہ ، کپتان صدام حسین ، ویمن فٹبالر ہاجرا خان تو شریک ہوئیں لیکن ساتھ ہی ساتھ  گلگت، ہزاراہ، لیاری  کے علاقوں سے فٹبال کھیلنے والی کچھ جذباتی کہانیاں بھی سنائی گئی ۔

یقینا پاکستان میں فٹبال کا ٹیلنٹ بھی ہے اور مداح تو کرکٹ سے بھی کہیں زیادہ ہیں پاکستان میں کبھی لوکل کرکٹ میچ ہو تو شاید ہی کوئی دیکھنے کے لیے گراؤنڈ کا رخ کرتا ہو لیکن  فٹبال کے کلب لیول کے میچوں میں کوئٹہ ، کے پی اور لیاری کے علاقوں  میں گراؤنڈ میں جگہ کم پڑ جاتی ہے جو پاکستان میں فٹبال کے جنون کی گواہی دیتا ہے۔ چیمپئنز لیگ کا فائنل بھی پچھلے ہفتے ہوا جس میں رئیل میڈرڈ اور لیورپول کی ٹیمیں مدمقابل ہوئیں اس فائنل میچ میں بھی کسی ٹیم کا تعلق یا میچ کا کوئی تعلق نہ کوئی کھلاڑی نہ کوئی مینجمنٹ میں پاکستان کا کوئی کردار تھا صرف اس میچ میں استعمال ہونے والا فٹبال پاکستان سے تھا لیکن پاکستان کے اندر جگہ جگہ بڑی سکرین لگائی گئیں  اورسینماہالز میں بھی میچ دکھایا گیا ۔

ایکسپوسنٹر میں لگنے والی سکرین کے موقع پر میں خود موجود تھا جہاں میں نے دیکھا کہ ایکسپوسنٹر میں فائنل دیکھنے والو ں کی جگہ کم پڑ گئی ۔یہ تمام چیزیں پاکستان کی فٹبال سے وابستگی اور محبت کی نشانی ہیں لیکن یہ تمام چیزیں اس وقت دکھ کا باعث بن جاتی ہیں جب کسی سے پاکستان کی فٹبال کی ٹیم کے بار ےمیں سوال کیا جاتا ہے تو پاکستانی ٹیم کہیں نظر نہیں آتی جس کی بڑی وجہ فیڈریشن میں دو گروپوں کی رسہ کشی ہےاقتدار کا نشہ اور آپسی لڑائی انا پسندی نے ملک میں فٹبال کے مستقبل کو تاریک بنا دیا۔پاکستان میں پچھلے کئی سال سے یہ جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو پہلے بھی تین سال تک پابندی کا سامنا رہا ہے  جبکہ اس وقت بھی پاکستان  کی رکنیت معطل ہے حتی کہ اشفاق گروپ جنہوں نے فیفا کی نامزد کردہ نارملائزیشن کمیٹی کو فیفا ہاؤس سے نکال کر  قبضہ کیا آئی پی سی مداخلت کے بعد فیفا ہاؤس کو نارملائزیشن کمیٹی کو معاملات تو سونپ دیئے تاہم اکاؤنٹس کلیرنس کا معاملہ تاحال کورٹ میں التواء کا شکار ہے جب تک اکاؤنٹس کا معاملہ بھی حل نہیں ہوگا تب تک فیفا پاکستان کی رکنیت بحا ل نہیں کرے گا ۔

پاکستان کی رکنیت بحال ہونے کے بعد ہی فیفا کی نامزد کردہ کمیٹی جس کے چئیرمین ہارون ملک ہیں ا ن کے پاس اختیارات آئیں گے کہ وہ معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے کلب سکرونٹی کے بعد الیکشن کرائیں جو بظاہر ابھی ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ پاکستان میں یہ لڑائی فیصل صالح حیات کے طویل دورانیہ اقتدار میں رہنے سےشروع ہوئی جو اب تک جاری ہے کبھی عامر ڈوگر، اشفاق حسین  گروپ تو کبھی نارملائزیشن کمیٹی ۔یہ کھیل اصل میں فٹبال کے ساتھ ہی کھیلا جارہا ہے جس سے پاکستان میں موجود پاکستانی فٹبالر پریشان ہیں۔

پاکستان کے کپتان صدام حسین ایک ٹی وی چینل پر بیٹھے انٹرویو دے رہے تھے کہ پاکستان کے فٹبال  کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور لائیو پروگرام میں رونا شروع کردیا وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیل گئی اور انٹرنیشنل صحافیوں کی طرف سے بھی اس پر خیالات کا اظہار کیا گیا دراصل صدام حسین کا جذباتی ہونا پاکستانی کھلاڑیوں کے اس درد کی ترجمانی کر رہا تھا جو وہ پچھلےکئی سالوں سے پاکستان کی فٹبال فیڈریشن کی وجہ سے برداشت کررہے ہیں صدام حسین نے ان لڑکوں کے خوابوں کاذکر کیا تھا جس کا شکار وہ خود بھی ہوئے تھے کہ خواب ٹوٹنے کا درد کیسا ہے جب آپ دن رات محنت کرتے ہیں ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن آ پ بے بس ہوتے ہیں ۔صدام حسین نے ڈیپارٹمنٹ سپورٹس بند ہونے پر لڑکوں کے بے روزگار ہونے کا ذکر جب کیا تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ٹرافی رونمائی تقریب میں میری ملاقات جب صدام حسین سے ہوئی تو میں نے جب انہیں جذباتی ہوجانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ آپ خود بتائیں کیا ہمارے لڑکے کا کوئی حق نہیں کہ وہ اپنی محنت اور لگن کے بدلےکچھ حاصل کر سکیں ۔

پاکستان میں فٹبال فیڈریشن میں کوئی گروپ ہو نارملائزیشن کمیٹی ہو ہمیں کسی سے کوئی سروکار نہیں ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ملک پاکستان کے لیے کھیلنا ہے اور انٹرنیشنل ایونٹس میں جانا ہے لیکن یہاں کی سیاسی رسہ کشی نے ہمارے مستقبل کو تباہ کردیا ہے ہم نے یہ ساری چیزیں برداشت کرلی ہیں ۔ پاکستان میں کوئی لیگ سسٹم نہیں ڈیپارٹمنٹ سپورٹس چل رہی تھی لڑکوں کا روزگار لگا ہوا تھا لیکن اب وہ بھی ختم ہوگیا ۔ ہم نے اپنے چند لڑکوں کے لیے تو عدالت میں معاملہ اٹھا یا ہے اور ہماری تو تگ و دو جاری ہے لیکن جن لڑکوں کا کنٹریکٹ رینیو نہیں ہوسکا وہ کہاں سے کھیلیں گے کسی بھی فرد کے لیے کھیل کے ساتھ ساتھ روزگار بھی اہم ہوتا ہے جب کسی کی جیب میں کھانے کو کچھ ہوگا نہیں تو وہ کیونکر کھیل کی طرف آئے گا ہم نے پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ دیکھا ہے ہم کئی ایونٹس سے محروم ہوگئے ہیں ویمن ایونٹس سے محروم ہوئے ہیں ہماری فیڈریشن جب معطل ہوتی ہے تو ہم کسی دوسرے ملک میں بھی کھیلنے کے قابل نہیں ہوتے ہم کہیں بھی جائیں تو ہم سے پہلا سوال ہی یہ ہوتا  ہے کہ پاکستان پر تو پابندی عائد ہے ہم سے وجوہات پوچھی جاتی ہیں تو ہم شرمندہ ہوتے ہیں ۔

ہم نہیں کہتے کہ فلاں سپورٹس کو اہمیت دی جاتی ہے فلاں کو نہیں فلاں کو لوگ زیادہ دیکھتے ہیں فلاں کو نہیں ۔ ہمیں کسی بھی چیز سے سروکار ہی نہیں ہم فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں  اس کے لیے کوئی بھی سامنے آئے اور بس ہمیں کھیلنے دے ہمیں انٹرنیشنل میچزز ملیں ہمارے ملک میں لیگ  ہو کھلاڑیوں کو اچھے پیسے ملیں۔ صدام حسین نے کہا کہ ہمسایہ ملک نے مین اور ویمن دونوں لیگز شروع کیں انہوں نے غیر ملکی کوچزز کو لگایا پلئیرز کو بلایاانٹرنیشنل میچزز کھیلے اور آج رینکنگ میں ان کی واضح برتری ہے ہم نے ان کو ہرایا تھا اور آج جب ہمارے پاس میچزز ہی نہیں ہیں تو ہم کیسے رینکنگ بہتر کر لیں ۔ پاکستان میں فٹبال لڑکوں ہی نہیں لڑکیوں میں بھی بہت مقبول ہورہی ہے لیکن کسی کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے روڈ میپ فیڈریشن دیتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ان کی توجہ ہی کسی اور جانب ہے۔ ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھا لی ہے  کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

صدام حسین کی جانب سے تجاویز بھی دی گئیں کس طرح ہم اپنے ملک میں فٹبال کو دنوں کے اندر اس مقام پر لا سکتے  ہیں ۔ قومی ٹیم کے کپتان کے ساتھ جتنی دیر بھی کھڑے رہے اور باتیں ہوئیں تو  ان کی باتوں نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کتنا ظلم کررہے ہیں ۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ دنیا بھر میں میں مقبول ترین کھیل یوں زوبوں حالی کا شکار ہے۔اگر اب بھی اس کھیل کو بچانا ہے تو ہمارے اسٹیک ہولڈرز، حکومت کو آگے آنا ہو گا۔ اکاؤنٹس کے معاملات حل ہوتے ہی نارملائز یشن کمیٹی کو دن رات کرکے جلد از جلد الیکشن کراکر نئی باڈی کو مینڈیٹ دینا ہوگا تاکہ پاکستان میں فٹبال کا کوئی روڈ میپ تیار ہو اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں ڈیپارٹمنٹ سپورٹس کی بحالی بہت ناگزیر ہوچکی ہے موجودہ حکومت نے اپوزیشن میں تو دن رات شور مچایا تھا لیکن اب اقتدار میں آ کر ایک نوٹیفیکشن جاری کرنا بھی ممکن نہیں ہوپا رہا جس وجہ سے کھیل اور کھلاڑی دونوں متاثر ہورہے ہیں.

مصنف کے بارے میں