پاناما کیس عدالتی امتحان ہے، فسانے میں قطر کا ذکر نہیں تھا،اب نہ جانے کہاں سے آگیا: خورشید شاہ

پاناما کیس عدالتی امتحان ہے، فسانے میں قطر کا ذکر نہیں تھا،اب نہ جانے کہاں سے آگیا: خورشید شاہ

اسلام آباد:  اپوزیشن  لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ  پاناما  کیس  عدالت کا امتحان ہے، پانامہ فسانے میں کہیں قطر کا ذکر نہیں تھا اب نہ جانے کہاں سے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا گیا۔


پارلیمینٹ  ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  ان کا کہنا تھا کہ ترک عملے کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ ترکی نے نہیں کیا حکومت نے طیب ارگان کو  کو خوش کرنے کے لئے پابندی لگائی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ  قطری خط پیش کر کے حکومت نے آ بیل مجھے مار کی پالیسی پر عمل کیا۔  ترکی کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں ۔ترک فاؤنڈیشن کے معاملے پر حکومت کو دیکھنا چاہئیے۔حکومت نے طیب کو خوش کرنے کے لئے پابندی لگائی ہو گی۔

خورشید شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایشوز سے بچنے کے لئے پی اے سی کا اجلاس ان کیمرہ رکھا گیا۔ہم نے پارلیمنٹ پر اعتماد کیا پارلیمنٹ ہی سپریم ہے۔ کسی بھی احتساب کے لئے پارلیمنٹ سے احتساب کرانے کا رضا ربانی کا موقف خوش آئند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ باریک بینی سے معاملات کو دیکھ سکتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے قطر سے بھی لیٹر آگیا،جس کا کہیں زکر نہیں تھا،آ بیل مجھے مار والا کام کیا ہے۔ اس کاغذ سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتساب الرحمن قطر منقتل ہو گیا یہ اس کا کارنامہ ہے ۔  کوئی الزام اس وقت لگاتا ہے جب کوئی بات ہوتی ہے۔ پاناما پر عدالت کا امتحان ہے۔ ہم مودی سے تو ملتے ہیں لیکن ترک صدر کا بائیکاٹ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔پانامہ معاملے پر عدلیہ کا بہت بڑا امتحان شروع ہو گیا ہے۔  پاک ترک سکولوں کے ترکش اساتذہ کا پاکستان سے نکالنا نہیں چاہیے تھا۔ سیاست اور تعلیم الگ الگ چیزیں ہیں۔ ترک عملے کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ ترکی نے نہیں کیا یہ حکومت نے خود فیصلہ کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پی ٹی آئ کا بائیکاٹ سمجھ سے بالا تر ہے۔ اب نہ جانے کہاں سے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا گیا۔  ہم نے شریفوں کی جانب سے سعودی عرب اور دوبئی کا ذکر سنا تھا۔