توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی جس کا ثبوت موجود ہے: عمران خان

توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی جس کا ثبوت موجود ہے: عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آبادمیں فروخت کی گئی تھی جس کا ثبوت موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہ کبھی ترقی نہیں کرتا کیونکہ اس سے آزاد قوم بنتی ہے اور ملک ترقی کی طرف جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پرہم پیچھے بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں یہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں، نوازشریف چاہتا ہے ایسے چیف کو تعینات کرے جو اس کے مفادات کا تحفظ کرے، کوئی بھی آرمی چیف عوام کے مفاد کے خلاف نہیں جاتا۔

توشہ خانہ کی گھڑی فروخت کرنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ گھڑی اسلام آبادمیں فروخت کی گئی تھی جس کا ثبوت موجود ہے۔قوم کی حقیقی آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچانے کیلئے ریاستی سطح پر جھوٹ اور بہتان تراشی کی مہم تیار کی گئی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر مطلوب مجرم اور مشہور زمانہ دھوکے باز کو میدان میں اتارا گیا ہے، دھوکے باز کی تراشی گئی بے بنیاد اور من گھڑت کہانی پر جھوٹے پراپیگنڈے کا مینار کھڑا کرنے والے کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے، میزبان، چینل اور عالمی سطح پر مطلوب مجرم کیخلاف پاکستان ہی نہیں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں جو سامان فروخت کیا وہ اسلام آباد میں فروخت کیا، رسیدیں اور تاریخ توشہ خانہ میں موجود ہیں، توشہ خانہ سے متعلق جب گواہی میں جائیں گی کیس ختم ہو جائے گا، کرپشن، منی لانڈرنگ اور ملک کو بدعنوانی کی لعنت کا شکار کرنے والوں کو مسلط کرکے قوم کو ان کی اطاعت پر مجبور کیا جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کا پیغام بھیجا جارہا ہے مگر ہم نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دیں کیونکہ صاف شفاف الیکشن میں تمام بحران کا حل ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے مفاد پر ملکی مفاد کو ترجیح دوں گا، امریکہ کے معاملے پر بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا، امریکہ نے میری حکومت گرائی تھی مگر ملکی مفاد کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں