بدقسمتی سے یورپ میں اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے، وزیر خارجہ

بدقسمتی سے یورپ میں اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے، وزیر خارجہ
تفتیش سے بات سامنے آ جائے گی کہ ملزمان کا مشن کیا تھا، شاہ محمود قریشی۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

ملتان: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اس وقت ہمارے تقریباً 9 کے قریب لوگ لاپتا ہیں جن کی کل سے تلاش کر رہے ہیں۔ لاپتا افراد کے موبائل فون بند ہیں جبکہ متاثرہ فیملی سے رجوع کریں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔


وزیر خارجہ نے کہا کہ کرائسٹ چرچ میں 300 کے قریب پاکستانی مقیم ہیں۔ زخمیوں کی فہرست سامنے آ چکی ہے اور زخمیوں میں ایک پاکستانی کا نام شامل ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یورپ میں بدقسمتی سے اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے اور نیوزی لینڈ میں اس قسم کا واقعہ کبھی نہیں سنا۔ اس واقعے کو دہشت گردی تسلیم کیا گیا ہے اور تفتیش سے بات سامنے آجائے گی کہ ملزمان کا مشن کیا تھا۔

پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے اور ہماری تو پہلے روز سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش تھی۔ بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا بھارت میں سنجیدہ لوگوں پر اثر ہوا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 19 مئی تک مودی سرکار سے کوئی بعید نہیں کیونکہ بھارت کے انتخابات کا عمل 19 مئی تک پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ مودی سرکار سے کوئی توقع نہیں کہ وہ کوئی قدم اٹھائے اور ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کے لیے آئندہ میٹنگ 2 اپریل کو ہو گی اور پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کافی عرصے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں واضح اور ٹھوس قرار داد مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آئی، پہلی بار او آئی سی قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ذکر کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو نابینا اور ان کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی کوشش رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو دبائے رکھے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینا چاہتا ہے۔ ہمارا مؤقف ہے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کی جدوجہد ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اللہ کرے ہم عافیہ بی بی کو رہا کرانے میں کامیاب ہو جائیں۔ عافیہ کی رہائی کے لیے پاکستان نے بہت کوششیں کی ہیں اور جب بھی امریکا سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا قوانین آڑے آتے ہیں۔