عمران خان، 4 سال میں کوئی ایک کام؟

عمران خان، 4 سال میں کوئی ایک کام؟

سری لنکن بنیادی طور پر دھیمے مزاج کے، محنتی اور ملنسار لوگ ہیں۔ یہ ہر کام میں سخت محنت اور تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ 1996 کے ورلڈ کپ سے پہلے سری لنکن کرکٹ ٹیم کو دوسرے درجے کی ٹیم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن 96 کے ورلڈ کپ میں بڑی ٹیموں کو پچھاڑ کر سری لنکا دنیا کی بہترین ٹیم بن گئی۔ یہ کرکٹ کے بادشاہ بن گئے۔ یہ محنت کا تسلسل تھا۔ اس تسلسل کی دوسری مثال سری لنکا میں بیرونی سپانسرڈ دہشت گردی کو شکست دینا تھا۔ سری لنکا وہ ملک ہے جس نے بھارت نواز تامل ٹائیگرز کو 2009 میں لگ بھگ 26 سال لڑنے کے بعد شکست سے دوچار کیا۔ اس جنگ میں 70 ہزار سری لنکن سویلین اور فوجی ہلاک ہوئے لیکن یہ قوم ڈٹی رہی۔ پوری قوم نے اپنے حکمرانوں اور فوج کا ساتھ دیا۔ قوم نے اس جنگ کے بعد بھی تسلسل سے محنت کی لیکن معیشت میں بہتری آنے کے بجائے حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ 12 مئی 2022 کو سری لنکا نے خود کو ڈیفالٹ ڈکلیئر کر دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیاسی پارٹیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد خاندانی اور گروہی مفادات کو ترجیح دینا تھا۔ دوسرا وہاں کی فوج نے خود کو اے پالیٹکس ڈکلیئر کر دیا تھا۔اقربا پروری پر مشہور لطیفہ ہے کہ ایک چینی وفد سری لنکا آیا تو ملاقاتوں میں ہر اہم عہدے پر فائز شخص کا نام راجہ پاکشے تھا۔ ڈیفالٹ ہونے کے بعد شدید مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگوں نے وزراء اور وزیراعظم مہندرا راجہ پاکشے کے گھروں کا گھیراؤ شروع کر دیا۔ ہمبن ٹوٹا میں راجہ پاکشے کے آبائی گھر کو آگ لگا دی۔ ناراض عوام کے جتھے نے کولمبو میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کر دیا۔ فوج نے بمشکل سری لنکن وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو ریسکیو کیا۔ پچھلے تین برس میں ملک کے معاشی حالات خراب ہو رہے تھے۔ اقربا پروری عروج پر تھی۔ فوج نے خود کو سیاسی معاملات سے الگ کر لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کا معاشی دیوالیہ نکل گیا۔ پاکستان کی پچھلے ساڑھے تین برس کی کہانی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کرپشن اور اقربا پرورری کیخلاف نعرہ لگا کر میدان میں اترے تھے۔ 2014 میں 4 حلقوں میں دھاندلی کے خلاف ایک لانگ مارچ لے کر مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف اسلام آباد چڑھ دوڑے۔ 126 دن کے دھرنے، پی ٹی وی پر حملہ، سپریم کورٹ اور اداروں کے خلاف تقریریں، پارلیمان کے خلاف توہین آمیز بیانات اور سول نافرمانی کے لئے لوگوں کو اکسانے کے باوجود دھرنا ناکام رہا۔ 2016 میں پاناما سکینڈل کے آنے سے عمران خان کی مردہ سیاست میں جان پڑ گئی۔ اس سکینڈل میں ساڑھے چار سو سے زائد پاکستانیوں کے نام آئے۔ ایک نام نواز شریف فیملی کا بھی تھا۔ 10 اپریل کو عمران خان یہ کیس لے کر سپریم کورٹ چلے گئے۔ تحقیقاتی کمیشن کی پوری کوشش کے باوجود اس کیس میں نواز شریف پر کوئی کرپشن ثابت نہ ہو سکی۔ 28 جولائی 

2017 کو اقامہ رکھنے پر نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر تاحیات ناا ہل کر دیا گیا۔ عمران خان نے اس کو بنیاد بنا کر وعدہ کیا کہ اگر وہ حکومت میں آئیں گے تو قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ لٹیروں کا احتساب کریں گے۔ انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ عمران خان 2018 کا الیکشن جیت گئے۔ مطلوبہ سیٹیں نہ ہونے کے باوجود وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔ کل تک جن کو قاتل، ڈاکو اور چپڑاسی کہتے رہے ان کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کے لئے راضی ہو گئے۔ بلکہ تمام وفادار ساتھیوں کو چھوڑ کر الیکٹ ایبلز کے ساتھ الیکشن لڑا۔ عمران خان نے حکومت میں آ کر بھی بڑے دعوے کیے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ 6 ماہ میں احتساب اور تبدیلی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ سے روزانہ 6 ارب کی ہونے والی چوری رک جائے گی۔ مہنگائی کم اور روپیہ مستحکم ہو گا۔ بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی۔ 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کر دیں گے۔ پروٹوکول کلچر کا خاتمہ کر دیں گے۔ خان صاحب اپنے ساڑھے تین برس کے دور اقتدار میں ان بنیادی وعدوں کو پورا کرنا تو درکنار بلکہ ملک کو ایک ایسے معاشی اور سیاسی بحران میں دھکیل گئے ہیں۔ اب ہم سری لنکا سے بس ایک قدم پیچھے کھڑے ہیں۔ ملک میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کے زرمبادلہ کے ذخائر باقی ہیں۔ اگلا بجٹ بنانے کے لئے خزانے میں پیسے نہیں ہیں۔ ہم اس مقام تک پہنچ کیسے؟ پچھلے ساڑھے تین برس میں عمران خان نے اپنے زعم میں ناتجربہ کاری اور نااہلی کی ایسی تاریخ رقم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ایک ایسے شخص کے حوالے کر دیا جسے تحصیل چلانے کا تجربہ تھا۔ عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس بنا کر پیش کیا گیا۔ اس نے صوبہ بنجاب میں گورننس کے نظام کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اب عمران خان کے اس غلطی کا اعتراف کرنے سے کیا اس صوبہ کے 12 کروڑ افراد کی محرومیوں، غربت اور دکھوں کا ازالہ کر سکتا ہے؟ عمران خان کی حکومت میں جوتوں میں خیرات بانٹی گئی۔ تین برس میں 4 وزرائے خزانہ بدلے گئے۔ معاشی پالیسیاں خاک بننا تھیں۔ آج عمران خان کے پاس جلسوں میں اپنی گورننس اور معاشی کامیابیوں سے متعلق بتانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک سازشی بیانیہ بنا کر سیاسی شہید بننے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یاد رکھیں جس وقت عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ مسلم لیگ ن کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک تیز رفتار معاشی ترقی کے سفر پر گامزن تھا۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں کمی آ رہی تھی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق عمران حکومت نے معیشت میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ ہر قدم پر معاشی بم پھٹ رہے ہیں۔ ڈالر کو 121 سے 186 تک لے گئے۔ 20 ہزار ارب روپے، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا گیا۔ تجارتی خسارہ اور حکومتی اخراجات میں اضافہ اور عوامی فلاحی منصوبوں میں کمی کی گئی۔ ہر وہ وعدہ جو عمران خان نے کیا تھا اس کی نفی کی گئی۔ صرف دروغ کو فروغ دیا گیا۔ ملک کی جھوٹی معاشی ترقی کا پراپیگنڈہ کیا گیا۔ لنگر خانے کھول کر سستی شہرت حاصل کی گئی۔ ایک کارخانہ 100 لنگر خانہ کھولنے سے بہتر ہوتا ہے۔ لیکن خان صاحب کی ترجیحات ناقابل فہم تھیں۔ عمران خان کے ارد گرد ایسے لوگ جمع تھے جنھوں نے آٹے، چینی، ایل این جی معاہدوں میں اربوں روپے بنائے لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکی۔ صرف عہدوں سے الگ کر کے نئے لوگوں کو موقع دیا گیا۔ آج ملک ایسی حالت میں ہے کہ عمران خان کے جانے کے تین ہفتوں بعد ہی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ کیا یہ وہ معاشی ترقی تھی جس کے دعوے کیے گئے تھے۔ ان حالات میں عمران خان ملک کو سیاسی طور پر مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ جلسوں جلوسوں کے بعد لانگ مارچ اور دھرنے دینا چاہتے ہیں۔ کیا معاشی بدحالی کا شکار یہ ملک کسی ایسی سیاسی مہم جوئی کا متحمل ہے؟ اس صورتحال میں پر قومی اداروں اور تھنک ٹینکس کو ملک کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں ایک اہل اور تجربہ کار ٹیم کو کام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔ ورنہ ہم بھی سری لنکا کی طرح کسی المیے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ قوم کا اعتبار جمہوریت اور اداروں سے اٹھ جائے۔

مصنف کے بارے میں