معیشت بہتر ہو گی یا بدتر؟

معیشت بہتر ہو گی یا بدتر؟

اس وقت معیشت میں غیر یقینی کی صورتحال بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اس کی وجہ نئی آنے والی حکومت نہیں ہے بلکہ حکومت کا وقت پر فیصلہ نہ کرنا ہے حکومت وہی غلطیاں کر رہی ہے جو 2018 میں تحریک انصاف نے کی تھی، ابھی تک آئی ایم ایف کا پروگرام لٹکا ہوا ہے تحریک انصاف کی حکومت نے بھی یہی کیا تھا کہ فوری طور پر آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے بجائے دوست ممالک سے مدد مانگنے چلی گئی تھی۔ اس وقت بجلی اور تیل پر سبسڈی کی واپسی سیاسی طور پر مشکل مگر معیشت کے لیے ناگزیر ہے جب پی ٹی آئی آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے دوست ممالک کے پاس گئے تھے تو اس سے یہ نقصان ہوا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی آتی رہی زرمبادلہ کے ذخائر گرتے رہے شرح سود میں اضافہ ہوتا رہا جس سے معیشت کی صورتحال انتہائی نازک سے نازک تر ہوتی رہی اور جو اب حالات ہیں معیشت وینٹی لیٹر پر ہے تحریک انصاف نے بھی جب اچھی طرح معیشت کا دیوالیہ کر دیا تھا تو اس کے بعد آئی ایم ایس ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت عمران خان نے اپنی ناکامی چھپانے کے لئے وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے برطرف کر دیا اور یہ کہا کہ حکومت میں آتے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہ جانا اسد عمر کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ عمران خان نے یہ بات خود ایک نجی چینل کے پروگرام میں تسلیم کی تھی کہ ہمیں آتے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام میں چلے جانا چاہیے تھا، ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ میں جب پیچھے دیکھتا ہوں یہ یاد آتا ہے کہ میں سوچتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا ہے نہیں جانا، یہ سوچنے میں وقت برباد کیا جس سے ہمیں بہت نقصان ہوا۔

ایسے ہی بہت سے فیصلے ہیں جنہوں نے عمران خان کو اقتدار سے نکالنے میں بڑی مدد کی ہے کیونکہ فیصلے لینے میں کمزور، عوام کو خواب دکھانے اور اقتدار میں آنے سے پہلے کہ خزانے کو معیشت کو ٹھیک کرنے کی جادو کی چھڑی ان کے پاس ہے مگر اقتدار میں آ کر ہاتھ کھڑے کرنے یہ زیادتی ہے۔ پاکستان کے نازک معیشت کے ساتھ اور 2018 میں عمران خان کو چانس دینا ہی بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے اور یہ کس سے ہوئی ہے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر بھگتنا عوام کو پڑ رہا ہے اور پاکستان کو۔ اور اب جب نئی حکومت آئی تو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے امریکہ جا کر آئی ایم ایف سے مذاکرات تو کر لیے مگر فیصلے کرنے میں یہ حکومت بھی بہت دیر کر رہی ہے جس سے پاکستانی معیشت کی حالت دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ وہ اس طرح سے کہ ڈالر کی اونچی اڑان کے نتیجے میں روپے کی قدر میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ہی سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر سوا 12فیصد کر دی تھی مگر اس وقت خود حکومت کو پندرہ فیصد کی شرح سود پر بینک جا کر قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔

مہنگائی اور تجارتی خسارے کے اعداد و شمار کچھ اس طرح سے ہیں، اپریل کے ماہ میں مہنگائی بڑھتی چلی گئی اور تیرہ فیصد مہنگائی تجاوز کر گئی اب بھی مہنگائی پندرہ فیصد سے اوپر جانے کی توقع کی جا رہی ہے اور اس وقت دس ماہ کا تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر کو پہنچ گیا ہے مگر اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی اپنی جگہ ہے مگر غیر یقینی کی صورتحال بھی اپنی جگہ ہے اس وقت پاکستانی معیشت صحیح فیصلوں کی منتظر ہے۔ اگر یہی صورتحال مسلسل چلتی رہی تو یہ چیز معیشت کے لیے زہر ثابت ہو گی مگر ان سب چیزوں کو روکنے کے لیے حکومت کو کڑوا گھونٹ پینا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کو لینا ہو گا جس سے مہنگائی میں تو اضافہ ہو گا مگر معیشت سے یہ غیر یقینی کی صورت حال کم از کم ختم ہو جائے گی گزشتہ حکومت جانے سے پہلے بھی ایک یوٹرن لے کر گئی وہ یہ کہ آئی ایم ایف پروگرام معاہدے کی خلاف ورزی کر کے گئی۔ آئی ایم ایف سے بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں بڑھانے کا وعدہ کیا مگر حکومت گرنے کا خطرہ پیدا ہوا تو وہی بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کر دی حالاں کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو لکھ کر دیا تھا کہ پیٹرول کی قیمت پر لیویز ایک لیٹر پر 30 روپے وصول کرے گی، بجلی کی قیمت میں اضافہ کریں گے مگر الٹا لیویز صفر کر دی، مارچ سے مئی تک ڈیزل پر سبسڈی کا اعلان بھی کر دیا اور بجلی کے نرخوں کو بھی فی یونٹ 5 روپے کم کردیا۔ اس سے کیا نقصان ہوا آئی ایم ایف پروگرام لٹک گیا اور جب موجودہ حکومت نے ملک کی کمانڈ سنبھالی تو زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 110.8 اعشاریہ ارب ڈالر کی سطح پر آ چکے تھے جو کہ دو ماہ کی درآمدات کے لیے بے حد کم ہیں اور اس پر تین ارب ڈالر 4 فیصد شرح سود سعودی عرب نے اس شرط پر گزشتہ حکومت کو دیے تھے اگر آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں ہو گا تو سعودی عرب یہ پیسے واپس نکال لے گا۔

ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے بھی شہباز شریف کی حکومت مشکل فیصلے کرنے سے گھبرا رہی ہے اور یہ چیز معیشت میں غیر یقینی بڑھا رہی ہے اور جب امریکہ میں آئی ایم ایف کے وفد کی مفتاح اسماعیل سے ملاقات ہوئی اس کے بعد ایک چیز واضح ہوئی وہ یہ کہ نون لیگ میں تقسیم ہیں آئی ایم ایف سے ملاقات پر جو پریس ریلیز آئی اس میں صاف صاف طور پر لکھا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ان فنڈز سبسڈی کو ختم کرنے کے لیے فوری ایکشن لیا جائے گا جو کہ ان سب سے تیز کی وجہ سے آئی ایم ایف مذاکرات سست روی کا شکار ہوئے اور وزیر خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا تو شہباز شریف نے صاف منع کر دیا اور مجھے لگتا ہے اس سے معیشت کے جو حالات ہے شہباز شریف نے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی مگر شہباز شریف عوام کا سوچ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ حکومت کے فیصلے میں عوام کو بہت رلا دیا ہے میں روتا نہیں دیکھ سکتا مگر مفتاح اسماعیل شہباز شریف کے اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح معاملات کو حل کرتی ہے آگے کیا ہو گا معیشت بہتر ہو گی یا بدتر، اللہ ہی جانے۔

مصنف کے بارے میں