آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے 49 ارکان میں سے 12 ارکان اسمبلی انتہائی غریب ہیں

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے 49 ارکان میں سے 12 ارکان اسمبلی انتہائی غریب ہیں

میر پور:  آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سمیت آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے 49 ارکان میں سے 12 ارکان اسمبلی انتہائی غریب ہیں ان کی کوئی ماہانہ آمدنی نہیں۔ ان ارکان اسمبلی میں سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان بھی شامل ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے 27 ارکان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے جبکہ 33 ارکان اسمبلی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ٹیکس ادا کرنے والے 16 ارکان اسمبلی میں دیوان غلام محی الدین سرفہرست ہیں جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران 24 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ چوہدری سعیداور رخسار احمد نے چھے چھے لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ ماہانہ آمدنی کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین سرفہرست ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 20 لاکھ روپے ہے جبکہ دوسرے نمبر پر وزیر اطلاعات مشتاق منہاس ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 15 لاکھ روپے ہے۔


آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان میں سے ز یادہ تر کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ سے کم جبکہ ان کے بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات5سے10 لاکھ تک ہیں نوے فیصد ارکان اپنے مکان اور کئی پلاٹس کے مالک ہیں زیادہ تر نے اپنے کاروباری ادارے ظاہر نہیں کیے۔ خبر رساں ادارے صباح نیوز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمشن میں جمع کرائے گئے گوشوارے ظاہر کرتے ہیں کہ ممبران اسمبلی کے آخراجات ان کی آمدن سے زیادہ ہیں۔ ممبران کے انتخابی گوشواروں کی تفصیلات پر مبنی ہوشربا تفصیلات منظرعام پر آ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ممبر قانون ساز اسمبلی مسعود خالد کے انتخابی گوشوارے کے مطابق ان کے پاس میرپور میں ایک مکان، 80 کنال زرعی اراضی، ڈیفنس فیز 2 اسلام آباد میں پلاٹ، میرپور ڈی تھری میں ایک پلاٹ ہے جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میرپور میں ان کا دفتر زیرتعمیر ہے۔ ان کی بیگم کی ملکیت میں پانچ تولہ سونا ہے۔ وہ سابق ممبر اسمبلی کی حیثیت سے 55 ہزار ماہانہ پنشن بھی لے رہے ہیں۔ ایچ بی ایل میرپور میں ان کے 20 لاکھ جبکہ ایچ بی ایل سٹی برانچ میں ان کے اکاؤنٹ میں 70 لاکھ روپے ہیں۔ ان کے پاس ٹویوٹا کرولا کار بھی ہے۔ مسعود خالد نے انتخابی گوشوارے میں ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

ان کی بیٹی کے سالانہ تعلیمی اخراجات تقریباً 24 ہزار روپے ہیں۔ چوہدری عبد المجید کی چک سواری میں مشترکہ زمین میں سات کنال اراضی اور ایک مکان ہے جبکہ ان کی اہلیہ کے نام میر پور سیکٹر F-2 میں بھی ایک مکان ہے۔چوہدری مجید کے ذاتی بینک اکائونٹ میں پانچ لاکھ 91 ہزار روپے ہیں۔وہ بحیثیت وزیر اعظم 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے 2011-16ء کے درمیان 66 ہزار ٹیکس بھی ادا کیا۔چوہدری مجید اسلام آباد میں زیر تعلیم اپنی بیٹی کے دو لاکھ 40 ہزار سالانہ اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔چوہدری مجید کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ممبر اسمبلی چوہدری سعید کے نام میرپور میں ایک پٹرول پمپ، میرپور میں 3 کروڑ روپے مالیت کے مشترکہ مکان میں حصہ دار ہیں جبکہ 80 لاکھ روپے کا ایک پلاٹ بھی ان کے نام ہے۔ اس کے علاوہ چکسواری میں ان کا 16 کنال کا ایک پلاٹ ہے۔ میرپور سیکٹر F-1 میں ایک کروڑ 26لاکھ روپے لاگت کا ایک پلاٹ اور 4 کروڑ 63 لاکھ روپے کا ایک رہائشی گھر بھی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 35 لاکھ کے زیورات ہیں۔

ان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 2لاکھ 31 ہزار روپے ہے۔ سٹاک شیئرز میں 5 کروڑ 48لاکھ کے شیئرز ہیں۔ ان کے نام 2 کروڑ 13لاکھ کا ذاتی قرضہ اور 28 لاکھ کا بینک قرضہ بھی ہے۔ چوہدری سعید کی ماہانہ آمدنی 2 لاکھ روپے ہے۔ انہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران 6لاکھ پندرہ ہزار ٹیکس ادا کیا۔ ان کی بیٹی کے سالانہ تعلیمی اخراجات 7لاکھ ہیں۔ انتخابی گوشوارے کے مطابق ان کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ممبر قانون ساز اسمبلی رخسار احمد 75 کنال مشترکہ اراضی میں حصہ دار ہیں جبکہ 3 مکانات کے بھی مشترکہ حصہ دار ہیں۔ کھڑی شریف میں ڈیڑھ کروڑ مالیت کا ایک پٹرول پمپ بھی ہے۔ وہ 40 کنال مشترکہ زرعی اراضی میں بھی حصہ دار ہیں۔ رخسار احمد 45لاکھ مالیت کی لینڈ کروزر گاڑی کے مالک ہیں جبکہ ان کے پاس دو لاکھ 50 ہزار روپے کی ایک گھڑی بھی ہے۔ میرپور کے ایک بینک اکاؤنٹ میں ان کے 15لاکھ اور دوسرے میں ایک لاکھ روپے ہیں۔ انتخابی گوشوارے کے مطابق موضع کھوکھر میں ان کی 315 کنال اراضی بھی ہے۔ رخسار احمد نے گذشتہ سال 6لاکھ 34ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا جبکہ اندرون ملک ان کی آمدنی ایک لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ ہے۔

رخسار احمد اپنے 3 بچوں کے سالانہ ڈیڑھ لاکھ روپے تعلیمی اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی وقار احمد نور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں پانچ پلاٹ ہیں۔ ان کے پاس ایک لاکھ روپے نقد موجود ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے ہے۔ وہ اپنے دو بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ایک لاکھ 10 ہزار روپے ادا کرتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری علی شان کے انتخابی گوشوارے کے مطابق وہ ایک آبائی مکان کے مالک ہیں۔ ان کے نام 4کنال زرعی اراضی 6کنال 10مرلے کا مشترکہ پولٹری فارم ہے۔ ان کا ایک تین منزلہ مکان زیرتعمیر ہے۔ ان کے پاس ایک کار، ایک بس اور دبئی میں شاول مشین بھی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 10تولے سونا ہے۔ حبیب بینک اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں 50 ہزار روپے، مظفرآباد کے ایک اکاؤنٹ میں 20 ہزار روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ تنخواہ 92 ہزار روپے ہے۔ ان کے پاس ٹیکس نمبر ہے تاہم ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ ان کے چار بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ساڑھے 3 لاکھ روپے ہیں۔طارق فاروق کا ایک مکان بھمبر میں تھا جو بیٹے کے نام پر منتقل ہو چکا ہے تحصیل بھمبر میں 90 کنال 12 مرلے زرعی ، آٹھ مرلے موضع جنجوعہ ،موضع وہڑہ میں 29 کنال 19 مرلے، موضع سیرلہ میں 32 کنال 2 مرلے اراضی کے مالک ہیں۔

آزاد کشمیر سے باہر قصور میں 62 کنال 8 مرلہ زرعی اراضی ، 13 کنال 7 مرلے قصور میں ان کی ملکیت ہے کشمیر ہائوسنگ سوسائٹی اسلام آباد میں ایک پلاٹ ان کی اہلیہ کے نام پر تھا جو فروخت کر دیا ہے اسلام آباد میں 30 x 60 کا ایک پلاٹ اہلیہ کے نام پر موجود ہے ایک گاڑی الٹس ہنڈا 2011 ماڈل ان کے نام پر ہے جبکہ ایک عدد ہنڈا سٹی ماڈل 2006 بیٹے اور ایک عدد ونٹر گاڑی ماڈل 2006 انیلہ کے نام پر ہے ان کی تین بیویوں کے پاس مجموعی طور پر 45 تولہ سونا موجود ہے ان کے حبیب بینک لمیٹڈ کے دو اکائونٹس میں باالترتیب 55235 روپ اور 4027 روپے جبکہ سٹڈرڈ چار ٹر بینک کے اکائونٹ میں دس ہزار روپے موجود ہیں۔ بیوی جمیلہ طارق کے بھمبر نیشنل بینک کے اکائونٹ میں 970842 روپے ،بیوی انیلہ حمید کے سمٹ بینک کے اکائونٹ میں 15000 روپے اور بیوی بشریٰ طارق کے ایم سی بی بھمبر کے اکائونٹ میں چھ لاکھ روپے کی رقم موجود ہے بیٹے اسفند طارق کے یو بی ایل اکائونٹ میں دس ہزار روپے ،بیٹے اعجاز طارق کے اکاونٹ میں دس ہزار روپے،بیٹی ثمن طارق کے اکاونٹ میں چار ہزار روپے، بیٹی ہانیہ طارق کے اکائونٹ میں پانچ ہزار روپے ،بیٹی نویرہ طارق کے اکائونٹ میں دس ہزار روپے اور بیوی انیلہ حمید کا فارن کرنسی اکائونٹ بند ہو چکا ہے جبکہ ان کے اپنے پاس ویزہ کریڈٹ کارڈ میں دو لاکھ روپے موجود ہیں ان کی بطور ایم ایل اے تنخواہ ایک لاکھ 13ہزار روپے ماہانہ، بیوی جو کہ سینئر ٹیچر ہیں کی تنخواہ 75 ہزار روپے ماہانہ اور زرعی اراضی کی سالانہ آمدن 15 لاکھ روپے ہے ۔انہوں نے سال 2015-16ء میں 94790 روپے ٹیکس ادا کیا۔ ان کے زیر کفالت تین بیویاں اور سات بچے ہیں۔

ایک بیٹی کی شادی ہو چکی تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کی تعلیم پر سالانہ چھ لاکھ دس ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔ صباح نیوز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی ملک محمد نواز خان کا کوٹلی میں ایک مکان جبکہ دو مکانات میں حصے دار ہیں۔ 50 کنال مشترکہ زرعی زمین میں بھی حصہ دار ہیں۔ ان کے زیراستعمال ایک پراڈو گاڑی بھی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت 15 تولے سونا بھی ہے۔ کوٹلی کے ایک بینک میں ان کے 5 لاکھ اور مظفرآباد کے بینک میں 5 ہزار روپے ہیں۔ ملک نواز کی ایک لاکھ 29 ہزار ماہانہ آمدنی ہے۔ گذشتہ مالی سال کے دوران انہوں نے 98 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ ان کے دو بچوں کے تعلیمی اخراجات ان کے بھائی ادا کر رہے ہیں۔وزیر مال فاروق سکندر خان نے اپنے گوشوارے میں ایک سوزو کی کار، کرولا کار، پلاٹ او سی ہلز، 14 مرلہ پلاٹ،2 کنال زمین کھنہ اسلام آباد،مکان مشترکہ اسلام آباد ، 12 کنال زمین اسلام آباد اپنی ملکیت بتائے ہیں جبکہ ان کے پاس پانچ لاکھ روپے مالیت کے زیوارت ہیں ۔نیشنل بینک کوٹلی کے بھائی کے ساتھ مشترکہ اکائونٹ میں ایک کروڑ 17 لاکھ 28 ہزار 448 روپے،نیشنل بینک مظفر آباد میں 641000 روپے، الائیڈ بینک کوٹلی میں 28 لاکھ تین ہزار 642 روپے اور جیب بینک کوٹلی میں 11 لاکھ روپے کی رقم موجود ہے۔انہوں نے اپنی ماہانہ آمدنی تین لاکھ روپے بتائی ہے اور وہ اپنے نیشنل ٹیکس نمبر 2449168-3 کے ذریعے ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ اپنی بیوی پر سالانہ 12 لاکھ روپے اور دو بیٹیوں اور تین بیٹوں کی تعلیم پر سالانہ دس لاکھ 92 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔

راجہ محمد نصیر خان آزادکشمیر میں سرساوا کے مقام پر 100 کنال مشترکہ زمین میں حصے دار ہیں۔ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں 2کنال کے پلاٹ میں بھی حصہ دار ہیں جبکہ سہنسہ میں 4کنال زرعی زمین، 2 کنال کمرشل، کوٹلی میں ایک کنال، ڈیڑھ کنال سرساوا میں کمرشل، سروٹہ میں ایک کنال کمرشل اور تین کنال زرعی زمین بھی ہے۔ سروٹہ بازار میں 3 دکانوں میں حصہ دار ہیں۔ ان کے پاس ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر اور ایک پک اپ بھی ہے۔ ان کے گھر میں 35 تولے سونا بھی ہے۔ ان کے پاس 3لاکھ روپے مالیت کی انشورنس پالیسی بھی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔ مظفرآباد کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 36لاکھ روپے، پنجیڑہ کے ایک اکاؤنٹ میں 36 ہزار ایک دوسرے اکاؤنٹ میں 50 ہزار جبکہ سرساوا میں ایک اکاؤنٹ میں 7 ہزار 6 سو روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 13 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران 93 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ راجہ نثار احمد کی ملکیت میں ایک رہائشی مکان، 110 کنال زمین کا تیسرا حصہ، 12 کنال زمین اور 64 کنال زمین کے ساتھ ساتھ دو کنال زمین کوٹلی میں حدود میونسپل کمیٹی میںموجود ہے ایک گاڑی کے مالک ہیں دس تولے سونا ان کی ملکیت ہے جیب بینک کھوئی رٹہ کے اکائونٹ میں 17 لاکھ روپے اور 2 لاکھ روپے نقدان کے پاس موجود ہے ان کو ماہانہ ساٹھ ہزار روپے ایم ایل اے پنشن ملتی ہے جبکہ زرعی اراضی کی ماہانہ آمدن تیس ہزار روپے ہے۔

، وزیر صنعت و ترقی خواتین نورین عارف کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق ان کی ملکیت میں ایک کنال کا پلاٹ میر پور ریونیو آفیسرز کالونی اور راولپنڈی میں ایک پانچ مرلے کا زیر تعمیر مکان ان کی بہو کی ملکیت ہے جبکہ ایک رہائشی مکان، 22 دکانیں ،دوہال ایک شیلٹر ،رہائشی مکان ،تین عدد رہائشی شیلٹرز، دو دکانیں مظفر آباد اور گڑھی دوپٹہ میں ہیں چار دکانیں اور ایک فلیٹ شوکت لائن میں بیٹے کے نام پر ہے چالیس کنال زمین پر سچہ، چار سو کنال زمین گڑھی دوپٹی ،بیٹے کے نام پر 24 کنال زمین گڑھی دوپٹہ ،خاوند کی مشترکہ جائیداد 300 کنال اور خاوند کے نام الگ سے 24 کنال زمین ہے ایک عدد ٹیوٹا 1995 ماڈل کار ان کے اپنے نام اور بیٹے کے نام ٹیوٹا جیب 1994 ماڈل ہے 30 تولہ سونے کی مالک ہیں مسلم کمرشل بینک مظفر آباد کے اکائونٹ میں 530000 روپے ،نیشنل بینک میں شوہر کے اکائونٹ میں ایک لاکھ تیس ہزار روپے ،شوہر کے نام پر نیشنل سیونگ سکیم کے پچاس لاکھ روپے کے سیونگ سرٹیفکیٹس ،الائیڈ بینک اور مسلم کمرشل بینک کے دیگر اکائونٹس میں بالترتیب 70 ہزار روپے اور ساٹھ ہزار روپے کی رقم موجود ہے۔انہوں نے اپنی ماہانہ آمدن ظاہر نہیں کی اپنی بیٹی کی تعلیم پر ماہانہ ایک لاکھ روپے خرچ کرتی ہیں صباح نیوز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق چوہدری عزیز نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں کے مطابق ان کی ملکیت میں حویلی کہوٹہ میں بیس کنال آٹھ مرلہ اراضی، دو منزل مکان، ایک دکان کا تیسرا حصہ، کتب قانونی ملکیت دو لاکھ روپے، گاڑی ٹیوٹا لینڈ کروزر ماڈل 1988، نیشنل بینک مظفر آباد چھتر برانچ کے اکائونٹ میں 128798 روپے ،نیشنل بینک فاروڈ کہوٹہ کے اکائونٹ میں 605314 اور 25 لاکھ روپے نقد رقم ان کے پاس گھر میں موجود ہے۔ان کے پاس ایک لاکھ روپے مالیت کا زیور ہے جبکہ فاروڈ کہوٹہ میں پیٹرول پمپ میں ان کا تیسرا حصہ ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ میں دکان کا کرایہ اپنے گونگے بھتیجے اور بھتیجی کے لیے وقف کررکھا ہے ان کا نیشنل ٹیکس نمبر 01-06-0065805 ہے وہ اپنے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی تعلیم اور دیگر اخراجات پر سالانہ چار لاکھ 17 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔وزیر جنگلات میر اکبر خان کی ملکیت باغ میں 175 کنال زرعی و غیر زرعی مشترکہ اراضی ،پانچ کنال کمرشل ،پانچ بھائیوں کے ساتھ مشترکہ اراضی اور دو کنال کا پلاٹ بھی باغ میں ہیں جبکہ چار کنال اراضی راولپنڈی دو کنال کا پلاٹ کشمیر ہائوسنگ سوسائٹی ایک پلاٹ آغوش ہائوسنگ سوسائٹی اسلام آباد اور ایک عدد پلاٹ بحریہ ٹائون اسلام آباد میں ہے وہ دو لینڈ کروزر گاڑیوں کے مالک ہیں اس علاوہ باغ میں ان کا پانچ منزلہ ہوٹل، 12دکانیں،2 مکانات کمرشل،11 عدد مکانات ،پانچ عدد پلاٹ ،2 دکانیں بھی باغ میں ہیں۔ وہ ایک ٹریکٹر ٹرالی،تھریشر اور ایک ایکسوویٹر کے بھی مالک ہیں۔20 تولہ سونا اور 10 تولہ چاندی بھی ان کی ملکیت ہے تین لاکھ روپے اور 80 لاکھ روپے کی انشورنس پالیسی نیشنل بینک اور دس لاکھ روپے ،بیس لاکھ اور بیس لاکھ روپے کی فکس انشورنس کروا رکھی ہے جبکہ 75 لاکھ روپے کے مختلف کاروبار کی انشورنس ہے انہوں نے اپنی ماہانہ آمدن چار لاکھ روپے بتائی ہے نیشنل ٹیکس نمبر 01-06-0100239 ہے۔اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی تعلیم پر سالانہ 150000 روپے خرچ کرتے ہیں۔آزاد کشمیر کابینہ کے اہم رکن وزیر اطلاعات مشتاق مہناس کی ملکیت میں دس دس مرلہ کے دس پلاٹ موضع لوہی بھیر اسلام آباد، میں ہیں تین کنال تین مرلہ کا پلاٹ گائوں گو گینہ کلاں اسلام آباد، تحصیل مری میں نو کنال اراضی، خیابان کشمیر زون فائیو میں دس مرلہ کا پلاٹ اور موضع بنی منہاساں میں تین کنال چھ مرلہ کی مشترکہ اراضی ہے اہلیہ کی ملکیت میں جموں کشمیر ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، ایک عدد مکان بحریہ ٹائون فیز سکس، ایک عد ددس مرلے کا پلاٹ اسلام آباد اور پانچ پانچ مرلے کے دو پلاٹ اسلام آباد میں ہیں۔

ایک دو منزلہ مکان ذاتی اور تین عدد مکانات مشترکہ باغ میں ہیں۔ ان کی ملکیت میں 35 تولے سونا ہے 15 لاکھ روپے کی انشورنس کرا رکھی ہے اسلام آباد کے مسلم کمرشل بینک کے اکائونٹ میں دو لاکھ 17 ہزار 460 روپے اور 1481 امریکی ڈالر کی رقم موجود ہے ۔گاڑی ٹیوٹا2006ماڈل کے مالک ہیں۔ماہانہ آمدن پندرہ لاکھ روپے ہے سال2014-15ء میں اپنے نیشنل ٹیکس نمبر 37405-9984368-1 کے ذریعے چار لاکھ 51 ہزار 254 روپے کا ٹیکس ادا کیا اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کی تعلیم پر سالانہ تین لاکھ بیس ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری محمد یاسین گلشن کے نام دو مختلف جگہوں پر 23 کنال پانچ مرلے، عباسپور میں ایک دکان ایک گھر ہے۔ ان کا ایک گھر زیرتعمیر ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 8 تولے سونا ہے۔ مظفرآباد کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 71 ہزار روپے، عباسپور کے بینک اکاؤنٹ میں 4 سو 74 روپے، جموں کشمیر بینک میں 16 روپے موجود ہیں۔ انہیں بحیثیت ایم ایل اے ایک لاکھ 17 ہزار روپے ملتے ہیں۔ دکان کا کرایہ 5 ہزار روپے ملتا ہے۔ ان کی اہلیہ کی تنخواہ 50 ہزار روپے ہے۔ انتخابی گوشوارے کے مطابق یاسین گلشن نے مکان کی تعمیر کے سلسلے میں 10 لاکھ روپے بینک سے قرضہ لے رکھا ہے۔

ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے اور نہ ہی انہوں نے ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ ان کے 3 بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات 27 لاکھ 36 ہزار روپے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خان بہادر خان کی پھلجڑی میں 9 کنال اراضی اور ایک مکان ہے۔ تراڑ کھل کے ایک اکاؤنٹ میں 41 لاکھ روپے ہیں۔ سردار خان بہادر خان کے انتخابی گوشوارے کے مطابق وہ کوئی ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نہ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے۔ انہوں نے اپنی کوئی ماہانہ آمدنی ظاہر نہیں کی۔ سردار خالد ابراہیم راولا کوٹ میں مشترکہ خاندانی جائیداد 150 کنال اراضی ہے۔ان کی اہلیہ کی مشترکہ خاندانی جائیداد 900 کنال اراضی ہے جبکہ ان کے نام چھ لاکھ مالیت کی ایک گاڑی،چار لاکھ 50 ہزار کے زیورات،اسلام آباد میں ایک اکائونٹ میں چار لاکھ روپے موجود ہیں۔سردار خالدابراہیم کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے ہے۔سردار خالد ابراہیم نے 30 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔اسلام آباد میں زیر تعلیم اپنے بیٹے کے سالانہ دو لاکھ 50 ہزار روپے تعلیمی اخراجات بھی سردار خالد ابراہیم ادا کرتے ہیں۔ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے ممبر اسمبلی محمد صغیر خان کے پاس ایک ٹویوٹا کراؤن گاڑی، F-10 اسلام آباد میں ایک مکان، بنگوئیں میں 13 کنال اراضی جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی راولاکوٹ میں ایک کنال کا پلاٹ ہے۔ ان کے گھر میں 3لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔ ان کے پاس ایک اسلحہ لائسنس بھی ہے۔

ان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 11لاکھ روپے، راولپنڈی کے دوسرے اکاؤنٹ میں 4لاکھ 12 ہزار روپے، تیسرے اکاؤنٹ میں 2لاکھ 40 ہزار روپے، چوتھے اکاؤنٹ میں 99 ہزار روپے اور پانچویں اکاؤنٹ میں تین لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ ان کی ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ آمدنی ہے۔ انہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فاروق احمد طاہر، کے نام 15لاکھ روپے مالیتی مکان ہے۔ ان کے پاس 18لاکھ روپے مالیت کی ایک جیپ، 13 لاکھ روپے مالیت کی ایک کار بھی ہے۔ 45 ہزار روپے کے منافع بخش سرٹیفکیٹس، 37 لاکھ کے بینک اکاؤنٹس، 10 ہزار ڈالرز اور 16 سو 39 پاؤنڈز بھی ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 23 ہزار ہے۔ گذشتہ مالی سال کے دوران انہوں نے ایک لاکھ 17 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔ ان کے 3 بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ایک لاکھ 55 ہزار روپے ہیں۔ڈاکٹر محمد نجیب نقی کے گواشوروں کے مطابق ان کی جائیداد میں تین کنال 14 مرلے کا ایک مکان پلندری، تین کنال سات مرلے کا کمرشل پلاٹ مین بازار پلندری، 12 مرلے زمین پلندری شہر ، دو کنال جنگل کی ملکیت گانمب دھاردرچھ ضلع سندھنوتی ،600 گز کا ایک عدد مکان کیولری گرائونڈ لاہور کینٹ اور پانچ کنال مکان کا نصف حصہ 74 ہارلے سٹریٹ راولپنڈی کینٹ میں موجود ہے ایک پراڈوگاڑی 1992 ماڈل اور کرولالٹس 2011 ماڈل بھی ان کی ملکیت ہے جبکہ پلندری میں ایک عدد سیمنٹ ایجنسی غیر فعال اور پلندری میں ہی ایک عددفان گیس کمپنی ان کے اثاثوں میں شامل ہے۔انہوں نے کیپکو کے تین سو شیئرز خرید رکھے ہیں نیشنل بینک مظفر آباد کے اکائونٹ نمبر 956-5 میں 3300 روپے، یو بی ایل پلندری کے اکائونٹ میں 86000 روپے اور ایم سی بی راولپنڈی سی ایم ایچ برانچ کے اکائونٹ میں 1491143 روپے کی رقم موجود ہے۔انہوں نے اپنی ماہانہ آمدنی دو لاکھ روپے بتائی ہے ان کا نیشنل ٹیکس نمبر 1397651-6 ہے شاہ غلام قادر کی سہالہ میں 105 کنال اراضی،اٹک میں 20 کنال اراضی ،نیلم ویلی میں ڈیڑھ کنال اراضی کے علاوہ بنی گالہ میں 16 مرلہ اور نیلم ویلی میں 15 مرلے کا مکان اورنیلم ویلی میں دو دکانیں بھی ہیں۔الیکشن گوشوارے کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری اور سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کے پاس پچاس تولے سونا،ایک جیپ ٹیوٹا بھی ہے۔

سٹیلائٹ ٹائون میں ایک بینک میں 3 لاکھ 30 ہزار روپے ،مظفر آباد کے ایک اکائونٹ میں ایک لاکھ 17 ہزار اور دوسرے میں 977 روپے ہیں۔شاہ غلام قادر کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے ہے۔انہوں نے الیکشن گوشوارے میں نیشنل ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے تاہم یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں کہ وہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔شاہ غلام قادر اسلام آباد کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم اپنی بیٹی کے اڑھائی لاکھ سالانہ اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔شاہ غلام قادر کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔ وزیر صنعت و ترقی خواتین نورین عارف کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق ان کی ملکیت میں ایک کنال کا پلاٹ میر پور ریونیو آفیسرز کالونی اور راولپنڈی میں ایک پانچ مرلے کا زیر تعمیر مکان ان کی بہو کی ملکیت ہے جبکہ ایک رہائشی مکان، 22 دکانیں ،دویال ایک شیلٹری ،رہائشی مکان ،تین عدد رہائشی شیلٹرز، دو دکانیں مظفر آباد اور گڑھی دوپٹہ میں ہیں چار دکانیں اور ایک فلیٹ شوکت لائن میں بیٹے کے نام پر ہے چالیس کنال زمین پر سچر، چار سو کنال زمین گڑھی دوپٹی ،بیٹے کے نام پر 24 کنال زمین گڑھی دوپٹہ ،خاوند کی مشترکہ جائیداد 300 کنال اور خاوند کے نام الگ سے 24 کنال زمین ہے ایک عدد ٹیوٹا 1995 ماڈل کار ان کے اپنے نام اور بیٹے کے نام ٹیوٹا جیب 1994 ماڈل ہے 30 تولہ سونے کی مالک ہیں مسلم کمرشل بینک مظفر آباد کے اکائونٹ میں 530000 روپے ،نیشنل بینک میں شوہر کے اکائونٹ میں ایک لاکھ تیس ہزار روپے ،شوہر کے نام پر نیشنل سیونگ سکیم کے پچاس لاکھ روپے کے سیونگ سرٹیفکیٹس ،الائیڈ بینک اور مسلم کمرشل بینک کے دیگر اکائونٹس میں بالترتیب 70 ہزار روپے اور ساٹھ ہزار روپے کی رقم موجود ہے۔

انہوں نے اپنی ماہانہ آمدن ظاہر نہیں کی اپنی بیٹی کی تعلیم پر ماہانہ ایک لاکھ روپے خرچ کرتی ہیں۔ وزیر اعظم فاروق حیدر خان کی ہٹیاں بالا میں 29 کنال اراضی جبکہ دونی شادرا میں 6 کنال اراضی ،مظفر آباد شہر میں3 کنال اراضی پر مشتمل گھر موجود ہے۔طارق آباد میں 3 کنال اراضی جبکہ گرجا روڈ راولپنڈی میں بھی دس مرلے کا ایک پلاٹ بھی وزیراعظم کے پاس ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس الیکشن گوشوارے کے مطابق کوئی گاڑی موجود نہیں ہے جبکہ مظفر آباد میں ان کے ایک بینک اکائونٹ میں ایک لاکھ 56 ہزار روپے بھی ہیں۔الیکشن گوشوارے کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی سٹیٹ لائف میں 20 لاکھ کی بیما پالیسی تھی جو اقساط جمع نہ کروانے کے باعث بند ہو چکی ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس 12 بور کی ڈبل بیرل بندوق،7 ایم ایم رائفل،30بور کا ایک پستول،وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنی ماہانہ کوئی آمدنی ظاہر نہیں کی تاہم الیکشن گوشوارے کے مطابق راجہ فاروق حیدر قائد حزب اختلاف کے طور پر تنخواہ کے طور پر ان کی آمدنی تھی۔راجہ فاروق حیدر نے انتخابی گوشوارے میں نیشنل ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے تاہم یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں کہ وہ کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔سید افتخار علی گیلانی کا شاہ اﷲدتہ میں چار کنال کا پلاٹ ہے جو تمام بھائیوں کا مشترکہ ہے جس میں ان کا حصہ 13 مرلہ ہے ایک عدد ٹیوٹا لینڈ کروزر ماڈل 1991 نمبر آئی ڈی ایچ 9990 ان کی ملکیت ہے ان کے اثاثوں میں 20 تولے سونا، میزان بینک کے اکائونٹ میں تیس ہزار روپے اور جیب بینک کے اکائونٹ میں پچاس ہزار روپے کی رقم موجود ہے۔انہوں نے اپنی ماہانہ آمدن 150492 روپے بتائی ہے۔ان کا ٹیکس نمبر 61101-2960252-3 ہے ان کی زیر کفالت تین بچے ہیں جن کی تعلیم پر سالانہ 360000 روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی راجہ عبدالقیوم خان کی 50 کنال وراثتی زمین، مظفرآباد میں ایک مکان، آبائی قصبے اعوانی بھوں میں ایک عدد کچا مکان، رشید آباد میں ایک پختہ مکان، ڈنہ میں ایک عدد پختہ مکان بھی ہے۔ مظفرآباد میں 3 کنال اراضی، محکمہ تعلیم کو فروخت کر چکے ہیں۔ ان کے گھر میں 7تولے سونا بھی ہے۔ ان کے پاس ٹویوٹا لینڈ کروزر ہے۔

مظفرآباد میں کنگ عبداللہ یونیورسٹی کو زمین کی فراہمی کے عوض انہیں 2 کروڑ 14 لاکھ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ مظفرآباد میں ان کے دو اکاؤنٹ ہیں۔ تاہم انہوں نے ان اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ راجہ عبدالقیوم خان کے نام ایک عدد ڈبل بیرل 12 بور بندوق بھی ہے۔ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے تاہم انہوں نے ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے ہے۔ مصطفی بشیر عباسی کا سیٹلائٹ ٹاؤن لنگرپورہ میں 2کنال کا پلاٹ جبکہ گوجرہ میں ایک 9 مرلے کا پلاٹ ہے۔ ان کے گھر میں 10 تولے سونا ہے۔ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 10 ہزار، دوسرے میں ایک لاکھ 33 ہزار روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے تاہم ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ ان کی ایک بیٹی کے سالانہ تعلیمی اخراجات ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہیں۔ چوہدری محمد اسماعیل کے نام میرپور میں ایک کنال پلاٹ ہے۔ گوجرانوالہ میں ایک مکان جبکہ 10 ایکڑ زرعی اراضی ہے۔ ان کے پاس ایک ہنڈا کار ہے۔ ان کے گھر میں 20تولے طلائی زیورات بھی ہیں۔ ان کے اکاؤنٹ میں 10لاکھ روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے اپنے گوشوارے میں ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی محمد اسحاق کا سیالکوٹ میں 2کنال کا مشترکہ گھر اور 14 دکانوں میں حصہ دار ہیں۔ سیالکوٹ میں 8 ایکڑ زرعی اراضی بھی ہے۔ ان کے پاس ایک ٹریکٹر، تھریشر، ٹرالی اور کرولا کار بھی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 20 تولے سونا ہے۔

مظفرآباد کے ایک بینک میں ان کے ایک لاکھ 56 ہزار روپے جبکہ سیالکوٹ کے ایک اکاؤنٹ میں 1000 ڈالر اور 30 ہزار روپے ہیں۔ ان کے پاس ایک مویشی فارم بھی ہے۔ ان کی ماہانہ آمدنی 70 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے اپنا ٹیکس نمبر ظاہر کیا ہے تاہم ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کے تین بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات 55 ہزار روپے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی میاں یاسر رشید کے نام 8 عدد دکانیں، ایک کنال 3مرلے کی زمین، ان کے گھر میں 100 تولے سونا بھی ہے۔ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 3 ہزار روپے، دوسرے میں 20لاکھ روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی 45000 روپے ہے۔ انہوں نے نیشنل ٹیکس نمبر ظاہر کیا ہے اور نہ ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات۔ ان کے 3 بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات 2 لاکھ 38 ہزار روپے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری جاوید اختر کے نام تین پلاٹ، ایک مکان، 25 ایکڑ زرعی زمین ہے۔ ان کے پاس ٹویوٹا کرولا کار بھی ہے۔ ان کے گھر میں 10 تولے سونا بھی ہے۔ ان کی زمین واقع گجرات میں موبی لنک کا ایک ٹاور بھی نصب ہے۔ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 75000 دوسرے میں 3لاکھ اور تیسرے میں 3لاکھ روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 20 ہزار روپے کے قریب ہے۔ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے تاہم ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ وہ اپنی اہلیہ پر سالانہ ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں۔ راجہ محمد صدیق کے نام پونے 2 کروڑ روپے مالیت کا ایک مکان، ایک کنال کا پلاٹ، 50 فیصد شراکتی کاروبار میں حصہ دار ہیں۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 50 تولے سونا ہے۔ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 17 ہزار روپے، دوسرے میں ایک لاکھ 34 ہزار روپے جبکہ ان کے پاس 16 لاکھ روپے نقدی بھی موجود ہے۔ ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے تاہم ادائیگی ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ ان کے 3 بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ساڑھے 3لاکھ کے قریب ہیں جبکہ وہ سالانہ 30 ہزار روپے اپنی اہلیہ کو بھی دیتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی احمر عبدلغفار کا کراچی میں ایک پلاٹ جبکہ اپنے بچوں کے نام پانچ مختلف پلاٹ ہیں۔ ان کے پاس دو ٹویوٹا کاریں ہیں۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 35تولے سونا اور 50 تولے چاندی بھی ہے۔

ان کے پاس بینک بیلنس 25لاکھ روپے ہیں۔ 2لاکھ روپے ماہانہ آمدنی ہے۔ گذشتہ مالی سال کے دوران 23ہزار 531 روپے ٹیکس ادا کیا۔ ان کے 4بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات 8 لاکھ روپے ہیں۔ ممبر اسمبلی دیوان غلام محی الدین کے گھر میں 25 تولے سونا ہے۔ ان کی ماہانہ آمدنی 6لاکھ 80 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران 24 لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی شوکت علی شاہ کا سوہاوہ میں ایک مکان دو دکانیں ہیں۔ سوہاوہ میں 3کنال 10مرلے کی زمین ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیتی 14 تولے زیورات ہیں۔ مظفرآباد کے ایک بینک میں ان کے اکاؤنٹ میں 500 روپے ہیں۔ سید شوکت علی شاہ کے مطابق ان کی ماہانہ آمدنی وہی ہے جو ممبر اسمبلی کی حیثیت سے انہیں تنخواہ ملتی ہے۔ شوکت علی شاہ نے انتخابی گوشوارے میں اپنے ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے تاہم انہوں نے ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کے بیٹے ممبر قانون ساز اسمبلی اسد علیم شاہ کی فتح جنگ میں آٹھ کنال اراضی ہے ان کے پاس دو ٹویوٹا کرولا کاریں ہے۔ راولپنڈی میں ان کے ایک اکاؤنٹ میں 227 روپے، دوسرے میں 12 ہزار 44 روپے، تیسرے میں 2ہزار 632 روپے اور چوتھے میں 6لاکھ 62 ہزار روپے ہیں۔ اسد علیم شاہ کی ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپے ہے۔ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہے اور نہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی حافظ احمد رضا قادری کا راولپنڈی کے امرپورہ علاقے میں ایک مکان ہے۔ خیابان تنویر میں بھی ایک گھر ہے۔ ہجیرہ، تراڑ کھل اور سرسید روڈ راولپنڈی میں بیوی کا وراثتی حصہ بھی ہے۔

ان کے پاس ٹویوٹا کرولا اور سوزوکی مہران دو گاڑیاں ہیں۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 55 تولے سونا ہے۔ ان کے راولپنڈی میں تین اکاؤنٹ ہیں۔ تاہم ان اکاؤنٹس میں موجود رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ احمد رضا قادری کے پاس 2 لاکھ مالیت کا اسلحہ لائسنس بھی ہے۔ ان کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ 10 ہزار روپے ہے۔ احمد رضاقادری نے نیشنل ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے تاہم ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کی ایک بیٹی کے سالانہ تعلیمی اخراجات 50 ہزار روپے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالماجد خان کی مظفرآباد میں ایک کنال اراضی، ایک وراثتی مکان، راولپنڈی میں ایک کنال کا پلاٹ، دو چھوٹی دکانیں، لوئرپلیٹ میں 6 دکانیں، 2 مکانات میں حصہ داراور مدینہ سوسائٹی راولپنڈی میں ایک کنال کا پلاٹ بھی ہے۔ ان کے پاس مظفرآباد کے ایک اکاؤنٹ میں 1000 روپے دوسرے میں ایک لاکھ 60 ہزار روپے ہیں۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 7 تولے سونا بھی ہے۔ ان کے نام 5لاکھ روپے کی بیمہ پالیسی بھی ہے۔ نیلم ویو ہوٹل اینڈ میرج ہال میں بھی حصہ دار ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی 75ہزار روپے ہے۔ انہوں نے انتخابی گوشوارے میں ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے تاہم ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کے دو بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات 5 لاکھ روپے ہیں۔ علماء و مشائخ کی نشست پر منتخب ہونے والے رکن اسمبلی سید محمد علی رضا بخاری کا کورال اسلام آباد میں 20 مرلے کا پلاٹ ہے۔ ان کے پاس ایک عدد لینڈ کروزر گاڑی ہے۔ ان کی اہلیہ کی ملکیت میں 10 تولے سونا ہے۔ علی رضا بخاری رضا ڈویلپر کورال اسلام آباد کے بھی مالک ہیں۔

راولپنڈی میں ایک اکاؤنٹ میں ان کے 70 ہزار روپے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی 32 ہزار روپے ہے۔ علی رضا بخاری نے انتخابی گوشوارے میں نیشنل ٹیکس نمبر کا اندراج کیا ہے۔ تاہم ادا کئے گئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کے تین بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ایک لاکھ 56 ہزار روپے ہیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی جاوید اقبال کا برمنگھم میں اڑھائی لاکھ پاؤنڈ کا ایک گھر، سرگودھا میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ جبکہ 15 ایکڑ زرعی اراضی بھی ہے۔ ان کے پاس ایک ٹویوٹا کار بھی ہے۔ ان کے پاس 10 لاکھ روپے کے طلائی زیورات بھی ہیں۔ جاوید اقبال برمنگھم میں ایک ریسٹورنٹ میں بھی حصہ دار ہیں۔ جاوید اقبال کی ماہانہ آمدنی 2لاکھ 25 ہزار روپے ہے۔ انتخابی گوشوارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ برطانیہ میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں آمدنی محدود ہونے کی وجہ سے وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ جاوید اقبال کی کفالت میں کوئی نہیں ہے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی شازیہ اکبر نے انتخابی گوشوارے میں مشترکہ رزعی زمین ،30 کنال کمرشل زمین اور 9 کنال کا ایک مکان ظاہر کیا ہے۔ان کے پاس ایک کار اور 60 تولے سونا بھی ہے۔مظفر آباد کے ایک بینک اکائونٹ میں ان کے چار لاکھ روپے ،کوٹلی کے ایک اکائونٹ میں ایک لاکھ 34 ہزار روپے جبکہ کوٹلی میں ایک کنال کا پلاٹ اور ایک مکان بھی ہے۔ان کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ 54 ہزار روپے ہے۔

انہوں نے انتخابی گوشوارے میں نیشنل ٹیکس نمبر ظاہر کیا ہے اور نہ ہی ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات ۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی خاتون ممبر اسمبلی نسیمہ خاتون کے نام بنی گالہ میں ایک مکان،چھ تولے سونا اور ان کی ماہانہ آمدن تیس ہزار روپے ہے۔انکے تین بچے اسلام آباد میں زیر تعلیم ہیں جن کے پانچ لاکھ روپے سالانہ تعلیمی اخراجات ہیں۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی ممبر قانون ساز اسمبلی رفعت عزیزکے پاس چار تولے سونا ہے۔ان کی کوئی ماہانہ آمدنی نہیں۔ان کے دو بچوں کے تعلیمی اخراجات تین لاکھ روپے ہیں۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی ممبر قانون ساز اسمبلی سحرش قمر کے نام آرمی ویلفیئر سوسائٹی لاہور میں دس مرلے کامکان دس تولے سونا ہے۔ان کی کوئی ماہانہ آمدن نہیں۔ان کے دو بچوں کے سالانہ تعلیمی اخراجات ایک لاکھ روپے ہیں۔