او آئی سی کی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریوں کو جائزقرار دینے اور اذان پر پابندی کی مذمت

او آئی سی کی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریوں کو جائزقرار دینے اور اذان پر پابندی کی مذمت

جدہ :اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریوں کو جائز قراردینے کے اسرائیلی قانونی بل کی مذمت کی ہے ۔ بدھ کو عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق او آئی سی کا کہنا ہے کہ القدس الشریف اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالہ سے اسرائیلی تازہ ترین اقدامات اور قانون سازی کی کو ئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی متعلقہ منظورشدہ قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی روسے کالعدم ہیں۔


او آئی سی نے القدس اور اس کے گرد نواح کی مساجد میں اذان پر عائد پابندی کی بھی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پابندی عبادت کی آزادی اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر جارحیت ہے ۔ او آئی سی نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے گریز کرے جو کہ خطہ میں مذہبی تنازعات ، شدت پسندی اور تشدد کا باعث بن سکتے ہیں ۔

او آئی سی نے عالمی برادری خصوصا سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کرے اور مقدس مقامات پر اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ دریں اثناءفرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان رومین ندال نے کہا ہے کہ فرانس کو اسرائیلی قانونی بل پر شدید تشویش ہے اور اسرائیل کے اس اقدام سے دو ریاستی حل خطرے میں پڑ جائے گا۔