سمندری طوفان سے پاکستان کو شدید خطرہ لاحق نہیں، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

Cyclone poses no serious threat to Pakistan, Meteorological Department predicts
کیپشن:   فائل فوٹو

کراچی: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ سمندری طوفان 'تاؤتے' آئندہ ایک روز میں شدید صورتحال اختیار کرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں آگے بڑھے گا تاہم اس سے پاکستان کو کوئی سنگین خطرہ لاحق نہیں ہے۔

17 سے 20 مئی کے دوران سانگھڑ، عمر کوٹ، میرپور خاص، تھرپارکر، بدین، سجاول اور ٹھٹہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز یہ طوفان انڈیا کی ریاست گجرات سے ٹکرائے گا لیکن پاکستان کے ساحلی علاقے اس کی شدت سے محفوظ رہیں گے کیونکہ یہ سائیکلون بار بار اپنی سمت کو تبدیل کر رہا ہے۔ ہفتے کی صبح تک اس کی شدت خطرناک لگ رہی تھی لیکن اب بظاہر ایسا نظر نہیں آ رہا۔

تاہم اس طوفان سے صوبہ سندھکے ساحلی علاقوں گرج چمک کیساتھ تیز بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس دوران کراچی کا موسم شدید گرم ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ سائیکلون پاکستان میں داخل ہوا تو اس سے سمندری ہوائیں رک جائیں گی، کراچی شہر اور اس کے گردونواح میں شدید حبس رہے گی جبکہ درجہ حرارت 43 سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 2020ء کے دوران پاکستان میں کوئی سمندری طوفان نہیں آیا تھا۔

2010ء کے دوران بلوچستان کے ساحلوں سے فیٹ نامی طوفان ٹکرایا تھا۔ اس طوفان سے ہونے والی بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم کرکے رکھ دیا تھا۔

اس سے قبل 1999ء میں آنے والا طوفان سائیکلون '2 اے' انتہائی تباہ کن ثابت ہوا تھا۔ صوبہ سندھ کے شہروں بدین اور ٹھٹھہ میں داخل ہونے والے اس طوفان نے بہت زیادہ تباہی پھیلائی تھی۔ 2007ء میں ماڑا، پسنی اور گوادر کے ساحلوں سے یمین سائیکلون ٹکرایا تھا۔