شادی بیاہ اور نمو و د و نمائش

شادی بیاہ اور نمو و د و نمائش

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ زندگی کو ہم نے کس قدر مشکل بنا رکھا ہے۔وہ معاملات حیات جو نہایت سہولت اور آسانی کیساتھ نمٹائے جا سکتے ہیں، انہیں ہم نے نہایت پیچیدہ اور گنجلک بنا ڈالا ہے۔ دنیا وی دکھاوا، ریا کاری اور مادیت پرستی جیسے عوامل معاشرے میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ شعوری لاشعوری طور پر، اپنی خواہش یا کسی مجبوری کے تحت، یہ عناصر ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر شادی بیاہ کی مثال لے لیجئے۔ بڑے بزرگ بتلاتے ہیں کہ ان کے زمانے میں شادیاں نہایت سادگی سے انجام پاتی تھیں۔غریب اور سفید پوش گھرانے اپنی استعداد کار کے مطابق شادی بیاہ پر خرچ کیا کرتے تھے۔ امراء اور اچھے خاصے خوشحال خاندان بھی اسراف اور ریا کاری سے اجتناب کیا کرتے تھے۔ اب ذرا آج کل شادی بیاہ کی تقریبات پر نگاہ ڈالیں۔ ان تقریبات کے لوازمات کا جائزہ لیں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگائیں۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ایک بے حد سادہ سے معاملے کو کس قدر مشکل بنا رکھا ہے۔ شادی کا بنیادی فلسفہ تو یہ ہے کہ نکاح نصف ایمان ہے اور شادی میرے پیارے نبی ؐ کی سنت ہے۔ اس سے بڑھ کر اس رشتے کی اہمیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اس آسان سے معاملے کو ہم نے رنگ برنگی رسومات اور تقریبات کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ کسی زمانے میں یہ لاکھوں روپے کا معاملہ تھا۔ اب کروڑوں روپے تک جا پہنچا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ خوشی کے موقع پر خوشی نہ منائی جائے۔ اچھے کپڑے نہ پہنے جائیں۔ اچھے پکوان کا اہتمام نہ کیا جائے۔ یہ سب یقینا خوشی کے موقع کا لازمی جزو ہیں۔ مگر کیا یہ سب سادگی اور اعتدال کے دائرے میں رہتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ضروری ہے کہ سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں یہ نیک فریضہ سر انجام دیا جائے؟

عمومی طور پر ایسے مواقع پر سوچا جاتا ہے کہ" دنیا کیا کہے گی"؟ خاندان کے لوگ کیا کہیں گے؟ کہیں ہمارا ناک نہ کٹ جائے۔ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ہم بھاری بھرکم اخراجات کے متحمل نہیں تھے۔ بیشتر خاندانوں کو یہ باتیں سوچ کر مجبوراً زیادہ سے زیادہ اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔ ضروری اخراجات کیساتھ ساتھ غیر ضروری اخراجات کا بوجھ بھی ا ٹھانا پڑتا ہے۔ صاحب استطاعت اور خوشحال گھرانے تو یہ سب با آسانی افورڈ کر لیتے ہیں۔ مگر غیر ضروری تقریبات اور رسم و رواج کا بوجھ اٹھاتے غریب اور سفید پوش خاندانوں کی کمر دہری ہو جاتی ہے۔جہیز بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔ کہنے کی حد تک ہم کہتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے۔ مگر بخوشی یہ لعنت سمیٹتے بھی ہیں۔اکثر ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں اور یہ باتیں سنتے بھی ہیں کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے غریب آدمی کی بچیوں کے سر کے بالوں میں سفیدی آجاتی ہے۔ اس با ت پر ہم اظہار افسوس بھی کرتے ہیں۔ مگر جب اپنے گھر میں شادی بیاہ کا وقت آتا ہے تو دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ اپنی استعداد کار سے کہیں بڑھ کر انتظامات کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں بالکل خیال نہیں آتا کہ کچھ رقم بچا کر کسی غریب کی بیٹی کی شادی کیلئے امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔کاش ہم یہ باتیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ 

اللہ رب العزت کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اللہ پاک کے احکامات اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا جزو بنائیں۔خاص طور پر وہ تعلیمات جو ہماری زندگی میں آسانی لانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اب یہی دیکھیے کہ اللہ پاک ہمیں سادگی اور اعتدال اختیار کرنے کا حکم فرماتا ہے۔بے جا خرچ اور فضول خرچی سے منع فرماتا ہے۔۔ سورت اعراف میں ذکر ہے کہ اللہ رب العزت بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ایک اور جگہ سورت اسرائیل میں اللہ پاک نے فضول خرچی کی مذمت فرمائی ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ اپنا مال فضول خرچی میں مت اڑاؤ۔ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔دیکھا جائے تو یہ حکم ہماری زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر ہے۔ لیکن بد نصیبی دیکھیے کہ ہم آسانی کے بجائے، مشکل چاہتے ہیں۔ شادی بیاہ کی غیر ضروری رسم و وراج کو فروغ دے کر ان لوگوں کی زندگی بھی مشکل بنا دیتے ہیں ، جو اس مشکل کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہوتے۔ 

المیہ یہ ہے کہ ریاکاری اور دکھاوا جیسے معاملات نے گھر سے رخصتی کے ساتھ ساتھ اس دنیا سے رخصتی کو بھی نہایت مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے۔ مرگ کے موقع پر بھی اسراف اور ریا کاری کی رسوم جڑ پکڑ چکی ہیں۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ اب تو موت بھی بہت مہنگی ہو چلی ہے۔ یہ رواج چل نکلا ہے کہ صاحب استطاعت خاندان کسی ہال یا ہوٹل میں مرگ کے بعد کی رسوم کا اہتمام کرتے ہیں ۔ وہ گھرانے جن کو مشکل سے دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے، ان کے گھر مرگ ہو جائے تو انہیں بھی بہ امر مجبوری پلاو ، قورمے کی دیگیں بنوانی پڑتی ہیں۔ قل، جمعرات ، چہلم اور برسی جیسی رسوم پر ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ مرنے والے کو تو دعا ئے خیر، صدقے اور نیک اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے اس معاملے کو بھی دنیاوی روایات سے جوڑ رکھا ہے۔ 

قصہ مختصر یہ کہ ہمارے خوشی اور غم کے مواقع دنیا داری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ غریب سفید پوش افراد کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس بھیڑ چال کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ کاش ہم سب لوگ مل کر یہ صورتحال تبدیل کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔لازم ہے کہ معاشرے کے مستحکم اور کامیاب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد  اس صورتحال کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کریں۔  غریب اگر سادگی اختیار کرے گا تو یہ سادگی اس کی غربت کا طعنہ بن جائے گی۔ لیکن نامور سیاستدان، سپورٹس پرسن، پروفیسرز، بزنس مین اور دیگر صاحب استطاعت لوگ سادگی اختیار کریں گے تو ان کی مثال دی جائے گی۔ ہم میں سے ہر ایک اگر یہ کوشش کرئے تو ان غیر ضروری رسوم و رواج سے چھٹکارہ حاصل کر کے اپنی اور دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔ 

مصنف کے بارے میں