مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کردیا

PML-N accuses Gilgit-Baltistan elections of rigging
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔ دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو اپنے فیصلے کرنےسے روک دیا گیا۔ الیکشن سے 4 ماہ پہلے ہی تمام کاموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ نگران سیٹ اپ پہلے دن سے انتخابات پر اثر انداز ہوتا رہا۔ پوسٹل بیلٹ بارے نہیں بتایا گیا یہ کیسے اور کس کو ایشو ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کے اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کو سست کیا گیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے کے انتخابات سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ یہی وجہ ہے گلگت بلتستان میں غیر منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔ آج گلگت بلتستان میں کوئی حکومت اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ اب آزاد امیدواروں کے ذریعے حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسی حکومتیں جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ ملا کر بنائی جائیں، وہ کامیاب نہیں ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے پی ٹی آئی کے ایسے لوگ کامیاب ہوئے جنہیں وہاں کوئی نہیں جانتا۔ تمام دھاندلی کے باوجود بھی پی ٹی آئی اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ پاکستان کے سیاہ الیکشنز کی تاریخ میں ایک اور الیکشن کا اضافہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی وزرا کی بڑی تعداد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتی رہی۔ امیدواروں کو ہرانے کیلئے سائنٹفک طریقے سے امیدوار کھڑے کئے گئے۔ ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام سے وعدے پورے نہیں کر سکے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا کہ ووٹ خریدنے کی بھی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں۔ پوسٹل بیلٹ کتنے جاری ہوئے اور کیسے ہوئے، اس بارے میں ابھی معلوم نہیں ہے۔ غیر نمائندہ حکومت گلگت بلتستان میں مسلط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان سے متعلق وفاقی حکومت نے کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ گلگت بلتستان کا مستقبل بھی تاریک کر دیا گیا ہے۔