پی ٹی آئی کا وزیراعظم شہباز شریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں فریق بننے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا وزیراعظم شہباز شریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں فریق بننے کا فیصلہ

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی اگلی سماعت 25 مئی کو ہو گی۔ 

تفصیلات کے مطابق اس کیس کے حوالے سے وکلا سے مشاورت مکمل ہو گئی ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان نے اس کیس میں فریق بننے کی منظوری بھی دیدی ہے۔ 

پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس سے متعلق ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

 واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کا ٹرائل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم عدالت نے ٹرائل جاری رکھنے اور 14 مئی کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ 

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی عدم پیشی کے باعث سپیشل کورٹ سینٹرل میں منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد نہ ہو سکی تھی جبکہ نئے مقرر ہونے والے پراسیکیوٹر نے بھی کیس کی تیاری کیلئے وقت طلب کیا تھا۔ 

 شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے برطانیہ میں معالج سے ملاقات کے بعد یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے انتقال پر تعزیت کیلئے جانا ہے، استدعاہے کہ ان کی حاضری معافی کی درخواست قبول کی جائے۔

فاضل جج نے ریمارکس دئیے تھے کہ شہبازشریف کے پیش نہ ہونے پر کارروائی آگے نہیں بڑھے گی جبکہ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت نہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی کیس کی تیاری کیلئے وقت درکارہے۔

مصنف کے بارے میں