شیریں مزاری کا خط …؟

شیریں مزاری کا خط …؟

سابق وفاقی وزیراورپاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری ریاست پاکستان کے خلاف شکایت لے کرعالمی اداروں تک پہنچ گئی ہیں عالمی اداروں کوانہوں نے شکایت لگائی ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت قانون کاغلط استعمال ہورہاہے عالمی طاقتیں پہلے ہی اس قانون کو ختم کرانے کے در پے ہیں اب پی ٹی آئی نے انہیں ایک جوازفراہم کردیاہے کہ اس شکایت کوبنیادبناکرپاکستان پردبائوڈالاجائے کہ توہین رسالت کے قانون کوختم کیاجائے ۔یہ ہے اس ایجنڈے کاایک حصہ جوپی ٹی آئی لے کربرسراقتدارآئی تھی مگربادل نخواستہ وہ اس کی تکمیل نہیں کرپائی تھی لیکن شیریں مزاری اس ایجنڈے سے غافل نہیں ہوئیں انہوں نے موقع ملتے ہی واردات کرڈالی ۔

شیریں مزاری کایہ خط دراصل پاکستان کے خلاف ایک مقدمے کی بنیادہے کیوں کہ پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت اورسابق حکمران جماعت کی ایک رہنما کی طرف سے یہ مقدمہ قائم کیاگیاہے اگرچہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے خطوط لکھے جاتے رہے ہیں مگران کی اتنی اہمیت نہیں تھی ۔اس خط سے یہ بھی ثابت ہواہے کہ پاکستان اورتوہین رسالت قانون کے خلاف یہ مقدمہ انہوں نے عمران نیازی کی رضامندی سے کیاہے ۔عالمی سازش اورمداخلت کاڈھنڈورہ پیٹنے والوں نے ازخود عالمی طاقتوں کوپاکستان میں مداخلت کی دعوت دی ہے ۔

 عمران نیازی اب تک اس پرخاموش ہیں اوریہ خاموشی ان کی رضامندی کی دلیل ہے عمران نیازی کایہ وتیرہ ہے کہ وہ مذموم مقاصدکے لیے اپنے کارندوں کوآگے کرتاہے اورخود خاموشی کی چادراوڑھ لیتاہے بلکہ شیشے کے پیچھے بیٹھ کرتماشادیکھتاہے ،یہی کچھ عمران نیازی نے مدینہ منورہ میں کرایا اپنے کارندوں کے ذریعے دربار رسولؐ اور مسجد نبویؐ کا تقدس پامال کرایا مذموم نعرے بازی کرائی اورمنصوبہ بندی سے مقدس مقامات کواپنی گندی سیاست سے آلودہ کیاحسب معمول عمران نیازی اس پرخاموش اختیارکیے رکھی اورعوامی دبائوکے باوجودواقعہ کی مذمت کرنے سے اجتناب کیا ۔

مسجدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کاواقعہ پوری منصوبہ بندی سے کیاگیا ہے واقعہ کے عینی شاہد پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہرمحمود اشرفی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ مسجد نبویؐ کی توہین باقاعدہ منصوبہ بندی سے کی گئی بلکہ مسجدنبوی میں ہلڑبازی صرف ایک مقام پرنہیں ہوئی ، فسادی گروہ دوسے تین مقامات پرموجود تھے جنھوں نے ایک پلان کے تحت یہ سب کچھ کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ مسجدنبوی میں کیا گیا وہ سوسالہ تاریخ میں نہیں ہوا۔ علامہ طاہراشرفی کا شمار عمران نیازی کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے انہوں نے بھرپور طریقے سے عمران نیازی اور ان کی حکومت کا دفاع کیا مگر مسجد نبوی کے واقعہ پر وہ بھی خاموش نہ رہ سکے اس سے اندازہ لگائیں کہ تحریک انصاف کی قیادت اقتدار سے محرومی کے بعد کہاں تک جا سکتی ہے۔

یہ بات ریکارڈ پرموجود ہے کہ پی ٹی آئی رہنمائوں نے مسجدنبوی کی توہین پرفتح کے شادیانے بجائے ،سابق وزیرداخلہ شیخ رشیدکے بھتیجے اورممبرقومی اسمبلی شیخ راشدشفیق نے مسجدنبوی میں کھڑے ہوکراسے عمران خان کی فتح قراردیاپی ٹی آئی کے سوشل میڈیاونگ اوران کے حامیوں نے اس اقدام کی حمایت میں من گھڑت جوا زتراشے ،اورتاحال وہ اس مشن پرلگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے اس واقعہ کی مذمت تک نہیں کی گئی جس پرقانون حرکت میں آیاتوشیریں مزاری اپنی شکایت لے کرعالمی اداروں کے پاس پہنچ گئیں حالانکہ شیریں مزاری کانام ایسے کسی مقدمے میں درج نہیں ہے۔جولوگ یہ کہتے ہیں کہ مسجدنبوی کاواقعہ منصوبہ بندی سے نہیں ہوابلکہ عوامی ردعمل تھا توان سے سوال ہے کہ حکومتی وفدنے اگلے روزمکہ مکرمہ میں عمرہ کی سعادت حاصل کی حرم مکی میں بھی پاکستانی موجودتھے وہاں اس طرح کی نعرے بازی کیوں نہ ہوئی ؟

یہ عمران نیازی کی بدنصیبی ہے کہ اس نے اقتدارسے محروم ہونے کے بعد رمضان کی مقدس راتوں کوناچ گانوں کی نذرکردیااورپورارمضان یہ طوفان بدتمیزی چلتارہااورجب ستائیسویں رمضان کوشب دعاکاناٹک رچایاتواس رات ایک طرف مسجدنبوی کی توہین کرائی اوردوسری طرف بنی گالہ میں منعقدہ محفل میںمولاناطارق جمیل اورعمران نیازی کے سامنے نجم شیرازنے شب قدرکی توہین کرڈالی مگر اس پرعمران نیازی اور مولاناطارق جمیل خاموش رہے۔ سوشل میڈیاپریہ ویڈیوموجود ہے جس میں نجم شیرازکہہ رہاہے کہ ہمیںایسے لیڈرکی  قدرہوجائے جس نے قوم کو آزادی کی قدر کرا دی تو ہمیں شب قدر نہ بھی ملی تو ہماری آنے والی نسلیں سنبھل جائیں گی۔ اندازہ لگائیں کہ پستی کا کیا عالم ہے ۔

 عمران نیازی کے دوراقتدارمیں بارہایہ کوششیں کی گئیں کہ کسی ناکسی طرح قانون توہین رسالت کوختم یاکم ازکم اسے غیرمئوثرکیاجائے، یہی وجہ ہے کہ عمران نیازی نے اپنے دورحکومت میں توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ مسیح سمیت آدھے درجن سے زائدملزمان کو رہا کرا کر بیرون ملک بھیجا ، مغربی آقائوں کوراضی کرنے کے لیے قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کوشامل کرنے کی کوشش کی ،ختم نبوت حلف نامہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ،اقتصادی کونسل میں قادیانی مشیربنانے کااقدام کیا مگرعالمی طاقتیں راضی نہیں ہوئیں ۔

گزشتہ سال مئی کے مہینے میں ہی یورپی پارلیمنٹ نے ایک قراردادکے ذریعے یہ مطالبہ کیاکہ پاکستان توہین رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔اس قراردادمیں حکومت پاکستان سے انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جائے اور توہین رسالت کے مقدمات میں ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔یورپی پارلیمنٹ کی بے باکی کااندازہ لگائیں کہ توہین رسالت کے مقدمے میں گرفتار شفقت ایمانوئیل اور شگفتہ کوثر کی رہائی کامطالبہ کیاگیامگرحیرت کی بات ہے کہ جب یورپی یونین یہ مطالبہ کررہی تھی توعمرا ن نیازی کواس وقت غیرملکی سازش اورمداخلت نظرنہیں آرہی تھی ؟نہ ملکی خود مختاری کادورہ پڑا،کیوں کہ عمران نیازی اوراورعالمی طاقتوں کاایجنڈہ ایک تھا اورایک ہے ۔

توہین رسالت کے قانون کے خلاف سازشیں تو پہلے دن سے ہو رہی ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی رہنما کی طرف سے عالمی اداروں کواس طرح کاخط تحریر کیا گیا ہے اس کے کیا مضمرات ہوں گے علامہ طاہراشرفی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ شیریں مزاری کا اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو خط پاکستان کیلئے مشکلات کا سبب بنے گا ، اگر کسی جگہ پر توہین مذہب و توہین ناموس رسالت کا قانون غلط استعمال ہوا ہے تو پاکستان میں عدالتیں اور ادارے موجود ہیں ، تحریک انصاف کی قیادت کو اس سے رجوع کرنا چاہیے ، شیریں مزاری کے خط سے قانون توہین رسالت و توہین مذہب مخالف قوتوں کو تقویت ملے گی ۔علامہ طاہراشرفی نے پی ٹی آئی کے دورحکومت میں کم ازکم اس محاذپربھرپورخدمات سرانجام دی ہیں یہی وجہ ہے کہ متحدہ علماء بورڈ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دوسوکے قریب کیسزنمٹائے ۔

عمران نیازی لاکھ یہ بتائیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیاکے خلاف تقریرکی ہے مگرعملی کرداریہ ہے کہ ان کی جماعت کی اہم رہنما توہین رسالت قانون کے خلاف سرگرم ہیں اگرچہ شیریںمزاری پی ٹی آئی کے دورمیںحکومت میںبھی اس طرح کے اقدامات کرتی رہیںکہ انہیں کوئی روک ٹوک نہیں تھی، جبری مذہب تبدیلی کابل ،اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کے غیراسلامی بل کی وہ محرک رہی ہیں مگرپارلیمنٹ میں وہ ناکام رہیں کیوںکہ ممبران اسمبلی نے ان غیراسلامی اورغیرآئینی بلوں حمایت کرنے سے انکارکردیاتھا جس کی وجہ سے وہ اپنے عزائم کی تکمیل نہیں کرسکیں لیکن حکومت سے باہرہوتے ہی وہ کھل کرسامنے آگئی ہیں ۔

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ترجمان اسلم غوری نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ پی ٹی آئی ناموس رسالت کے قانون 295C کے خلاف مراسلہ لکھ کر اپنی مذہب دشمنی کے ثبوت پیش کرکے عالمی برادری کے سامنے اپنی نوکری پکی کررہی ہے ۔ پی ٹی آئی کا یہ اقدام یہودی ایجنٹ ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ پاکستانی عوام دیکھ لیں کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیںعمران نیازی اور اس کی حواریوں کے اس مراسلے کا اصل مقصد قادیانیوں کے لئے پوشیدہ ہمدردی کا اظہار ہے ۔ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے لئے اپنی جانوں کو بھی قربان کردیں گے ۔ 

مصنف کے بارے میں