’’نشانِ امتیاز، "داستانِ عزم"… دو کتابیں، ایک شخصیت!

’’نشانِ امتیاز،

میں اسے اپنی کوتاہی ہی گردانوں گا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور ایٹم بم کے خالق محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کے بارے میں قلم فاؤنڈیشن والٹن روڈ لاہور کی شائع کردہ دو کتابیں میرے پاس کب سے آئی پڑی ہیں اور میں نے ان کے جستہ جستہ حصے پڑھنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی خیال آرائی نہیں کی ہے۔ ان میں سے ایک کتاب "نشانِ امتیاز"، میرے مہربان، مربی، محسن اور کم و بیش بیس کتابوں کے مصنف قابل قدر شخصیت محترم جناب جبار مرزا کی محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق کم و بیش چار عشروں پر مشتمل یاداشتوں کی طویل اور انکشافات سے لبریز کسی حد تک حیرت انگیز داستان ہے تو دوسری کتاب "داستانِ عزم"محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خود نوشت ہے جس میں انھوں نے جولائی 1976ء میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے یورینیم کی افزودگی کے لیے کہوٹہ میں قائم انجینئر ریسرچ لیبارٹریزکے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد 2004ء میں جب انھیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں مبینہ طور پر ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث قرار دے کر نظر بند کیا گیا کہ اہم حالات و واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ قلم فاؤنڈیشن  انٹرنیشنل کے مدار المہام علامہ عبدالستار عاصم جنہیں یہ پروا کیے بغیر کہ کتابیں چھاپنا اس دور میں کتنا گھاٹے کا سودا ہے ، نت نئی کتابیں چھاپنے کا جنون ہے  نے ان کتب کو  بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے جس کے لیے بلا شبہ وہ مبارکبادکے مستحق ہیں۔

نشانِ امتیاز کا پہلا ایڈیشن جنور ی 2018ء میں شہریار پبلیکشن اسلام آباد نے شائع کیا اب دوسرا اضافہ شدہ ایڈیشن اکتوبر 2021ء میں قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کے زیرِ اہتمام چھپا ہے۔ جیسے اُوپر کہا گیا ہے یہ کتاب مشہور مصنف شاعر اور نثر نگار جناب جبار مرزا کی اٹھارویں تصنیف ہے۔ محترم جبار مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ بیک وقت صاحب طرز نثر نگار اور خوبصورت شاعر ہی نہیں ہیں بلکہ ایک باخبر اور سینئر صحافی اورایک کالم نگا رہونے کے ساتھ ایک ایسے محقق اور مئورخ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں جنہیں بہت سارے قومی معاملات و واقعات سے آگاہی حاصل رہی ہے اور وہ انہیں اپنے صحیح تناظر اور تاریخی پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جناب جبار مرزا نے محسنِ پاکستان سے متعلق اپنی یادداشتوں پر مبنی تصنیف کا نام یا عنوان ’’ نشانِ امتیاز ‘‘رکھا ہے تو اسکی وجہ ہے کہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں دو بار اپنی کیٹگری کا سب بڑا سول ایوارڈ ’’ نشانِ امتیاز ‘‘حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ’’ نشانِ امتیاز ‘‘کی ذیل میں درجہ بدرجہ ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز کے اعزازات بھی آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن ’’ نشانِ امتیاز ‘‘جس کا درجہ سب سے بلند ہے اُس کا حاصل کرنا اور ایک بار نہیں دو بار حاصل کرنا بلا شبہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے پا لینے کاتصور ہی کیا جاسکتا ہے 

اس میں کوئی شک نہیں کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز جسے بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر خان ریسرچ لیبارٹری کا نام دیا گیا کے بانی سربراہ کے طور پر یورنیم کو جوہری ہتھیار بنانے کے معیار کی حد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت کا حامل بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مرکزی اور اہم ترین کردار رہا ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میںکتاب ’’ نشانِ امتیاز ‘‘میں سابقہ صدرِ مملکت غلام اسحق خان مرحوم جو پاکستان کے جوہری پروگرام سے کم و بیش دو عشروں تک سرگرمی سے وابستہ رہے ہیں کی گواہی موجود ہے ۔ انہوں نے مشہور صحافی مرحوم زاہد ملک کے نام اپنے خط میں جو کتاب کے صفحات 22تا27 پر چھپا ہوا ہے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے جوہری منصوبے کو ترقی دینے کا چیلنج قبول کیا۔ انہوں نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں یورینم کو جوہری ہتھیار بنانے کے معیار کی حد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس مقصد کے لیے سینٹری فیوج مشینوں کی تیاری اور تنصیب کے انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچایا گیا بلکہ 1984 ؁ ء کے نصف ثانی تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہتھیار بنانے کی یورینم جو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی پیدا کردہ تھی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے ایک ایسا جوہری آلہ تیار کر لیا تھا جو مختصر عرصے میں جوڑا جا سکتا تھا اور اس سے دھماکہ کیا جاسکتا تھا۔ 

غلام اسحق خان مرحوم جو سیکریٹری مالیات، وزیرِ خزانہ اور صدرِ مملکت کی حیثیت سے پاکستان کے جوہری پروگرام سے شروع سے وابستہ رہے کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں یہ خیالات ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں اُن کی بے پناہ خدمات اور اُن کی مرکزی حیثیت کو تسلیم کرنا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ المیہ بھی ہے کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں سینٹری فیوج مشینوں کے ذریعے یورنیم کی جوہری ہتھیاروں کے بنانے کے معیار کی حد تک افزودگی کا کریڈٹ جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے وہاں اُن پر یہ الزام بھی موجود ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دوسرے ممالک بالخصوص ایران اور لیبیا تک پھیلانے یا منتقل کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔ اسے عرفِ عام میں ایٹمی پھیلائو (Nuclear Proliferation ) کہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی پھیلائو کے اس گھنائونے کام میں کس حد تک ملوث تھے یا نہیں۔ اس سے قطع نظر مصنف جناب جبار مرزا نے کتاب کے صفات 32تا 42میں ان تفصیلات کو بیان کیا ہے جن کے تحت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث قرار دے کر ہیرو سے زیرو بنانے کی شرمناک مہم چلائی گئی تھی جو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی ایما پر شروع کی گئی اور اُس وقت کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد اور سیکریٹری اطلاعات سید انور محمود اس شرمناک مہم کے اہم کردار تھے۔ 

296صفحات پر مشتمل خوبصورت گیٹ اَپ ، مضبوط جلد ، انتہائی پُر کشش اور خوبصورت سر ورق کی حامل اور سفید آف سیٹ پیپر پر چھپی ہوئی اس قیمتی اور نادر کتاب ’’ نشانِ امتیاز ‘‘ میںکیا کچھ ہے ایک کالم میں اُس کی تفصیل بیان کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ کتاب کے آٹھ باب ہیں ۔ آٹھواں باب جو پاکستان کے آخری بڑے آدمی کا سفرِ آخرت  کے عنوان سے چھپا ہے اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا 13اپریل 2012ء کا کہا ہوا یہ شعر شامل ہے جس میں اُن کی زندگی کے آخری برسوں کا عکس جھلکتا ہے۔ 

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

کالم میں گنجائش اگرچہ کم رہ گئی ہے لیکن دوسری تصنیف"داستانِ عزم" کا ذکر بھی ہو جانا چاہیے۔ "داستانِ عزم"  جیسے پہلے کہا گیا ہے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کے ایک اہم ترین دور کے حوالے سے اُن کی خود نوشت ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان دسمبر 1974ء میں ہالینڈ سے پاکستان آئے تو اُس وقت کے وزیرِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو سے اُن کی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرکے اسے ایک ایٹمی قوت بنانے کے مقصد کو ہر صورت پورا کرنے کے خواہاں تھے۔ اُنھوں نے جولائی 1975ء میں یورینیم کی افزوردگی کے لیے انجینئر ریسرچ لیبارٹریز (کہوٹہ) کے نام سے ایک اہم پراجیکٹ کی منظوری دی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو مکمل اختیارات کے ساتھ اس کا سربراہ مقرر کیا۔ اس پراجیکٹ کے تحت ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے نہ صرف سینٹری فیوج مشینوں کی مدد سے یورینیم کی افزودگی کے اہم ترین مشن کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی بلکہ ایٹم بم کی تیاری کے لیے کئی کولڈ ٹیسٹ بھی کامیابی سے پورے کر لیے۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو انجینئر ریسرچ لیبارٹریز  جسے بعد میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور اس کے بعد خان ریسرچ لیبارٹریز کا نام دیا گیا کے سربراہ کے طور پر یورینیم کی افزودگی اور ایٹم بم بنانے کے اہم ترین مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جو بھی تگ و دو کرانا پڑی اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات دن جو بھی کام کرنا پڑا، جہاں داستانِ عزم میں اس کی تفصیل موجود ہے وہاں پاکستان کے اس وقت کے فوجی سربراہ حکومت جنرل محمد ضیاء الحق کا جو دستِ شفقت  اور تعاون انھیں حاصل رہا اس کا تذکرہ بھی ڈاکٹر صاحب کی اس خودنوشت  میں کئی واقعات کی صورت میں موجود ہے۔ داستانِ عزم میں سرگودھا یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم خان کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سوانح حیات پر چھ صفحات پر مشتمل خصوصی مضمون موجود ہے تو اس کے ساتھ 56صفحات پر پھیلے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام پاکستان کی اہم ترین حکومتی اور ریاستی شخصیات کے خطوط، نادر تصاوریر اور دیگر معلومات بھی موجود ہیں۔ 

مصنف کے بارے میں