ناصر کھوسہ کمیٹی سے توقعات

ناصر کھوسہ کمیٹی سے توقعات

 انصاف حکومت کوآخری وقت تک سمجھ نہ آ سکی کہ بیوروکریٹس اور سرکاری ملازمین بھی انسان ہوتے ہیں اور ان پر اعتماد کئے بغیر سیاسی حکومتیں نہیں چلا کرتیں ، سابق دور میں بیوروکریسی کو ایک وفاقی انتظامی سروس سمجھا ہی نہ جا سکا اور ملک کو چند ایسے بیوروکریٹس کے ذریعے چلانے کی کوشش کی گئی جنہیں ایک صوبے کے علاوہ باقی تین صوبوں کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا ،ابھی نیب ،ایف آئی اے ،انٹی کرپشن بارے تحفظات دور ہی نہ ہو سکے تھے کہ حکومت رخصت ہو گئی ،جس کے بعد بیوروکریسی کو ایک نئی پریشانی نے جکڑ لیا،سابق دور میں کئے گئے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کے بعد دیکھیں اب کون کون پکڑ میں آتا ہے؟اگر چہ وزیر اعظم شہباز شریف کا ماضی میں بیوروکریسی سے ایک بہت ہی مضبوط اور کار آمد تعلق رہا،اب بھی ماضی میں ان کیساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے سرکاری افسر بہت خوش ہیں مگر ان کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے ،اکثر سرکاری افسر ، ان دیکھے خوف کا شکار ہیں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے بیوروکریسی کے تحفظات اور احتساب کا خوف دور کرنے کیلئے ایک اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا سربراہ ایک نیک نام ،محنتی ،اصول پسند اور ہمیشہ میرٹ پر چلنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ کو بنایا گیا ہے ،جو بہت ہی اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں،ان کا سارا خاندان کسی نہ کسی طرح ریاست سے وابستہ رہا ہے اور انہیں ہر شعبے کا تجربہ ہے ،وہ ہر محکمہ کے افسروں کے تحفظات سے پوری طرح آگاہی رکھتے ہیں،اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ بیوروکریسی نے گزشتہ تین ،چار سال جس اذیت اور کرب میں گزارے ہیں ان کا ازالہ کیا جا سکے گا اور بیوروکریسی ایک مرتبہ پھر سے اپنے فرائض منصبی آئین کی روشنی میں انجام دے پائے گی۔

 ناصر محمود کھوسہ انتہائی قابل اور تجربہ کار بیوروکریٹ ہیں،لہذٰا امید ہے کہ وہ بیوروکریسی کے تحفظات کا کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خاتمے کیلئے جو تجاویز پیش کریں گے وہ نہائت کارآمد ہونگی،کمیٹی نیب قوانین کو سامنے رکھ کر آرڈیننس میں ترامیم کی تجاویز تیار کرے گی جس سے بیوروکریسی بے خوف ہو کر اپنے فرائض منصبی سر انجام دے سکے گی،بیوروکریسی کی کار کردگی جاننے کیلئے2019 اور 2020میں بھی آزمائشی مشقیں کی گئی تھیں،خود سابق وزیر اعظم نے بیوروکریسی کیساتھ ایک زبانی وعدہ بھی کیا تھا مگر وہ سب رائیگاں گیا کہ اس پر پورے طریقے اور سلیقے سے عملدرآمد نہ ہو سکا تھا،سابق دور میں ایک معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز کو دو سال کا ہدف دیا گیا تھا،ان میں سے426اقدامات پرجون2022تک عملدرآمد مکمل ہونا تھا488پر جون 2023تک تکمیل ہونا تھی بقایا176اقدامات پر دو سال کے عرصہ میں عمل ہونا تھا،ان اقدامات کی تکمیل کے بعد بیوروکریسی کا سہ ماہی بنیاد پر جائزہ لیا جانا تھاجس سے کار کردگی کا اندازہ لگایا جاتا،اس کے علاوہ 1300سے زائد اصلاحات پالیسی میں تبدیلیاں،ترقیاتی اور انتظامی اقدامات بھی شروع کئے جانا تھے مگر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ بیوروکریسی دراصل حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں پر عملدآمد کرانے والی ریاستی فورس ہوتی ہے،اس کے فرائض میں صرف امن و امان ہی نہیں آتے بلکہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی،ظلم و جبر کے پنجہ استبداد سے نجات دلانا،جرائم پیشہ عناصر سے ان کو تحفظ دینا،ٹیکس کی وصولی کیساتھ عوام کو بنیادی ضروریات و سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے،مگر ہر حکمران یہ سب کچھ عوام کی جھولی میں ڈالنے کی بات ضرور کرتا ہے مگر ہر قدم پر اپنا ذاتی مالی اور سیاسی مفاد مد نظر رکھتا رہا اور بیوروکریسی کو بھی مجبور کرتا رہا کہ وہ اس کے مفادات کی نگہبانی کرے،انگریز دور میں بیوروکریسی کی بر صغیر ہندوستان میں بنیاد رکھی گئی،مگر چونکہ انگریز فاتح تھے ان کا اس دھرتی اور عوام سے کوئی جذباتی لگائو نہیں تھا اس لئے ان کی بعض پالیسیاں بہت سخت ہوتی تھیں مگرمعاشرتی اور سماجی انصاف کی فراہمی میں اس کے قوانین بہت اعلیٰ درجے کے تھے،اسی بنیاد پر بیوروکریسی کی بھی حدودو قیود مقرر کی گئیں،ان کے اختیارات کا تعین کیا گیا،کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک خود کار نظام وضع کیا گیا،نتیجے میں عوام کو اس دور غلامی میں بھی کچھ سہولیات قانونی طور پر فراہم کی جاتی تھیں اسی معیار سے سرکاری ملازمین کو بھی تحفظ ملتا تھا،اگر اسی نظام کو معمولی ردو بدل کے بعد نافذالعمل کیا جاتا تو آج اتنی خرابی نہ ہوتی،روز روز نت نئے تجربے کرنے سے بہتر تھا کہ اسی نظام کو اوور ہال کر لیا جاتا مگر ہم نے اس پر عمل کیا نہ نیا نظام وضع کر سکے،نتیجے میں ’’تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو‘‘۔

 ایک سرکاری افسر کو اگر ریاست کا ملازم سمجھ کے اس کیساتھ معاملات کئے جاتے تو آج ملک حالت جنگ میں نہ ہوتا،قواعد کے تحت حکمران طبقہ خود بھی کام کرتا اور بیوروکریسی سے بھی یہی توقع رکھتا تو آج یوں کھچڑی نہ پکتی،ترقی و تبادلے کو اگر سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جاتا تو آج بیوروکریسی میں یوں دوڑ نہ لگی ہوتی۔اس لئے کمیٹی کے سربراہ ناصر محمود کھوسہ سے گزارش ہے کہ وہ بیوروکریسی کو حکمرانوں کی چاکری سے نکال کر ریاستی ملازم کا درجہ دلانے کیلئے اقدامات کریں،کوئی سیاستدان،منتخب نمائندہ یا وزیر مشیر ان سے زبانی حکم کے تحت غیر قانونی کام نہ لے سکے اس امر کو یقینی بنا دیں تو بیوروکریسی بھی سکون میں آجائے گی اور حکومتی انتظامی معاملات بھی درست ہو جائیں گے،کارکردگی جانچنے کیلئے سالانہ خفیہ رپورٹ کا درست نظام پھر سے مروج ہو جائے تو ترقی اور مراعات حاصل کرنے کی دوڑ بھی انجام کو پہنچے گی۔

 سچ یہ ہے کہ بیوروکریسی کو ڈرانے دھمکانے کی روش نے اس کا بیڑہ غرق کر دیا ورنہ ملکی ترقی میں بیوروکریسی کے اہم ترین کردار کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے ، اس پر زبردستی تبادلے،برطرفی،تنزلی کا خوف اور تفتیشی اداروں کی برہنہ لٹکتی تلوار کو نیام میں رکھنے کی ضرورت ہے یہ وہی بیوروکریسی ہے جس نے آزادی کے ابتدائی دس سالوں میں ملک کو ترقی و کامرانی کی راہ پر تیزی سے گامزن کیاآج بھی ان میں بہت تجربہ کار افسر موجود ہیں مگر ان پر خوف کی چادر چھائی ہے جسے سمیٹنے کی ضرورت ہے۔قوم کو ناصر محمود کھوسہ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ،وہ اس ملک کے اداروں میں گڈ گورننس کا سمبل سمجھے جاتے ہیں ، وہ آنے والے افسروں کے لئے رول ماڈل ہیں،میں نے ان جیسے افسر کم کم ہی دیکھے ہیں، ان کا ماضی ایک غیر سیاسی اور میرٹ پسند افسر کا ہے وہ کئی حکومتوں کے ساتھ کام کر چکے ہیں، اس دور میں جب حکمران صرف ہاں سننا چاہتے تھے ،انہوں نے حکمرانوں کو نہ کرنے کا کلچر پروان چڑھایا ، اس لئے انہیں اندازہ ہے کہ بیوروکریسی کی ساکھ کس طرح بحال کی جا سکتی ہے اور کونسے ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جن کے بعد بیوروکریسی ایک ایسی انتظامی مشینری بن سکے جس کا کام سیاست اور سیاستدانوں کو خوش کرنے کے بجائے آئین پاکستان ،قواعد و ضوابط کی روشنی میں عوامی مسائل اور شکایات کا حل ہو۔

مصنف کے بارے میں